پاکستان کو کیا لوٹ کا مال سمجھ رکھا ہے۔؟ اسلام آباد ہائی کورٹ  

 

 

جعلی اکاؤنٹس کیس میں نیب راولپنڈی نےایک اورکارروائی میں سندھ حکومت کےاعلیٰ افسر سجادعباسی کوگرفتارکرلیا ہے۔

 

اسلام آباد ہائی کورٹ میں جعلی اکاؤنٹس کیس کی سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے کہاکہ پاکستان کو کیا لوٹ کا مال سمجھ رکھا ہے جوآئے اور کھا کے چلتا بنے؟ اور نیب سے استفسار کیا کہ اس”کیس میں وزیر اعلیٰ سندھ کو ملزم کیوں نہیں بنایا گیا”؟ ۔جسٹس عامر فاروق نےکہاکہ سمری پرپانچ لوگوں کے دستخط تھےملزم صرف ایک کو کیوں بنایا ؟

 

ملزم ایگزیکٹو ڈائریکٹر لینڈ کراچی ہے، اس پراربوں روپے کےفلاحی پلاٹس کی غیر قانونی الاٹمنٹ کا الزام ہے ۔

 

 

نیب ذرائع کے مطابق ملزم نےباغ ابن قاسم کی اراضی گلیکسی کنسٹرکشن کے نام غیرقانونی منتقل کی، آصف زرداری کے دوست ڈاکٹر ڈنشا کمپنی میں 50 فیصد شیئر ہولڈر ہیں ، ریونیو ڈیپارٹمنٹ افسران کی مدد سے باغ ابن قاسم میں قیمتی اراضی الاٹ کی گئی، گلیکسی کنسٹرکشن کے ذریعے 2769 اسکوائرفٹ زمین غیر قانونی الاٹ کی۔

 

ذرائع کا کہنا ہے اراضی27 جولائی2008 کو الاٹ کرائی گئی، کے ڈی اے افسروں نے بھی غیرقانونی الاٹمنٹ میں ساتھ دیا، باغ ابن قاسم میں 10811 اسکوائر فٹ کمیٹی میٹنگ کے ذریعے الاٹ کی گئی ، پلاٹ نمبر 5اور 6 کا ایریا 9436سے بڑھا کر 17336 اسکوائر فٹ کیا۔

 

خیال رہے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق صدر آصف زرداری اور فریال تالپور کی درخواست ضمانت مسترد کردی تھی اور گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد نیب ٹیم نے سابق صدر آصف زرداری کو بلاول ہاؤس سے گرفتار کرلیا تھا۔ جبکہ فریال تالپور کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے گئے ہیں۔

 

 

 

Share This Article

تازه ترین