فواد چوہدری کی ناراضگی کس سے ، وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔۔؟؟

 

 

 

جب سے فواد چوہدری کو وزارت اطلاعات و نشریات سے ہٹایا گیا ہے ان کی جانب سے اپنی ہی حکومت کے کچھ لوگوں اور کچھ وزارتوں کے خلاف مسلسل بیانات سامنے آرہے ہیں۔

 

ایسا کیوں ہے، فواد چوہدری آخر چاہتے کیا ہیں۔۔؟؟

 

وزارت اطلاعات سے علیحدگی کے بعد انھوں نے سب سے پہلے شفقت محمود، یوسف بیگ مرزا، طاہر اے خان، سمیت کئی لوگوں پر تنقید کی اور کہا کہ وزارت اطلاعات میں ان لوگوں کا عمل دخل بہت زیادہ ہے اور وہ چاہنے کے باوجود اپنی وزارت میں اصلاحات نافذ نہیں کرسکے۔

 

لیکن فواد چوہدری کی ان باتوں کا اثر جب کسی نے نہ لیا تو انھوں نے اپنی نئی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کوہی منظرعام پر لانے کی کوششیں شروع کیں، اس کیلئے انھوں نے سلگتے موضوعات کا انتخاب کیا۔

اس سے قبل سوشل میڈیا پر جب ان کی نئی وزارت سے متعلق ہنسی مذاق شروع ہوا اور چوہدری صاحب کی مضحکہ خیز تصاویرشیئر ہونا شروع ہوئیں یہاں تک کہ وزیر اعظم صاحب نے بھی ان کی ایسی مزاحیہ پوسٹ شیئر کیں تو برا ماننے کے بجائے فواد چوہدری نےاعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کیا اور نہ صرف اس کے مزے لیئے بلکہ اس مذاق کو بھی خوب کیش کرایا اور سچ مچ سائنسدان کا بھیس بدل کر اپنی ہی ایک وڈیو بھی بنا ڈالی۔

 

 

اس میدان میں خاطر خواہ کامیابی کے بعد میڈیا میں رہنے کے شوق کو فواد چوہدری نے مزید ابھارنا شروع کیا اوروہ فن بھی جانتے ہیں کہ کس طرح خود کو شہ سرخیوں کی زینت بنائے رکھیں، سو اس کیلئے نظرانتخاب پڑی مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی کارکردگی پر، جب انھوں نے  کمیٹی کو بےکارقراردیتے ہوئے چاند دیکھنے کی ایپلی کیشن اور 5 سال کا قمری کیلنڈر بنانے کا اعلان کرڈالا۔

 

بس پھر کیا تھا ایک نہ ختم ہونے والی بیان بازی کا سلسلہ شروع ہوگیا،  کہیں سے تنقید تو کہیں سے تائید، لیکن ایک امید ضرور پیدا ہوگئی تھی کہ شاید ان کے اس عمل سے اس سال ملک بھر میں ایک ہی عید منائی جائے گی۔

فواد چوہدری کی امیدوں اور کاوشوں پر اس وقت پانی پھر گیا جب 3 جون کو خیبر پختونخواہ حکومت نے اعلان کیا کہ صوبے میں سرکاری سطح پر عید 4 جون کو منائی جائے گی۔

 

اپنی ہی حکومتی پارٹی کی جانب سے اس اعلان پر جہاں پورے ملک میں تحریک انصاف کی حکومت کو نشانہ ہدف بنایا گیا اورعلمائے کرام نے بھی عید منانے کے فیصلے پر تنقید کی وہیں فواد چوہدری کو بھی کھل کر مخالفت کا موقع مل گیا اور انھوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ رویت ہلال کی جھوٹی شہادت دینے والوں کے خلاف مقدمت درج کیئے جانے چاہیئں کیونکہ چاند افق پر موجود ہی نہیں تھا تو کے پی کے میں کیسے نظر آگیا۔۔۔؟؟

 

بات سچ کہی تھی اس لیئے دل کو لگتی بھی ہے لیکن فواد چوہدری کے طرزعمل ان کی باڈی لینگویج  سےصاف لگ رہا ہےکہ وہ تحریک انصاف کی بہت سی پالیسیوں اورفیصلوں سےخوش نہیں ہیں۔

 

