
اگر پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نگاہ ڈالی جائے تو سیاسی جماعتوں کا صحیح معنوں میں آغاز پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھنے کے بعد ہی ہوا، اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ، جماعت اسلامی اور دیگر پارٹیاں موجود تو تھیں لیکن سیاسی جماعتوں کے قابل ذکر معاملات پیپلز پارٹی دور سے ہی شروع ہوئے۔
پاکستان پیپلز پارٹی:
پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد 30 نومبر 1967 کو لاہور کے پہلے کنونشن میں رکھی گئی جس میں ذوالفقار علی بھٹو کو چیئرمین منتخب کرلیا گیا، جس کے بعد وہ اپنی شہادت 4 1پریل 1979 تک پارٹی کے چیئرمین رہے۔

بھٹو کے بعد ان کی اہلیہ بیگم نصرت اصفہانی بھٹو پارٹی چیئرپرسن کی حیثیت سے 4 اپریل 1979 کو منتخب کرلی گئیں، اور ان کی پارٹی لیڈرشپ 10 جنوری 1984 تک برقرار رہی۔
بیگم نصرت بھٹو کے ہمراہ ہی ان کی بیٹی بے نظیر بھٹو 2 نومبر 1982 کو پارٹی کی شریک چیئرپرسن منتخب کرلی گئیں بعد میں 10 جنوری 1984 کو بےنظیر بھٹو نے پارٹی کی چیئرپرسن شپ کا باقاعدہ عہدہ سنبھال لیا جو ان کے پاس ان کی شہادت 27 دسمبر 2007 تک رہا۔

بےنظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ان کی ایک متنازع وصیت سامنے آئی جس کے تحت ان کے فرزند بلاول زرداری 27 دسمبر 2007 کو پارٹی کے چیئرمین جبکہ بے نظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری شریک چیئرمین بن گئے، اور یہ دونوں عہدے ان کے پاس تاحال موجود ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ:
پاکستان کے قیام میں بنیادی کردار آل انڈیا مسلم لیگ کا تھا جو قیام پاکستان کے بعد پاکستان مسلم لیگ کہلائی ، لیکن اپنے مرکزی قائدین کے بعد اس جماعت میں سب سے زیادہ توڑ پھوڑ ہوئی جو آج تک جاری ہے اور یہ جماعت کئی دھڑوں میں تقسیم ہوگئی۔

تاریخ کے لحاظ سے 8 جون 1962 کو پاکستان مسلم لیگ کی تنظیم نو کی گئی اور اصولی طور پر محترمہ فاطمہ جناح اس کی صدر قرار پائیں۔ لیکن تاریخی اعتبار سے فیلڈ مارشل ایوب خان اس کے خود ساختہ صدر بن گئے، مشرقی پاکستان کے رہنما نوالامین بھی صدارتی عہدے پر رہے لیکن ان کی ایک نہ چلنے دی گئی
جبکہ پیرپگارا ہفتم، عبدالقیوم خان اور محمد خان جونیجو بھی اس کے صدر رہے لیکن اس پارٹی میں تنازعات نے اتنا جنم لیا کہ بعد میں ہر لیڈر کی اپنی ایک ذیلی پارٹی اس کے نام کے اضافے کے ساتھ بن گئی، جس میں مسلم لیگ جونیجو گروپ، مسلم لیگ نواز گروپ، مسلم لیگ ق گروپ، مسلم لیگ، ضیاء الحق گروپ، مسلم لیگ فنکشنل وغیرہ شامل ہیں۔
مسلم لیگ نواز گروپ:
اسلامی جمہوری اتحاد کے نام سے 9 سیاسی جماعتوں کے اتحاد نے 1988 کے عام انتخابات میں حصہ لیا اور اسی سال ایک اور پاکستان مسلم لیگ قائم کی گئی جس میں بظاہر فدا محمد خان کو صدر بنایا گیا تھا یہ وہی فدا محمد خان تھے جو آل انڈیا مسلم لیگ کے سرگرم رہنما رہے، کہا جاتا ہے کہ ان کو شامل کرکے میاں نواز شریف نے دراصل مسلم لیگ کو معتبر کرلیا تھا ورنہ یہ درپردہ مسلم لیگ نواز گروپ ہی تھا جس نے رفتہ رفتہ اسی نام سے پاکستانی سیاست میں اثر جمانا شروع کردیا۔

