انسانی جان کی قیمت کیا، پبلک سیفٹی کس بلا کا نام ہے کوئی نہیں جانتا۔۔۔!!

 

 

جھولے گریں، لوگ مریں یا پھنسیں، تفریحی مقامات پر فیملیز کے ساتھ بدتمیزیاں ہوں انھیں ہراساں کیا جائے یا جعلی اور ملاوٹ شدہ کھانے پینے کی اشیاء سرعام فروخت کرکے انسانی جان و صحت سے کھیلا جائے، کسی کو کوئی مطلب نہیں۔

 

 

پبلک سیفٹی کس بلا کا نام ہے، یہ ہر پبلک وتفریحی مقام پر کیوں ضروری ہے، اس کیلئے کیا اقدامات کرنے چاہیئں ان عوامل کا کسی کو پتہ ہی نہیں اور جو ذمہ دار ادارے ہیں وہ آنکھیں موندے پڑے ہیں۔

 

ایک افسوسناک واقعے کی تفصیل سے قبل ایک سبق آموز واقعہ قارئین کی نذر ہے جسے پڑھ کر آپ کو یقینا حیرت ہوگی کہ کیا کہیں انسانوں کا ان کے حقوق کا اتنا بھی خیال رکھا جاسکتا ہے۔

 

یہ سال 2000 کی بات ہے میں ان دنوں سنگاپور میں ایک اسائنمنٹ کے سلسلے میں کچھ دن کیلئے مقیم تھا، ایک دن شام کو مارکیٹ سے گزرتے ہوئے ایک بڑا اسٹور نظر آیا، ہلکی بھوک بھی لگی تھی سوچا کچھ بسکٹس اور کولڈ ڈرنک لے کر فی الحال گزارا کرتا ہوں رات کے کھانے میں تو ابھی دو ، تین گھنٹے باقی ہیں۔

 

یہی سوچ کے اسٹور میں داخل ہوا اور کاؤنٹر پر رکھے باکس میں سے ایک بسکٹ کا پیکٹ لیا اور ریفریجریٹر سے کولڈ ڈرنک نکال کر کاؤنٹر تک آتے آتے بسکٹ کا پیکٹ کھولا، دیکھا اندر دو تین بسکٹ ٹوٹے ہوئے ہیں، کاؤنٹر کلرک بھی یہ سب دیکھ رہا تھا۔

 

 

ہمارے لیئے تو یہ معمولی بات ہے کہ کسی پیکٹ میں سے کوئی ٹوٹی ہوئی چیز نکل آئے، ہم تو شاید اس کا نوٹس بھی نہیں لیتے، خیر کاؤنٹر کلرک کو جب پیسے دینے لگا تو اس نے بڑی عجیب سی بات کہی، جس پر میں حیران ہوا کہ یہ کیا کہہ رہا ہے۔۔۔!!

 

کاؤنٹر کلرک نے کہا کہ آپ کے پیکٹ میں کچھ بسکٹ ٹوٹے ہوئے ہیں آپ نے ثابت بسکٹ کے پیسے دیئے ہیں یہ پیکٹ رکھ کر دوسرا لے سکتے ہیں آپ۔

 

میری حیرانی اس بات کی تھی کہ ایسا کئی بار پاکستان میں ہمارے ساتھ ہوا اور دکاندار سے شکایت کرنے پر ہمیں ایک مخصوص جواب ملا ” بھیا کیا پورا ثابت ہی کھاؤ گے توڑنا تو ویسے ہی ہے ٹوٹا ہوا نکلا تو کیا ہوا ہم نے گھر میں تھوڑی بنائے ہیں”۔

 

لیکن اس سنگاپوریئن نے صارف کے حق کو نہ صرف سمجھا بلکہ صارف کو اس کا حق دینے پر اصرار بھی کیا اور ہمارے لیئے ایک سبق بھی چھوڑ دیا۔

 

ایک نگاہ ذرا ادھر بھی جہاں ہمارے پیارے وطن میں منافع خوروں نے صرف اپنی تجوریں بھرنے کیلئے عام آدمی کو گلے پر چھریاں پھیرنے کا جو سلسلہ شروع کررکھا ہے وہ کسی سے ڈھکی چھی بات نہیں، کنزیومر رائٹس کیا ہوتے ہیں اور انسانی جان کی کیا قیمت ہے انھیں  اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔

