وزیراعظم عمران خان سے مشیر خزانہ حفیظ شیخ اور گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کی ملاقات میں آئندہ مالی سال کے لیے پیش کیے جانے والے متوقع بجٹ سے متعلق تجاویز پیش کی گئیں۔
وزیراعظم عمران خان سے چئیر مین ایف بی آر شبر زیدی اور اقتصادی ماہرین نے بھی ملاقات کی، معاشی ٹیم نے وزیراعظم کو آئندہ بجٹ سے متعلق اہم تجاویز پر تفصیلی بریفنگ دی، حکام نے بجٹ میں ٹیکس کے نفاذ اور اہداف سے متعلق وزیراعظم کو آگاہ کیا۔
وزیراعظم نے بجٹ کی تیاری اور ممکنہ حجم سے متعلق معاشی ماہرین سے بھی مشاورت کی اور انہیں غریب پر کم سے کم بوجھ ڈالنے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بجٹ عوام دوست اور معاشی استحکام کے پیش نظر بنایا جائے۔
گورنراسٹیٹ بینک رضا باقر، مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ، اور چئیر مین ایف بی آر شبر زیدی کی مختلف تجاویزمیں سے بیشتر تجاویز کی عمران خان نے منظوری دے دی۔
بجٹ اجلاس میں اپوزیشن کے ممکنہ احتجاج سے نمٹنے کی حکمتِ عملی پر مشاورت

بنی گالہ میں وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت حکومتی ترجمانوں کے اجلاس میں بجٹ اجلاس میں اپوزیشن کے ممکنہ احتجاج سے نمٹنے کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں آئندہ بجٹ کی تیاری اور خدوخال پر بھی مشاورت کی گئی، اس اجلاس میں حکومت کی معاشی ٹیم کے ارکان نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی، اس موقع پر بجٹ کی تیاری سے متعلق حکومتی ترجمانوں کو آگاہ کیا گیا،اوراپوزیشن کی ہنگامہ آرائی اور شور شرابے سے نمٹنے کے لیے حکومتی حکمت عملی بنائی گئی۔
دریں اثنا، وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بجٹ میں پس ماندہ علاقوں کی ترقی اور کم زور طبقات کی معاونت پر توجہ دی جا رہی ہے، وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انضمام شدہ علاقوں کےعوام نے ملک کے لیے بے شمار قربانیاں دیں ہیں، ان علاقوں کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے تاکہ یہ اپنی صلاحیتوں کو برؤے کار لا سکیں۔
سگریٹ اور کاربونیٹڈ ڈرنکس پر بھاری ہیلتھ ٹیکس عائد کرنے کی منظوری

وفاقی حکومت نے عنقریب آنے والے بجٹ میں سگریٹ پر ہیلتھ ٹیکس کے نفاذ کی حتمی منظوری دے دی ہے، اتوار کو وزیر اعظم کے فوکل پرسن برائے انسداد تمباکو نوشی بابرعطا نے اس بات کی تصدیق کردی ہے ۔
ذرائع کے مطابق بیس سگریٹ والے پیکٹ پر 10 روپے ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ کاربونیٹد ڈرنکس پر بھی ٹیکس عائد کرنے کی منظوری دے دی گئی ،250 ملی لیٹر کی کاربونیٹڈ ڈرنک کی ایک بوتل پر ایک روپیہ ہیلتھ ٹیکس عائد کیا جائے گا۔
بابر عطا کا کہنا ہے کہ بجٹ میں ہیلتھ ٹیکس کا باضابطہ اعلان ہو گا ،حاصل ہو نے والا ٹیکس صحت کارڈ کےذریعےغریبوں پرخرچ ہو گا، بابرعطا کےمطابق تاریخ میں پہلی بار تمباکو نوشی کی حوصلہ شکنی کے لئے ٹیکس لگانے جارہے ہیں ، اس ٹیکس سے 40 سے 50 ارب کا ریونیوحاصل ہو گا ۔
بابرعطا نےمزید کہاکہ تاریخ میں پہلےباراس قدرجرات مندانہ فیصلہ کیا گیا ،موت کے سوداگروں کی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے۔
یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل حکومت نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ اسلام آباد میں بڑی عمارات میں سگریٹ نوشی کو ممنوع کیا جائے اور اس قانون کواسلام آباد کی یونیورسٹی اور کالجز میں بھی لاگو کروائیں گے۔
پاکستان میں اموات کی سب سےبڑی وجہ تمباکو نوشی ہے، ایک لاکھ60 ہزار لوگ تمباکو کے استعمال کے باعث لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔
دوسری جانب حکومتی اعلان کے بعد بجٹ سے پہلے ہی ملک بھر میں سگریٹ کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا ہے اور فی پیکٹ 10 روپے زائد وصول کیئے جارہے ہیں، بجٹ سے قبل اس اضافے کا تمام تر فائدہ سگریٹ ساز کمپنیوں اور ڈسٹری بیوٹرز کی جیب میں جائے گا جو حکومت کیلئے بڑا نقسان ہے۔