اس امریکی ڈرون کو ایران نے جمعرات بیس جون کو مار گرایا تھا۔ روحانی نے امریکی ڈرون کو مار گرانے کی وجہ ایرانی فضائی حدود کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ایرانی صدر کا یہ تازہ بیان نیم حکومتی نیوز ایجنسی فارس نے رپورٹ کیا ہے۔
اس بیان میں روحانی نے یہ بھی کہا کہ امریکی جارحانہ پالیسی ہی اس انتہائی حساس خطے میں کشیدگی کا سبب ہے۔ روحانی نے عالمی برادری سے کہا ہے کہ وہ علاقائی صورت حال کا احساس کرتے ہوئے مناسب ردعمل کا اظہار کرے کیونکہ نامناسب رویے کشیدگی کو بڑھاوا دے سکتے ہیں۔

ادھر ایرانی فوجی کمانڈر نے آج اتوار 23 جون کو امریکا کو دھمکی دی ہے کہ اگر جنگ ہوئی، تو خطے بھر میں امریکی فورسز کو نشانہ بنایا جائے گا۔ میجر جنرل غلام علی راشد نے انقلابی گارڈز سے اپنے ایک خطاب میں کہا کہ خطے میں امریکی فوجیوں کے تحفظ کے لیے واشنگٹن انتظامیہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔
اسی دوران خلیجی ریاست متحدہ عرب امارات نے ایران اور امریکا کے درمیان پیدا کشیدگی میں خاتمے کو وقت کی ضرورت قرار دیا ہے۔ یہ بات خلیجی وزیر مملکت برائے خارجہ امور انور قرقاش نے کہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خلیج کا بحران اجتماعی توجہ کا طالب ہے اور سیاسی مکالمت و مذاکرات سے ہی تناؤ کی فضا کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ علاقائی آوازیں خطے میں پائیدار امن کے لیے اہم ہیں۔
