شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس، پاک بھارت وزرائے اعظم ملاقات کا امکان مسترد۔۔!!

 

 

 

بھارت نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں نریندر مودی اور پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے درمیان ملاقات کے امکان کو مسترد کردیا ہے۔

 

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار کا کہنا ہے کہ کرغیزستان کے دارالحکومت بشکیک میں 13 اور 14 جون کو ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں نریندر مودی اور وزیراعظم عمران خان کی کوئی ملاقات طے نہیں ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ پاکستانی سیکریٹری خارجہ کا دورہ بھارت نجی تھا، پاکستانی سیکریٹری خارجہ کے ساتھ کوئی ملاقات طے نہیں تھی۔

 

خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے مئی میں بھارتی لوک سبھا کے الیکشن میں کامیابی پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو مبارکباد پیش کی تھی، وزیراعظم نے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ جنوبی ایشیا میں امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے مودی کے ساتھ مل کر کام کرنے کا منتظر ہوں۔

 

عمران خان کی مبارکباد کے جواب میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ان سے اظہار تشکر کیا تھا، نریندر مودی نے لکھا کہ ‘شکریہ عمران خان، میں آپ کی نیک خواہشات پر آپ کا تہہ دل سے مشکور ہوں’، نریندر مودی نے مزید لکھا کہ ‘میں نے ہمیشہ اپنے خطے میں امن اور ترقی کو اولین ترجیح دی ہے’۔

 

لیکن خیر سگالی کے کلمات صرف سوشل میڈیا کی سائٹ تک محدود رہے،  نریندر مودی نے اپنی حلف برداری کی تقریب میں وزیر اعظم پاکستان کو دعوت دینے کی زحمت نہیں کی اور نہ ہی ایک اچھے حکمران کی طرح پروسی ممالک سے جذبہ خیرسگالی اور دوستی کی رسم نبھائی۔

 

تنقید نگاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ بھارت کو مذاکرات کی ٹیبل پر معاملات حل کرنے کیلئے کہا ہے، خاص کر عمران خان اس معاملے میں بہت واضح الفاظ میں کہہ چکے ہیں کہ اگر بھارت معاملات کے حل کیلئے ایک قدم بڑھے گا تو ہم دو قدم آگے بڑھائیں گے۔

 

لیکن بھارتی حکومت اور کاص کر انتہا پسند مودی کے دوبارہ برسر اقتدار آنے کے بعد سارے امکانت ختم اب دو ہی امکانات باقی بچے ہیں۔

 

یا تو ” نریندر مودی کے اس دور میں پاک بھارت تنازعات حل ہوجائیں گے یا دونوں ممالک جنگ کے دھانے پر پہنچیں گے”

 

جس طرح رواں سال فروری میں ہوا تھا، اب بیچ کا کوئی راستہ باقی نہیں رہا ہے۔

 

Share This Article

تازه ترین