پاکستان کی سیاسی تاریخ پر اگر نظر ڈالی جائے تو سانحہ مشرقی پاکستان سے پہلے اور بعد کے حالات میں واضح تقسیم نظر آتی ہے، سقوط ڈھاکہ سے قبل سیاسی تاریخ کچھ الگ تھی جو بنگلہ دیش بننے کے بعد بالکل جدا ہوگئی اور مجموعی طور پر دو سیاسی پارٹیوں کی اجارہ داری قائم ہوگئی۔
ان جماعتوں میں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی سرفہرست ہیں، لیکن کسے پتہ تھا کہ 22 سال قبل وجود میں آنے والے ایک سیاسی جماعت 2018 میں ملک کا اقتدار حاصل کرلے گی۔
تحریک انصاف اور عمران خان کے بارے میں یہی کہا جاتا رہا کہ انھیں کبھی اقتدار نہیں مل سکتا لیکن قسمت نے پلٹا کھایا اور 2018 کے عام انتخابات میں تحریک انصاف کو ملک بھر سے ایسی کامیابی ملی کہ وہ مشکل سے ہی صحیح لیکن حکومت بنانے میں کامیاب ہو ہی گئی۔
تحریک انصاف کی اس کامیابی میں اس کا اپنا کردار شاید اتنا نہ ہو جتنا پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی کوتاہیاں شامل تھیں جنھیں ایک سے زائد بار اقتدار ملا لیکن وہ عوام کو حقیقی معنوں میں ڈلیور کرنے میں ناکام رہے۔
شاید یہ بدقسمتی تھی کہ تحریک انصاف حکومت سنبھالنے کے بعد سے ہی مشکلات کا شکار رہی اور اسے سب سے بڑا چیلنج ملک کی انتہائی تباہ حال معیشت کی بحالی کا درپیش رہا پھر قوم سے کیئے گئے اپنے وعدوں کی تکمیل ، ملک کو کرپشن سے پاک کرنے اور بدعنوان سیاستدانوں کی سرکوبی بھی تحریک انصاف کیلئے بڑا چینلج بنا ہوا ہے۔
حکومت سازی کے ابتدائی 10 ماہ میں تحریک انصاف کو بے پناہ تنقید کا سامنا رہا ہے جس میں ملک کی معاشی بدحالی بھی اس کی بدقسمتی میں شمار کی جاتی ہے۔
لیکن شاید اب قسمت تحریک انصاف پر مہربان نظر آرہی ہے، ایک طرٖف بجٹ پیش کرنے کا معرکہ اسے سر کرنا ہے تو دوسری جانب طویل عرصے سے زیر التوا مقدمات میں اہم گرفتاریاں اس کی قسمت کو بدلنے میں ممکنہ طور پر اپنا کردار ادا کرتی نظر آرہی ہیں ۔ لیکن اگر اسے منطقی انجام تک تیزی سے پہنچایا جائے تب ہی اس کے ثمرات مل سکتے ہیں۔
زیادہ تفصیل کی شاید ضرورت پیش نہ آئے، لیکن اتنا ضرور ہے کہ موجودہ صورتحال میں تحریک انصاف کا اچانک پلڑا بھاری ہوچکا ہے اور اسے جھکائے رکھنے کیلئے عمران خان کو قوم کی نقسیات سمجھنا ہوگی جو سارے معاملات، سارے مسائل کو یکسر فراموش کردیتی ہے اگر اسے کوئی ایک اچھا اقدام نظر آجائے۔
یہ ایسا ہی ہے جیسے شدید حبس و گرمی میں کسی کو اچانک ٹھنڈی ہوا کا جھونکا مل جائے تو وہ گرمی کی شدت کو فوری بھلا کر اس ہوا کی لطافت و ٹھنڈک کا مزہ لینا شروع کردیتا ہے۔
شاید موجودہ صورتحال عوام کیلئے ہوا کا ٹھنڈا جھونکا ثابت ہوں لیکن ضروری یہ بھی ہے کہ اس مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت کو کچھ فوری اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ یہ لطیف احساس برقرار رہے، وہ اقدامات کرپشن کے خلاف اقدامات اور بدعنوان عنصر کی سرکوبی کی صورت میں بھی ہوسکتے ہیں اور عوام کیلئے کچھ بنیادی سہولیات کی تیزترین فراہمی اس احساس کو تقویت بھی فراہم کرسکتی ہے۔
اب وقت آگیا ہے کہ ” امید” اور "تبدیلی” کے انتخابی نعرے کو عملی جامہ پہنایا جائے، کیونکہ اب ذرا بھی تاخیر کی تو یہ ” تبدیلی” کسی اور صورت میں بھی رونما ہوسکتی ہے۔ اب اس بات کی شدت سے ضرورت ہے کہ جو ہورہا ہے اسے منطقی انجام تک پہنچایا جائے، جن رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئی ہیں ان کی تفتیش اور ثبوت کی فراہمی کے معاملات کو سنجیدگی سے دیکھا جائے ورنہ اگر یہ گرفتاریاں عدم ثبوت کی بنا پر بے کار ثابت ہوئیں تو تحریک انصاف حکومت کے مستقبل پر سوالیہ نشانات لگ جائیں گے۔