لارڈز میں ہونے والے عالمی کپ کے 30ویں میچ میں پاکستان نے مقررہ اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر جنوبی افریقا کو 309 رنز کا ہدف دے دیا، جس کے تعاقب میں جنوبی افریقا نے مقررہ اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 259 رنز بناۓ۔
اس سے قبل پاکستان کے کپتان سرفراز احمد نے ٹاس جیت کر پہلے بلےبازی کا فیصلہ کیا۔
انگنز کا آغاز فخرزمان اور امام الحق نے کیا اور ٹیم کو 81 رنز کا اچھا آغاز رہام کیا جس کے بعد فخر زمان 44 رنز بنا کر عمران طاہر کی گیند پر آؤٹ ہوگۓ، امام الحق بھی زیادہ دیر کریس پر نہ رک سکے اور وہ بھی 98 کے مجموعی اسکور پر 44 رنز بنا کر پیویلین لوٹ گۓ، اس کے بعد حفیظ میدان میں آئے مگر وہ بھی کچھ خاص نہ کرسکے اور 28 رنز بنا کر مارکرم کی گیند پر ایل۔بی۔ڈبلیو ہوگۓ۔
بابر اعظم میدان میں آۓ تو گراؤنڈ کے چاروں طرف اسٹروکس کھیل کر ٹیم کا مجموعی اسکور 224 تک لے گۓ اور ایک عمدہ نصف سینچری بنا کر فیلکوایو کے گیند پر کیچ آوٹ ہوگۓ، بابر اعظم کی ورلڈ کپ 2019 میں یہ دوسری نصف سینچری ہے۔

حارث سہیل نے جارحانہ انداز سے بیٹینگ کی اور ٹیم کا مجموعی اسکور 307 تک پہنچایا، انہوں نے 59 گیندوں پر 89 رنز بنا کر سلیکٹر کہ لیۓ سولیہ نشان کھڑا کر دیا ہے کہ ابھی تک مجھے ٹیم کا حصّہ کیوں نہیں بنایا گیا ؟؟؟

عماد وسیم 23 رنز بنا کر آؤٹ ہوۓ، وہاب 4 جب کہ سرفراز 2 رن بنا کر نمایاں رہے۔
جنوبی افریقا کی جانب سے نگیدی نے 3 شکار کیۓ، عمران طاہر نے 2، فیلکوایو اور مارکرم صرف ایک ایک وکٹ لینے میں کامیاب ہوۓ۔

ہدف کے تعاقب میں جنوبی افریقا کے اووپنر ہاشم آملہ اچھا آغاز نہ فرہام کرسکے اور محمد عامر کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگۓ، دوسرے اووپنر ڈی کوک نے اچھے کھیل کا مظاہرہ کیا اور ٹیم کا مجموعی اسکور 91 تک پہنچایا اور 47 رنز بنا کر پیویلین لوٹ گۓ۔
جنوبی افریقا کے کپتان فاف ڈیو پلیسی نے اپنی ٹیم کو سنبھالا دیا اور اچھی اننگز کھیلتے ہوۓ 136 کے مجموعی اسکور پر 63 رنز بنا کر محمد عامر کا شکار بنے۔

مارکرم 7 رنز بنا کر آؤٹ ہوۓ، ڈیوسن 36، ملر 31 جب کہ مورس صرف 16 رنز بنا سکے، فیلکوایو نے اچھے بلے بازی کی اور 46 رنز بنا کر نمایاں رہے۔
پاکستان کی جانب سے وہاب ریاض اور شاداب خان نے تین تین شکار کیۓ، عامر نے دو کھلاڑیوں کو پیویلین پہنچایا جب کہ شاہین صرف ایک وکٹ لینے میں کامیاب ہوۓ۔
جنوبی افریقہ کی شکست کے بعد پاکستان کے سیمی فائنل میں پہنچنے کے معدوم امکانات مین کچھ امیدیں بڑھی ہیں تاہم پاکستان کو اپنے تینوں میچز نہ صرف بڑے مارجن سے جیتنے ہوں گے بلکہ اس کے سیمی فائنل میں پہنچنے کا دارومدر بدستور دیگر ٹیموں کی ہار جیت پر بھی ہے۔
ساؤتھ افریقہ سے میچ میں اگرچہ پاکستان نے فتح حاصل کی ہے لیکن سینئر کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ پاکستان ٹیم میں جیت کی لگن نظر نہیں آئی، میچ میں مجموعی طور پر 7 کیچز چھوڑے گئے، جب کہ ٹیم میں ٹیم ورک کا فقدان بھی نظرآیا۔
سینئر تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اسی انداز سے بقیہ میچز کھلیے گئے تو پاکستان کیلئے سیمی فائنل تک رسائی بہت مشکل ہوجائے گی۔
میچ کی خاص بات پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ جو ان دنوں برطانیہ کے سرکاری دورے پر ہیں وہ میچ دیکھنے لارڈز گراؤنڈ پہنچ گئے ان کے ہمراہ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور باجوہ بھی تھے۔

اس میچ میں شادب خان نے اپنی ورلڈ کپ کی 50ویں وکٹ حاصل کی۔

محمد عامر 15 وکٹوں کے ساتھ عالمی کپ 2019 کے لیڈنگ وکٹ ٹیکر بن گۓ ہیں۔

پوائنٹس ٹیبل پر ٹیموں کی پوزیشن۔