میاں محمد نواز شریف مسلم لیگ (نواز) کے قائد و صدر کے عہدے پر 1993 سے 1999 تک فائز رہے، پھر اپنے دور جلاوطنی میں انھوں نے اپنی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کو پارٹی کا صدر بنادیا، جو 1999 سے 2001 تک اس عہدے پر رہیں لیکن شاید دنیا دکھانے کو 2001 میں پارٹی کے سینئر رہنما جاوید ہاشمی کو صدر بنادیا گیا جو 2005 تک پارٹی صدر رہے، جس کے بعد یہ عہدہ چوہدری نثار کے پاس 2005 سے 2009 تک رہا،
اس کے بعد 2009 سے 2010 تک ایک سال کیلئے میاں نواز شریف کے چھوٹے بھائی شہباز شریف ، 2010 سے 2011 تک ایک مرتبہ پھر جاوید ہاشمی، 2011 سے 2018 تک میاں نواز شریف، 2018 سے تاحال شہباز شریف اس کے صدر ہیں جبکہ پارٹی چیئرمین کی حیثیت سے سینئر رہنما راجہ ظفرالحق شاید صرف نام کے چیئرمین ہی ہیں۔
اس تمام عرصے میں پارٹی کی قیادت ایک دو مرتبہ اگر شریف فیملی سے باہر بھی گئی تب بھی پارٹی کے تمام فیصلے میاں نواز شریف کے ہی مرہون منت ہوتے تھے، اب شہباز شریف جو ان کے بھائی ہیں ان کے پاس پارٹی کی صدارت تو ہے لیکن فیصلے جیل میں بیٹھے میاں نواز شریف کی جانب سے ہی کیئے جاتے ہیں۔
عوامی نیشنل پارٹی:
پاکستان کے صوبہ سرحد ( موجودہ خیبر پختونخواہ) میں 1986 میں عوامی نیشنل پارٹی کی بنیاد خان عبدالوی خان نے رکھی، جو کہ اصل میں پشتون کی نمائندہ جماعت بن کر سامنے آئی اور اس کا اثر ابتدا میں خیبرپختونخواہ اور شمالی بلوچستان کے کچھ علاقوں میں رہا۔

عوامی نیشنل پارٹی اگر دیکھا جائے تو تقسیم ہند سے قبل خدائی خدمتگار تحریک اور آل انڈیا کانگریس سے ہوتی ہوئی، نیشنل عوامی پارٹی اور نیشنل عوامی پارٹی ولی خان گروپ کا ہی تسلسل تھی۔ جسے باقاعدہ 1986 میں عوامی نیشنل پارٹی کے نام سے بنایا گیا۔
خان عبدالولی خان 1986 سے 1990 تک پارٹی صدر رہے اس کے بعد 1991 سے 1999 تک اجمل خٹک، 1999 سے 2002 تک اسفندیارولی خان، 2002 سے 2003 تک احسان وائیں، اور پھر 2003 سے تاحال پارٹی صدر اسفبدیار ولی خان ہی ہیں۔
یہ صرف تین سیاسی جماعتوں کا احوال ہے جن کی تاریخ دیکھ کراندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ قومی سیاست ہو یا صوبائی سطح کی سیاست ان جماعتوں میں مرکزی عہدے ان کے بانیان کے گھر میں ہی رہے ہیں۔
پاکستان کی موجودہ برسراقتدار پارٹی تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ہیں لیکن اب تک اس قسم کی اطلاعات یا ایسے قرائن نہیں ملتے کہ ان کی پارٹی موروثیت کے تحت ان کے ہی کسی گھر والے کو منتقل ہوگی، اسی طرح پاکستان میں جماعت اسلامی اور متحدہ قومی موومنٹ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ان کی پارٹیوں کے مرکزی عہدے کبھی ان کے اہل خانہ یا خاندان کے دیگر افرادکے پاس نہیں رہے اور نہ ہی کبھی منتقل نہیں کیئے گئے ہیں یہ روایت تاحال برقرار ہے۔
بات ہورہی تھی موروژی سیاست کی مذکورہ تین جماعتوں کے ذکر سے صاف پتہ چلتا ہے کہ جمہوریت کا ڈھنڈورا پیٹنے کے باوجود ان پارٹیوں میں جمہوریت نام کی کوئی چیز سرے سے پائی ہی جاتی اگرچہ ان جماعتوں میں انٹرا پارٹی الیکشن ہوتے ہیں لیکن وہ دیگر عہدوں کیلئے پارٹی چیئرمین شپ یا صدارت کے عہدے کسی غیر کیلئے نہیں ہیں۔

