اجتماعی استعفوں کے معاملے پر اپوزیشن میں اختلاف، مولانا کی تجویز مسترد  

 

 

آل پارٹیز کانفرنس میں مولانافضل الرحمان نے تمام اپوزیشن جمعتوں کو مشورہ دیا ہے کہ حکومت کے خلاف احتجاج مؤثر بنانے کیلئے اجتماعی استعفے دیئے جائیں اور یوم سیاہ منایا جائے، تاہم پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نے تجویز کی مخلافت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو کھلا میدان نہیں دیا جاسکتا۔

 

اسلام آباد میں منعقدہ آل پارٹیزکانفرنس کی صدارت مولان فضل الرحمان نے کی جبکہ اس میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن،، عوامی نیشنل پارٹی،، قومی وطن پارٹی ، نیشنل پارٹی اور پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے وفود شریک  ہوئے۔ جبکہ جماعت اسلامی نے شرکت نہیں کی۔

 

مسلم لیگ ن کا وفد شہبازشریف کی قیادت میں شریک ہوا ان کے ساتھ، مریم نواز، شاہد خاقان عباسی ، راجہ ظفرالحق اور دیگررہنما شمال ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے وفد کی قیادت بلاول بھٹو کررہے ہیں ان کے ہمراہ یوسف رضاگیلانی، شیریں رحمان اوردیگررہنما موجود تھے جبکہ اسفند یارولی،محمود اچکزئی، آفتاب شیر پاؤ، میر حاصل بزنجو، ساجد میرنے اپنی اپنی پارٹیوں کی نمائندگی کی۔۔

 

آل پارٹیز کانفرنس میں حکومت گرانےکے ساتھ معاشی بحران سےنکلنے پر مشاورت کی گئی ، اس موقع پر مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ معاملات کاواحد حل عمران خان کی طرح سڑکوں پر نکلنا ہے۔

 

اے پی سی میں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی پر زور دیا گیا کہ وہ حکومت مخالف مؤقف کو مؤثر بنائیں۔

کانفرنس میں اپوزیشن اتحاد کے لیےنام تجویز کرنے پر بھی غور کیا گیا جبکہ متحدہ اپوزیشن اور سیاسی رابطوں پرمشترکہ کوآرڈینیشن کمیٹی کی تشکیل زیرغور ہے۔

 

اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس میں چیئرمین ، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کوہٹانے کی تجویز دی گئی ، تجویز اے این پی کے اسفندیار ولی خا ن نےپیش کی، ان کا کہنا تھا کہ جس سسٹم کےتحت چیئرمین،ڈپٹی چیئرمین کولائےوہ قبول نہیں کیا جاسکتا۔

 

اے پی سی میں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے اجتماعی استعفے دینے کےمعاملے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے

 

اس موقع پراپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا تاریخ میں موجودہ بجٹ سے زیادہ بدترین بجٹ نہیں دیکھا، حکومت کا ہاتھ روکنے کیلئے اسمبلی کے اندر اور باہر کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہیں۔

 

ان کا کہنا تھا دھاندلی کی تحقیقات کیلئےپارلیمانی کمیٹی کےقیام میں پیشرفت نہیں ہوئی، دھاندلی زدہ حکومت عوام کی نمائندگی کر ہی نہیں سکتی، ہمیں عوام کی نمائندگی کرنی چاہیے،بجٹ کو مسترد کرچکے ہیں۔

 

 

مریم نواز نے اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ نیب کے ہاتھوں گرفتار تمام افراد کو سیاسی قیدی قرار دیا جائے انھوں نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس کے ذریعے حکومت کے خلاف احتجاج کا مؤثر اور قابل عمل لائحہ عمل طے ہونا چاہیئے تاکہ عوام تک پیغام مثبت انداز میں پہنچے ورنہ لوگوں میں مایوسی بڑھے گی۔

 

اپوزیشن کی آل پارٹیزکانفرنس میں پیش کردہ تجاویز کو اعلامیہ کی شکل میں سامنے لانے کیلئے 11رکنی کمیٹی قائم کی گئی، جس میں رحمت اللہ کاکڑ،فرحت اللہ بابر، یوسف رضا گیلانی ، احسن اقبال،راناثنااللہ ،شاہد خاقان عباسی ، میاں افتخار حسین،ہاشم بابر ،عثمان خان ،اویس نورانی ،راناشفیق پسروری شامل تھے۔

 

آل پارٹیز کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ

 

اپوزیشن جماعتوں کی کُل جماعتی کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ میں حکومتی فیصلوں کو  ملکی سلامتی، خود مختاری اور بقاء کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔

 

  • اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نام نہاد حکمرانوں کو تمام سیاسی جماعتیں مسترد کر چکی ہیں، ملک کا ہر شعبہ زبوں حالی کا شکا رہے اور ملکی معیشت زمین بوس ہو چکی ہے۔
  • ملک دیوالیہ پن کی حدود کو عبور کرنے کی تیاری کر رہا ہے، حکومتی قیادت کے فیصلوں نے ہمارے شکوک و شبہات کو یقین میں بدل دیا ہے۔
  • مہنگائی سے غریب عوام کی کمر ٹوٹ گئی ہے اور بیرونی قرضوں کا سیلاب اور معاشی اداروں کی بد نظمی معیشت کو دیوالیہ کرنے کو ہے، غربت و افلاس کی بڑھتی صورتحال پر تشدد عوامی انقلاب کی راہ ہموار کرتی دکھائی دیتی ہے۔
  • معاشی زبوں حالی، بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ ملکی سلامتی کیلیے بڑا چیلنج بن چکے ہیں اور حکمرانوں کا یجنڈا ملکی مفادات کی بجائے کسی گھناؤنی سازش کا حصہ ہے۔
  • اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ملکی حالات بہت بڑا سکیورٹی رسک ہیں، حکومت کےفیصلےملکی سلامتی،خود مختاری اور بقا کیلیے خطرہ بن چکے ہیں۔

 

 

 

Share This Article

تازه ترین