 

کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ اور دو نمبر اشیاء کی فروخت تو عام بات ہے اب تو سہولیات کی فراہمی اور سیر و تفریح کے مقامات پر بھی بھاری ٹکٹس کے باوجود آپ کویہ نہیں پتہ ہوتا کہ نجانے کس کم ظرف نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی اور آپ کی تفریح کا سامان آپ کی موت کا سامان کس وقت بن جائے آپ کو نہیں پتہ۔

 

 

ایسا ہی کچھ واقعہ منگل کی شب کراچی کے ساحلی علاقے میں قائم ایک تفریحی مقام پر پیش آیا جہاں ایک خطرناک جھولا بلندی پر جاکر اچانک خراب ہوگیا، بات یہیں تک ختم نہیں ہوئی بلکہ پارک انتظامیہ نے انتہائی سفاکیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پولیس اور ریسکیو اداروں کو طلب کرنے کے بجائے گیٹ بند کردیئے اور پھر سیڑھیوں کو رسی سے آپس میں باندھ کر انتہائی خطرناک طریقے سے دو گھنٹے بعد جھولے میں پھنسے افراد کو نیچے اتارا۔

 

عینی شاہدین کے مطابق جھولا بلندی پر پھنس جانے کے بعد پارک انتظامیہ نے فوری طور پر گیٹ بند کردئیے اور لوگوں کو پیچھے ہٹانے کی کوشش کرتے ہوئے ویڈیو بنانے سے روکتے رہے۔

 

پارک میں جھولے میں پھنسے لوگوں کو ریسکیو کرنے کے لیے کوئی متبادل انتظام موجود نہیں تھا، دو سیڑھیوں کو رسیوں سے جوڑ کر لوگوں کو ریسکیو کیا گیا۔

 

 

اسی طرح کا ایک واقعہ جولائی 2018 میں کراچی کی پرانی سبزی پر نئے کھلنے والے تفریحی پارک میں پیش آیا تھا جہاں نئے نصب کیئے گئے جھولے کے گرنے سے دس سالہ بچی جاں بحق اور 18 سے زائد افراد زخمی ہوگئے تھے۔

 

اس حادثے کے بعد بھی انتظامیہ اور عملہ غائب ہوگیا تھا، ابتدائی طور پر لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت جھولے کے نیچے دبنے والوں کو نکالا اور ذاتی گاڑیوں کے ذریعے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا تھا۔

 

جب سوشل میڈیا پر شور مچا تو اس وقت کے نگراں وزیراعلٰی سندھ فضل الرحمان نے کمشنر کراچی کو ہدایت کی کہ مذکورہ پارک سمیت سندھ بھر کے پارک اور جھولے بند کیئے جائیں پھر کراچی سمیت پورے سندھ کے پارکس کی جانچ پڑتال ہوگی۔ اور اس کے بعد ہی تفریحی پارکس کے جھولے کھولنے کی اجازت ہوگی۔

 

لیکن ہوا کچھ ایسا کہ چند ہفتوں بعد ہی سارے پارکس بھی کھل گئے اور جانچ پڑتال کب ہوئی کس نے کی، کیسے کی۔۔۔۔؟؟؟ اس کی کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی حالیہ واقعہ اور اس جیسے متعدد غیر رپورٹ شدہ واقعات بتاتے ہیں کہ حکومت وانتظامیہ کیلئے انسانی جانوں کی کوئی اہمیت نہیں۔

 

 

سنگاپور اور کراچی کے الگ الگ واقعات سے آپ کو پتہ چل گیا ہوگا کہ عوام کے بنیادی حقوق کیا ہوتے ہیں اور کیسے ان کا خیال رکھا جاتا ہے اور کیسے ان حقوق پر ڈاکہ ڈال کر صرف اپنے منافع سے غرض رکھی جاتی ہے۔

 

اس لیئے جب کبھی آپ اپنی فیملی کے ساتھ کسی تفریحی مرکز جائیں تو یہ سوچ لیں کہ اپنی جان و مال کی حفاظ آپ کے خود کے ذمے ہے، انتطامیہ اور ریاست کا اس میں کوئی کردار نہیں ہوگا۔

 

 

 

 

Share This Article

تازه ترین

کشمیر میں لوٹس اسٹیم کی کٹائی