کراؤن پراسیکیوشن سروس کا کہنا ہے کہ فرد جرم عائد کرنے کے لیے الطاف حسین کے خلاف شواہد ناکافی ہیں، اس موقع پر ان پر فرد جرم عائد نہیں کی جا سکتی اس لیئے انھیں ضمانت پر رہا کردیا گیا ہے تاہم ان کے خلاف تحقیقات جاری رہے گی۔
اس سے قبل لندن پولیس نے بانی ایم کیوایم کو مزید 12 گھنٹے حراست میں رکھنے کی درخواست دے دی ہے، درخواست میں کہا گیا تھا کہ الطاف حسین کی 24 گھنٹے کے لیے حراست کا وقت پورا ہونے کے بعد انہیں مزید حراست میں رکھنے کی اجازت دی جائے، درخواست ساؤتھ ورک پولیس اسٹیشن کے سپرنٹنڈنٹ نے دی، تاہم درخواست منظور نہیں کی گئی اور بانی ایم کیوایم کو ضمانت پر رہائی مل گئی۔
اسکاٹ لینڈ یارڈ نے گزشتہ روز بانی ایم کیو ایم کے گھر پر چھاپہ مار کر تشدد پر اکسانے والی تقاریر کے الزام سیریئس کرائم ایکٹ 2007 کے سیکشن 44 کے تحت الطاف حسین کو گرفتار کیا تھا جنہیں بعدازاں مقامی پولیس منتقل کر دیا گیا تھا۔
اسکاٹ لینڈ یارڈ نے بانی ایم کیو ایم سے گزشتہ رات برطانوی وقت کے مطابق رات 10 بجے سے 12 بجے تک تفتیش کی اور ان سے مختلف سوالات کئے تاہم الطاف حسین نے لندن پولیس کے سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا۔
بانی ایم کیو ایم نے پولیس کو صرف اپنے نام، تاریخ پیدائش اور گھر کے پتے کی تصدیق کی جب کہ دورانِ تفتیش الطاف حسین کے وکلاء بھی ان کے ساتھ تھے۔
اس کے علاوہ پولیس نےبانی ایم کیوایم کےگھراورایم کیو ایم کے انٹرنیشنل سیکریٹریٹ کی تلاشی مکمل کر لی ہے جہاں سے الطاف حسین کی تقاریر سے متعلق مواد قبضے میں لیا گیا ہے۔