اگر دنیا دکھاوے کو کسی پارٹی نے کوئی اور
چیئرمین یا صدر بنا بھی دیا ہے تو اس کا کردار صرف تصویر کھینچوانے اور الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہونے تک محدود ہے، پالیسیوں اور اہم فیصلوں میں اس کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔
موجودہ صورتحال میں پاکستان میں دو بڑی سیاسی جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی ہیں جو اتفاق سے اپوزیشن میں ہیں ان کے بانی قائدین کے بعد اب ان جماعتوں کی باگ دوڑ ان کے ہی بیٹے بیٹی کے ہاتھوں میں ہے وہی فیصلے کرتے ہیں اور وہی سارا اثر و رسوخ بھی رکھتے ہیں۔

اصولی طور پر توان نوجوان قائدین کے آنے کے بعد ملک و قوم کیلئے امید کی کرن روشن ہوجانی چاہیئے تھی کہ روایتی سیاست سے ہٹ کر یہ دونوں صحت مند سیاست برائے عوام کو فروغ دیں گے لیکن کچھ ہی دن میں یہ واضح ہوچکا ہے کہ قوم ایک بار پھر ویسے ہی سیاسی قائدین کا سامنا کرنے جارہی ہے جیسے ماضی میں ان کے بڑے رہے ہیں۔
ان دونوں نوجوان رہنماؤں کی سب سے بڑی قابلیت یہ ہے کہ ان کے والدین ان پارٹیوں کے قائد رہے ہیں، سیاست کا اصل مفہوم کیا ہے ، عوام کسے کہتے ہیں، مسائل ہیں کیا اور ان کو حل کیسے کیا جائے، ملک و قوم کیسے ترقی کرتے ہیں، جمہوری تقاضے کیا ہیں۔۔۔؟؟ ان سب باتوں سے کسی کو لینا دینا نہیں، اور شاید ان کا کوئی ویثن بھی نہیں ہے بلکہ انکا اصل مقصد حصول اقتدار کی جدوجہد کرنا ہے اوراس مقصد کیلئے کسی بھی دشمن کو گلے لگالینا ان کے لیئے مسئلہ نہیں ۔ ہمیشہ ایک دوسرے سے دست وگریباں رہنے والی ان جماعتوں میں کچھ قدریں مشترک ضرور ہیں۔ مثلا حصول اقتدار کیلئے ہر سطح تک چلے جانا ، عوام کو اپنے پیچھے لگا کر جیئے جیئے کے نعرے لگوانا اور عوام کے ہی کاندھوں پر بیٹھ کر اقتدار کے ایوانوں تک جاکر عوام کو بھول جانا ۔
ہوسکتا ہے الفاظ کچھ سخت ہوگئے ہوں، لیکن کم از کم آج تک کسی نئے یا پرانے سیاستدان کے منہ سے عوامی مسائل کے حل کی بات نہیں نکلی، نعرے اور دعوے تو بہت سنے لیکن عملی اقدامت کہیں کچھ نہیں اور جو نظر آرہا ہے یا دکھایا جاتا ہے اس کی حیثیت ریت کے گھروندوںر اور سراب سے زیادہ کی نہیں ہے۔
کسی سیاسی رہنما نے یہ نہیں کہا کہ حکومت جو بھی ہو ملک و قوم کیلئے اس کا ساتھ دیں گے، عوامی مسائل کے حل کی سنجیدہ کوششیں کی جائیں گی، پارلیمنٹ میں عوامی ایشوز کے علاوہ کوئی بات نہیں کی جائے گی بلکہ صورتحال بالکل برعکس ہے سب کا بس ایک ہی نعرہ ہے جسےہر بار نام بدل کے لیا جاتا ہے۔
گو۔۔۔فلاں گو۔۔۔

