سری لنکا، بدھ راہب کا مسلمانوں کو سنگسار کرنے کا حکم  

 

 

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سری لنکا میں مسلم اقلیت کو اس وقت سے نئے حملوں کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے جب ایک بڑے بدھ راہب نے حکم جاری کیا کہ مسلمانوں کو سنگسار کیا جانا چاہیے۔

 

اس حکم کے پیچھے پھیلنے والی خبر ہے جس میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایک مسلمان ڈاکٹر نے ہزاروں بدھ خواتین کو بانجھ بنا دیا، اس غیر مصدقہ اطلاع پر بدھ راہب نے مسلم اقلیت کے خلاف ایک نئی نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔

 

 

بدھ راہب واراکاگودا سری نے کہا کہ مسلمانوں کے کاروبار کا بھی بائیکاٹ کیا جائے، اور ان کی دکانوں کو جلایا جائے، مسلمانوں کے ریسٹورنٹس ایک سازش کے تحت سنہالا بدھ کمیونٹی کی آبادی کو بانجھ بنا رہے ہیں۔

 

راہب نے اپنے پیروکاروں کو مسلمانوں کے ہوٹلوں سے کھانا کھانے سے بھی منع کر دیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ جو بھی ان ریسٹورنٹس سے کھائے گا ان کے ہاں بچے پیدا نہیں ہوں گے، اور دس سے پندرہ سال بعد اس کے نتائج نکلیں گے۔

 

بدھ راہب کا یہ بھی کہنا ہے کہ قوانین اورضوابط ضروری نہیں ہیں، اگر ہمارا بھی کوئی آدمی کسی دوسری کمیونٹی کے ساتھ یہ کرتا ہے تو ہم اسے کاٹ کر رکھ دیں گے۔

 

 

سری لنکا میں چرچز پر حملوں کے بعد مسلمانوں اور ان کے املاک پر حملے شروع ہو گئے تھے، بدھ راہب کی نفرت انگیز تقریر کے بعد نئے حملوں کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے، تاہم اس حوالے سے سری لنکن حکومت کا کوئی وضاحتی بیان تاحال سامنے نہیں آیا ہے۔

 

وہاں مقیم مسلمانوں کا کہنا ہے کہ بدھ راہب کے اس حکم کے بعد ہم ہر لمحہ خوف کا شکار رہتے ہیں کہ اپنے کام پر جائیں تو کیسے جائیں، نوکریاں ختم ہورہی ہیں، کاروبار تباہ ہورے ہیں، گھر والے انجانے خوف کا شکار ہوچکے ہیں۔ اگر پولیس یا کسی قانون نافذ کرنے والے ادارے کی جانب مدد کیلئے دیکھا جائے تو وہ بھی منہ پھیر لیتے ہیں۔

 

 

اس صورتحال میں سری لنکا میں مقیم لاکھوں مسلمان انتہائی خوف کا شکار ہیں، یاد رہے کہ سری لنکا میں مسلمانوں کی تعداد کل آبادی کا 12 فیصد ہے۔

 

 

Share This Article