ایران پر بلاجواز دباؤ نہ بڑھایا جائے، چین کا امریکہ کو انتباہ  

 

 

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ یی نے منگل کے روز امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر پریشر بڑھانے سے مشرق وسطی میں ایک نیا پنڈورا بکس کھلنے کا خطرہ ہے۔

 

امریکہ نے ایران پر معاشی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، اور حال ہی میں ایران پر الزام عائد کیا کہ اس نے خلیج فارس میں آئل ٹینکروں کو نقصان پہنچایا ہے جبکہ ایران ان الزامات کی سختی سےتردید کرتا ہے۔

 

ایران کے صدر حسن روحانی نے سرکاری ٹی وی پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک کسی کے خلاف جنگ کا ارادہ نہیں رکھتا ۔ انھوں نے کہا کہ عالمی برادری دیکھ سکتی ہے کہ امریکہ کا رویہ کیا اور ایران کا رویہ کیا ہے۔

 

خلیج عمان میں جمعرات کو دو تیل بردار ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں مزید ایک ہزار اضافی فوجی بھیج رہا ہے۔

 

امریکہ کے قائم مقام وزیرِ دفاع پیٹرک شناہن کے مطابق اِن فوجی دستوں کی تعیناتی ایرانی فوج کے ‘جارحانہ رویے’ کے ردِعمل میں کی گئی ہے، امریکی بحریہ نے کچھ تصاویر بھی جاری کی ہیں، جن سے اُن کے مطابق ایران کے ان حملوں میں ملوث ہونے کا تعلق ثابت ہوتا ہے۔

 

 

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے حالیہ حملوں نے ایرانی افواج اور اس کے گماشتوں کے جارحانہ رویوں کے بارے میں ہماری قابلِ اعتماد انٹیلیجنس معلومات کو درست ثابت کیا ہے اور یہ رویے خطے میں امریکی فوج اور امریکی مفادات کے لیے خطرہ ہیں۔

 

انھوں نے کہا کہ امریکی فوج اس صورتحال کی نگرانی کرتی رہے گی، اور فوجیوں کی تعداد کو ضرورت کے مطابق کم یا زیادہ کیا جا سکتا ہے، امریکی وزیرِ دفاع نے اس بارے میں کوئی تفصیلات نہیں دیں کہ یہ اضافی فوجی دستے کہاں تعینات کیے جائیں گے۔

 

مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کا یہ اعلان صدر ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ ماہ علاقے میں 1500 فوجیوں کی تعیناتی کے حکم کے علاوہ ہے۔

 

دوسری جانب پیر کو ایران نے اعلان کیا تھا کہ اگر یورپی ممالک نے اسے امریکی اقتصادی پابندیوں سے بچانے کے لیے کوئی عملی اقدام نہ کیا تو وہ 27 جون کو افزودہ یورینیم کے اپنے ذخیرے سے متعلق معاہدے کی خلاف ورزی کرے گا۔

 

اس صورتحال میں چین کی جانب سے امریکہ کو انتباہ، خطے میں ایران امریکہ بڑھتی کشیدگی کم کرنے میں کتنی مدد کرسکتا ہے اس بارے میں عالمی ماہرین کاموش ہیں تاہم امن پسند تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ روس، چین، جاپان سمیت کچھ یورپی ممالک امریکہ کے جارہانہ طرز عمل کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھ رہے۔

 

ان ممالک کا خیال ہے کہ معاملات جو بھی ہوں ان کا حل صرف مذاکرات ہے، امریکہ نے افغانستان، عراق، ویتنام اور پھر شام سے سبق نہیں سیکھا اور وہ مزید ایک ایسی جنگ کی تیاری کررہا ہے جس کا نتیجہ سوائے تباہی و بربادی کے کچھ نہیں ہوگا۔

 

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر بڑھتا دباؤ، بین الاقوامی امن کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے ایسے میں ضرورت ہے کہ دنیا کو ایک عالمی جنگ سے بچانے کیلئے دیگر ممالک بھی فوری اور مؤثر کردار ادا کریں۔

 

 

 

Share This Article

تازه ترین