قصور ان سیستدانوں کا بھی نہیں ہماری قوم ایک پلیٹ بریانی یا قیمے والے نان کے بدلے زمین آسمان ایک کرنے کو تیار ہوجاتی ہے ، قطاروں میں لگ کر ووٹ دیتی ہے، لیکن انھیں اس سے غرض ہی نہیں کہ اپنے لیڈر سے پوچھیں کہ آپ ملک چلانے کی بات کرتے ہیں آپ کی اہلیت و قابلیت کیا ہے۔۔۔!!
اور جب عوام ایسے سوالات نہیں پوچھتے تو حکومت کسی کے بھی ہاتھ آئے، مسائل اور مہنگائی جتنی بڑھتی جائے، جینا چاہے کتنا بھی دشوار ہوجائے، بنیادی انسانی حقوق ملیں یا نہ ملیں، پھر کسی شہری کو شکوہ کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا، کیونکہ یہ عوام ہی تو ہے جو سیاسی پارٹیوں اور لیڈروں کو منتخب کرتےہیں۔
ہوسکتا ہے کسی سیاسی جماعت کے کارکن کو یہ تحریر پسند نہ آئے اور وہ سے یکطرفہ تحریرکا ٹائٹل دے دیں لیکن ان کی ناپسندیگی اس امر کو بھی ظاہر کرے گی کہ ان میں سوجھ بوجھ ابھی باقی ہے، تو اس عقل شریف کا اگر صحیح سمت استعمال کرلیا جائے تو کیا مضائقہ ہے۔۔!!
ٹیکنالوجی کا دور ہے ہر چیز ہر معلومات ایک فنگر ٹپ پر ہے، کچھ حقائق پر نظر تو ڈالیں، کچھ ماضی تو کنگھالیں، اعدادو شمار کا گورکھ دھندہ اور لیئے گئے بیرونی قرضوں اور اس کے استعمال کا چارٹ تو دیکھیں ہوتا کیا رہا ہے اب تک۔
کچھ زیادہ تفصیل اپنے لیڈران سے نہ بھی پوچھ سکیں، تو کم از کم اتنی ہمت تو دکھا کرپوچھا جاسکتا ہےکہ جب جب آپ کو اقتدار ملا اس ملک اور اس کے شہریوں کی ترقی کیلئے کیا اقدامات کیئے۔۔؟؟ اگر کہیں کچھ کیا ہے تووہ نظر کیوں نہیں آتا۔۔۔؟؟ پاکستان کا فی کس قرضہ 37 ہزار سے بڑھ کر ڈیڑھ لاکھ تک کیسے ہوگیا۔۔۔؟؟
اور اگر یہ سادے سے سوال بھی پوچھنے کی ہمت نہیں تو پھر کسی سے بھی شکوہ کیسا ، شکایت کہاں کی۔۔۔؟؟

اپنی بربادی، اپنی تباہی اور جگ ہنسائی کے اصل ذمہ دار توآپ ہی کہلاؤ گے، پھر ان بے چارے سیاستدانوں کا کیا قصور، آپ استعمال ہونا چاہتے ہو اور وہ آپ کو استعمال کرنا جانتے ہیں،حساب برابر۔
بس یہ خیال رہے کہ ۔۔۔۔۔
"یہ موروثی سیاست ہے ان کے بعد ان کے بیٹے اور اہل خانہ ہی بڑے عہدوں پر رہیں گے یہی لوگ آپ کے مستقبل کا فیصلہ کرتے رہیں گے اسی طرح سبز باغ دکھاتے رہیں گے اگر آپ اپنی تقدیر کے بدلنے کا سوچ رہے ہیں تو یہ آپ کا مسئلہ ہے ان کا نہیں”
اوراگر ایسا ہے توپھر یہ بات مکمل صادق آتی ہے کہ یہ سب "سیاسی جماعتوں کے موروثی معصوم لیڈر ہیں اور آپ سب ہیں ظالم عوام”