ان کی مجبوری یہ ہےکہ وہ اب کسی دوسری پارٹی میں جانہیں سکتے، کیونکہ ساری بڑی پارٹیاں اپوزیشن میں ہیں جن کے خلاف وہ ایسے ایسے بیانات دے چکے ہیں کہ اب شاید انھیں کوئی قبول ہی نہ کرے۔

 

یہ الگ بات ہے کہ سیاست میں سب کچھ چلتا ہے کی پالیسی کے تحت انھیں کوئی پارٹی قبول کرے اور ان کے ہی کاندھوں پر بندوق رکھ کر حکومتی پارٹی اورعمران خان کے خلاف انھیں استعمال کیا جائے۔

 

بیانات کا سلسلہ بدستور جاری ہے کبھی اس پر تنقید تو کبھی اس کو نشانہ

 

چوہدری صاحب ویسے ہیں بہت خوش قسمت جہاں معاملات ٹھنڈے پڑنے لگتے ہیں انھیں پھر کوئی نہ کوئی ایشو مل جاتا ہے ایسا ہی کچھ بی بی سی کی خبر کے ردعمل کی صورت ہوا فورا ہی  وزیرسائنس و ٹیکنالوجی نے ٹویٹر کے ذریعے اپنے تازہ بیان میں وزارت اطلاعات پر تنقید کرتے ہوئے کہ دیا کہ عالمی میڈیا کو جواب دینے کی صلاحیت ہماری وزارت اطلاعات میں کم ہے، اہم معاملات پر پاکستان کے بیانیے کو نظر انداز کرنے پر ہم عالمی میڈیا کو الزام نہیں دے سکتے۔

 

انھوں نے کہا کہ عالمی میڈیا کو سمجھانے کی صلاحیت پیدا کرنے کی کوششوں کا سنگین فقدان رہا، انھوں نے اس کی ذمہ داری ماضی کی حکومتوں پر ڈالتے ہوئے کہا کہ کئی سالوں کی بیڈ گورننس اب ہر ادارے میں نمایاں ہے۔

 

فواد چوہدری کی باتیں اپنی جگہ درست کہی جاسکتی ہیں لیکن وہ اب ایسا سچ کیوں بول رہے ہیں جس کا فائدہ نہ ان کو ہے نہ ان کی پارٹی کو،

ان کیلئے یہ بھی سوال بنتا ہے کہ ۔۔۔۔۔

کیا انھوں نے صحافتی تنظیموں کے مطالبے پر میڈیا مالکان کے واجبات کی ادائیگی کو ملازمین کی تنخواہیں دینے سے مشروط کیا۔۔؟؟

 

کیا چوہدری صاحب میڈیا مالکان کے اثر رسوخ سے بھی پریشان ہوئے جو وزارت اطلاعات و نشریات میں کسی وزیر سے زیادہ عمل دخل رکھتے ہیں۔۔!!

 

سچ وہ ہے جو فواد چوہدری اب بیان کررہے ہیں یا سچ یہ ہے کہ جو جہاں ہوتا ہے اسے وہاں کی خرابیاں اور نقائص اس وقت نظر نہیں آتے۔

 

اچھا ہوتا کہ وہ ماضی کی وزارت چھوڑ کر یہ بتاتے کہ  جس وزارت سائنس و ٹیکنالوجی میں وہ اب ہیں اس کی خرابیاں کہاں کہاں اور کیا ہیں۔۔۔؟؟

 

فواد چوہدری کیلئے سیانے یہی مشورہ دیتے ہیں کہ وہ جہاں ہیں وہیں رہنے میں ہی عافیت جانیں اور اپنا قبلہ درست کرتے رہیں ، یہ اس لیئے نہیں کہ تحریک انصاف بہت اچھی ہے بلکہ یہ اس لیئے کہ دیگر پارٹیاں ان کیلئے اچھی ثابت نہیں ہوسکیں گی ایسا نہ ہوکہ وہ نہ گھر کے رہیں نا۔۔۔۔۔ ؟؟؟

 

