امریکہ کا ایرانی ہتھیاروں کے نظام پر سائبر حملے کا دعویٰ

 

 

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی سپاہ پاسداران کی جانب سے ایرانی ڈرون طیارہ مار گرانے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی افواج کو فضائی حملہ کرنے کا حکم دیا تھا تاہم کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے حملے کا فیصلہ واپس لے لیا تھا جس کے بعد ایرانی ہتھیاروں کے نظام پر سائبر حملہ کیا تھا۔

 

امریکی خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ فورسز نے مذکورہ سائبر حملے کے ذریعے ایران کے ان کمپیوٹرز کو متاثر کیا ہے جن کے ذریعے راکٹ فائر کیے جاتے ہیں تاہم آزاد خبر رساں اداروں سے ایرانی کمپیوٹرز کے متاثر ہونے کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

 

مقامی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے مبینہ طور پر ایرانی ہتھیاروں کے نظام پر سائبر حملے کرنے کی منصوبہ بندی کئی ہفتوں سے جاری تھی، امریکی حکام کا مذکورہ سائبر حملوں کا مقصد ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کے ہتھیاروں کو ناقص کرنا تھا جس کے ذریعے انہوں نے امریکی ڈرون طیارے اور تیل کے جہازوں کو نشانہ بنایا تھا۔

 

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ امریکی سائبر حملے کے باعث ایرانی ہتھیاروں کا نظام کچھ دیر کے لیے بند ہوگیا تھا، امریکا کی وزارت داخلہ کے حکام کا کہنا تھا کہ امریکی کمپیوٹر سسٹم بھی ایرانی ہیکرز کے حملوں کی زد میں ہیں۔

 

ذرائع کا کہنا تھا کہ امریکی حکام نے خلیج عمان میں آئل ٹینکرز پر حملوں کا جواب سائبر حملوں کے ذریعے دینے کا مشورہ دیا تھا۔

 

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ

 

دوسری جانب غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس میں کیمپ ڈیوڈ کے لیے روانہ ہونے سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ کیمپ ڈیوڈ میں قیام کے دوران میں ایران کے مسئلے پر مزیدغورکریں گے۔

 

صدر ٹرمپ ایران کو جوہری بم کی تیاری سے روکنا چاہتے ہیں اور انھوں نے کہا کہ ہم ایران کے خلاف اضافی پابندیاں عائد کررہے ہیں، بعض کیسوں میں تو ہم سست روی سے چل رہے ہیں لیکن بعض کیسوں میں تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

 

Share This Article

تازه ترین