جاپانی وزیراعظم شینزو آبے اپنے دو روزہ دورے پر تہران پہنچ گئے ہیں، دورے کا مقصد ایران اور امریکا کے مابین جاری کشیدگی میں کمی لانا ہے، شنزو آبے کے ایران ایئرپورٹ پہنچے پر حسن روحانی نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جاپانی وزیراعظم ایران میں ملکی صدر حسن روحانی سے خصوصی ملاقات کریں گے، دریں اثنا دیگر حکومتی عہدیداروں سے ملیں گے۔
جاپانی وزیراعظم اپنے خصوصی دورے پر ایران پہنچے ہیں، امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے شنزو آبے ثالثی کی پیش کش کرسکتے ہیں۔
شنزو آبے جاپان کے ایسے پہلے وزیراعظم ہیں، جو گزشتہ اکتالیس برسوں کے دوران اس ملک کا دورہ کر رہے ہیں۔ وہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سے بھی ملاقات کریں گے۔
خیال رہے کہ جاپان امریکی پابندیوں سے پہلے تک ایرانی تیل کا ایک اہم خریدار رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ تہران اور واشنگٹن کے مابین ثالث کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔
جاپانی وزیراعظم کے ایران پہنچے پر عوام کا ایک طبقہ سخت ناراض ہے، وہ چاہتے ہیں کہ امریکا سے مذاکرات کسی صورت نہیں ہونے چاہیے نہ ہی جاپانی وزیراعظم کی ثالثی قبول ہوگی۔ تاہم ایرانی حکومت اپنی خودمختاری اور اصولوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کرتے ہوئے خطے میں امن کیلئے کسی سے بھی مذاکرات کیلئے تیار ہے، جاپاانی وزیراعظم کے دورے سے امید ہے کہ ان کی ثالثی سے ایران امریکہ کشیدگی کسی حد تک ختم یا کم ہوسکے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی ہٹ دھرمی برقرار، ایران کی حمایت پر سابقہ امریکی انتظامیہ پر برس پڑے

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کی سابق حکومتوں نے ایران کو مضبوط کیا اور اُسے اربوں ڈالر فراہم کیے، ایران کے ساتھ بحران ہمارے کنٹرول میں ہے۔
آئیوا میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا کی سابق انتظامیہ نے ایران کو 150 ارب ڈالر فراہم کیے، اس کے علاوہ اُسے طیاروں کے ذریعے کروڑوں ڈالر نقدی کی صورت میں بھی فراہم کیے گئے۔
اُن کا کہنا تھا کہ سابق حکومتوں نے ایران کے حوالے سے نرم پالیسی اختیار کی جبکہ ہمیں اُن سب کے مقابلے میں بڑی کامیابی اور معاہدہ ملا اس لیے آج کا بحران ہمارے ہی کنٹرول میں ہے۔
سابق حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’’ایران کے ساتھ نرمی کا رویہ رکھنے اور اُسے اربوں ڈالر فراہم کرنے کا امریکا کو کوئی فائدہ نہیں ہوا کیونکہ آج بھی وہاں کے لوگ امریکا مردہ باد کے نعرے لگاتے ہیں۔