یہ بھی حقیقت ہے کہ فواد چوہدری کی رویت ہلال کے حوالے سے کاوشین اچھی کہلائی جاسکتی ہیں لیکن تنقید نگاروں نےان کے انداز تخاطب کو کسی طوراچھا نہیں کہا ، کیا ہی اچھا ہوتا  اگروہ یہی عمل مرکزی رویت ہلال کمیٹی کواعتماد میں لیتے ہوئے دیگرعلمائے کرام کی مشاورت کے ساتھ  انجام دیتے اس سے ان کا پلڑا بھاری ہوجاتا لیکن یہاں ان سے سنگین غلطی ہوگئی اور لگتا ایسا ہی ہے کہ  فیصلوں کو مسلط کرنے کا عمل ان کے ہی گلے پڑنا  شروع ہوجائے گا۔

 

یہ بات عیاں ہے کہ وزرات سائنس و ٹیکنالوجی جدید دنیا میں اہم ترین وزارت کہلاتی ہے جس میں کرنے کیلئے بے شمار کام ہیں، پاکستان میں سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کی ضرورت کافی عرصے سے شدت سے محسوس کی جارہی ہے منسٹری آف انفارمیشن ٹیکنالوجی سے مل کر اس ضمن میں نمایاں کام کیئے جاسکتے ہیں کیونکہ لیکن آج تک کسی وزیر نے اس پر توجہ نہیں دی جبکہ ذرا سی کوشش کروڑوں ڈالرز کی تجارت کا باعث بن سکتی ہے۔

 

اسی طرح دنیا بھر میں سائنسی ایجادات پر بے پناہ توجہ دی جاتی ہے اور اسے حکومتی سرپرستی بھی حاصل ہے تھوڑی سی توجہ اس جانب بھی ہو تو  ہماری نئی نسل کے بہترین دماغ سائنسی دنیا میں انقلاب بپا کرسکتے ہیں۔

 

ملک کےمعاشی و سماجی حلات پر گہری نظر رکھنے والے فواد چوہدری کیلئے یہ بھی تجویز کرتے ہیں کہ وہ ملک بھرمیں پانچویں کلاس سے ڈگری کلاسسز تک پڑھائی جانے والی سائنس کی درسی کتب پربھی نگاہ ڈالیں جواب تک کئی دہائیوں پرانی اورفرسودہ فارمولوں سے مزین ہے جسے پڑھنے والے اور پڑھانے والے اب جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کی دہائی دے رہے ہیں۔

 

عید آچکی اور عید کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کے خلاف احتجاج کا اعلان کررکھا ہے، حزب اختلاف کی توجوحکمت عملی بنی ہویا نہیں، لیکن ایک حکومتی وزیر کی جانب سےمسلسل اپنی ہی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید اپوزیشن کو بہت سا مواد فراہم کررہی ہے۔ چوہدری صاحب کو اب احتیاط کی ضرورت ہے۔

 

فواد چوہدری ویسے تو ایسی شخصیت ہیں کہ انھیں کسی کے مشورے کی ضرورت نہیں لیکن کیا ایسا ممکن نہیں کہ وہ اپنی لائن و لینتھ پر رہتے ہوئےکچھ وہ کردکھائیں جس کی ان جیسے لوگوں سے امید کی جاسکتی ہے، اپنے اختلافی بیانات سے چوہدری صاحب شاید ناداستگی میں اپوزیشن کیلئے حکومت کے خلاف احتجاج کو مؤثر بنانے کی راہیں ہموار کررہے ہیں۔ لیکن کہیں یہ معاملہ نادانستگی سے دانستہ نہ ہوجائے۔

 

 ساری صورتحال کے تناظر میں یہ کہنا ہنوز مشکل ہے کہ چوہدری صاحب کی ناراضگی اصل میں کس سے ہے۔۔؟؟

 

یہ تو چوہدری صاحب بہتر جانتے ہوں گے لیکن کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ فواد چوہدری کو اپنی ہی پارٹی سے اختلافات منظر عام پر لانے کے بجائے، پارٹی چیئرمین سے بیٹھ کر معاملات ڈسکس کرلینے چاہیئں گھر کے بھیدی ہیں ، لنکا ڈھائیں گے تو اپنا ہی نقصان کریں گے، پھرکہیں ایسا نہ ہوجائے کہ "نہ سائنس کی سیاست رہے اورنہ  تنقید کی ٹیکنالوجی ” اوررویت ہلال کا مسئلہ حل کرتے کرتے کہیں ایسا نہ ہوجائے کہ ان کا اپنا

 

"چاند ایسا ڈوبے کے نکالے نہ نکلے”

 

Share This Article

تازه ترین