نیویارک سے تعلق رکھنے والی 43 سالہ خاتون جوائے کے ہاں 15 پونڈ وزنی تقریاب ساڑے 7 کلو وزنی بچے کی پیدائش ہوئی ہے، ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ میڈیکل کی تاریخ میں 15 پاؤنڈ کے بچے کی پیدائش ریکارڈ ہے کیونکہ اس سے قبل 2016 میں اسی خاتون نے ہی 11 پاؤنڈ کے سب سے وزنی بچے کو جنم دیا تھا، ماں اور بچہ دونوں خیریت سے اور صحت مند ہیں۔

خاتون کے مطابق انہیں زچگی کے دوران بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا البتہ باقاعدگی سے معائنہ اور ورزش کی وجہ سے زچگی کے دوران کوئی مشکل پیش نہیں آئی اور بچے کی پیدائش اسی وجہ سے آپریشن کے بجائے نارمل ڈلیوری سے ہوئی۔
ماں کا کہنا ہے کہ انہوں نے 9 ماہ جتنی تکلیف میں گزارے انہیں ہرگز اس بات کا گمان نہیں تھا کہ پیدا ہونے والے بچے کا وزن اتنا ہوگا، خاتون کہتی ہیں کہ میرے لیے بیٹے کی پیدائش زیادہ اہم تھی اس لیے 15 پاؤنڈ کے بچے کی پیدائش سے زیادہ اُس کے صحت مند ہونے کی خوشی ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے الٹرساؤنڈ کے بعد اندازہ لگا لیا تھا کہ بچہ غیر معمولی وزن کا ہوگا اس لیے مریضہ کو روزانہ چہل قدمی کا مشورہ دیا گیا تاکہ نارمل ڈلیوری سے پیدائش کو ممکن بنایا جاسکے۔
جہاں خاتون کو اپنے ماں بننے کی خوشی ہے وہیں اُن کی ڈاکٹر اس بات پر پُرمسرت ہیں کہ اُن کے مشورے اور خواہش کے مطابق بچے کی پیدائش بغیر آپریشن کے ممکن ہوئی۔ والد کا کہنا تھا کہ جب ڈاکٹرز نے انہیں بچے کا وزن اور یہ بتایا کہ وہ بالکل صحت مند ہے تو خوشی کی وجہ سے اُن کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
جوئے بکلے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر اپنی زچگی کے حوالے سے آگاہ کرتی رہتی تھیں، رپورٹ کے مطابق بچے کی پیدائش 12 مارچ کو ہوئی تھی لیکن اسے 3 ماہ تک راز میں رکھا گیا تاکہ اس کی صحت کے حوالے سے کوئی مسائل جنم نہ لیں اور تاحال ماں اور بچہ دونوں صحت مند زندگی بسر کررہے ہیں۔
خاتون نے شادی کے بعد پانچ سالوں تک انتظار کیا اور جب کوئی اثرات نظر نہ آئے تو انہوں نے ایک بچی کو گود لیا تھا، لیکن 2016 میں وہ پہلی بار حاملہ ہوئیں اور انہوں نے 11 پاؤنڈ کے بچے کو جنم دیا۔
قبل ازیں طب کی دنیا میں 7.5 سے 10 پاؤنڈ کے بچے کی پیدائش کو وزنی ترین قرار دیا گیا تھا جو صحت مند نہیں تھے اور کچھ دنوں میں انتقال کرگئے تھے تاہم خاتون نے 2016 میں یہ ریکارڈ اپنے نام کیا اور 2019 میں انہوں نے اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا۔

جبکہ امریکی ریاست ٹیکساس کے ایک اسپتال میں 12 دسمبر 2018 کو جینیفر نامی خاتون نے ایک بچے کو جنم دیا تھا جس کا وزن 14 پونڈ بتایا جاتا ہے، بچے کا نام علی رکھا گیا، آپریشن کے ذریعے پیدا ہونے والے اس بچے کو انتہائی نگہداشت یونٹ میں رکھا گیا تھا کیونکہ اس کے پلیٹ لیٹس کی تعداد کم تھی جبکہ خون میں بلڈ شوگر بھی پایا گیا تھا تاہم بعد میں اس خاندان کے بارے میں کوئی اطلاعات نہیں آئیں کہ بچے کی صحت کیسی ہے اور وہ کہاں ہیں۔
امریکہ میں سیب کے وزن کے برابر بچی کی پیدائش
امریکہ میں جہاں سب سے وزنی بچے کی پیدائش کا ریکارڈ بنا وہیں دنیا کی سب سے چھوٹی بچی کی پیدائش بھی دسمبر 2018 میں ہوئی جس کا وزن 8 اعشاریہ 6 اونس یعنی ایک سیب کے مساوی تھا، سیبی نامی اس بچی کو پانچ ماہ تک اسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں رکھنے کے بعد ڈسچارج کر دیا گیا

ریاست کیلی فورنیا کے ایک اسپتال نے مئی 2019 میں دنیا کی سب سے چھوٹی، کم وزن اور بچ جانے والی بچی کی پیدائش کا اعلان کیا ہے، جس کا وزن صرف 245 گرام (8.6) اونس تھا، اسپتال انتظامیہ کے مطابق بچی کی پیدائش ریاست کیلی فورنیا کے شہر سان ڈیاگو کے شارپ میری برچ اسپتال میں ہوئی اور اسپتال سٹاف نے اس کا نام سیبی رکھا، سیبی کی پیدائش کے وقت ان کی والدہ 23 ہفتے اور تین دن کی حاملہ تھیں۔
ڈاکٹروں کی جانب سے سیبی کی پیدائش کے وقت ان کے والد کو بتایا گیا تھا کہ ان کی بچی صرف ایک گھنٹہ ہی زندہ رہ سکے گی،اسپتال کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں بچی کی والدہ کا کہنا تھا کہ یہ ایک گھنٹہ کئی گھنٹوں میں تبدیل ہو گیا اور پھر ایک دن اور پھر ایک ہفتہ ہو گیا۔
ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ سیبی کی پیدائش آپریشن کے ذریعے ہوئی اور حمل کی سخت پیچیدگیوں نے ان کی والدہ کی جان کو بھی خطرے میں ڈال دیا تھا،سیبی کو پانچ ماہ تک ہسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں رکھنے کے بعد مئی میں ڈسچارج کر دیا گیا اس وقت ان کا وزن پانچ پاؤنڈ تھا۔