خلیج عمان میں دو تیل بردار بحری جہازوں پر حملہ ہوا جس کے بعد ایک بحری جہاز میں آگ لگ گئی۔
غیرملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق 2 بحری جہاز متحدہ عرب امارات سے تیل بھروانے کے بعد سنگاپور کی طرف جا رہے تھے کہ اس دوران خلیج عمان میں دونوں تیل بردار بحری جہازوں پر حملہ ہوگیا جس کے بعد ایک جہاز میں آگ لگ گئی تاہم دونوں بحری جہازوں سے عملے کو باحفاظت نکال لیا گیا۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اونتونیو گوٹیریس نے جمعرات کو ہونے والے حملوں کی مذمت کی ہے۔ انھوں نے سکیورٹی کونسل کو بتایا کہ دنیا خلیج میں بڑے تصادم کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

یورپی یونین نے حد درجے تک تحمل سے کام لینے کو کہا ہے جب کہ روس نے کہا ہے کہ کسی کو بھی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچنا چاہیے یا پھر اس واقعے کو ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
جمعرات کو ہی اس معاملے پر سکیورٹی کونسل کے بند کمرہ اجلاس میں بھی بات چیت ہونا متوقع ہے۔
ٹینکر ایسوسی ایشن، انٹر ٹینکو کے چیئرمین پاؤلو ڈی امیکو نے کہا ہے کہ ٹینکروں پر حملہ دیگر عملوں کے لیے بھی خطر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ پانی غیر محفوظ ہے تو پوری مغربی دنیا کو تیل کی فراہمی خطرے میں ہو سکتی ہے۔
