معیشت کی بہتری کیلئے آرمی چیف کا بیان، کتنا اہم ۔۔؟؟  

 

 

آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ نے کہا ہے کہ حکومت نے طویل مدتی فوائد کے حصول کے لیے مشکل اور نتیجہ خیز فیصلے کیےمشکل ماضی میں فیصلے نہ کرنےکی وجہ سے مشکلات بڑھیں، وقت آگیا ہے کہ ایک قوم بن کر سوچیں، معاشی کاوشیں کامیاب بنانے کیلئے سب کواپنی ذمہ داری پوری کرنی ہوگی۔

 

اس حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے قومی معیشت پر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی ہے۔

 

پاکستان کی معیشت کی دگرگوں حالت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، مہنگائی بڑھتی جارہی ہے، خزانے میں پیسہ نہیں، بھاری بیرونی قرضوں اور ان کے سود و قسطوں کی ادائیگی جیسا بڑا مسئلہ، امپورٹ زیادہ ایکسپورٹ کم، لوگ ٹیکس دینے کو تیار نہیں، اس تمام صورتحال نے ملک چلانے کیلئے جتنی مشکلات اب پیدا کی ہیں شاید وہ اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئیں۔

 

اس کڑے وقت میں جب حکومت نے کچھ سخت فیصلے لیئے تو ان کی کامیابی کیلئے ضروری تھا کہ تمام ادارے بھی یہ برملا اظہار کریں کہ وہ سب حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں، ایسے میں آرمی چیف کی جانب سے قومی اہمیت کےامورپرکھل کر گفتگو نہایت اہمیت کی حامل قرار دی جاسکتی ہے۔

 

اگر پاک فوج کے سربراہ کے خطاب کو دیکھا جائے تو انھوں نے یہ واضح کیا کہ ہم اس وقت مشکل معاشی صورتحال سےگزررہےہیں، اورہم سب کو اپنی ذمے داریاں نبھانے کی ضرورت ہے، تاکہ مشکل حکومتی اقدامات کامیاب ہوسکیں، وقت آگیا ہے کہ ہمیں ایک قوم بن کر سوچنا ہوگا۔ آرمی چیف کا یہ بیان، یہ انداز گفتگو ان تمام لوگوں کے ذہن سے شک و شبہات دور کرنے کیلئے کافی ہوگی جو حکومتی فیصلوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے انھیں تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔

 

سربراہ پاک فوج نے یہ بھی کہا کہ مشکل معاشی حالات سے متحد ہوکر نکلنا پڑے گا، معاشی خود مختاری کے بغیر کوئی دوسری خود مختاری ممکن نہیں، ملک نہیں بلکہ خطے ترقی کرتے ہیں، معاشی کاوشیں کامیاب بنانے کے لئے سب کو ذمے داری پوری کرناہوگی،مسلح افواج نے اقتصادی محاذ میں اپنا حصہ ڈال دیا اور بجٹ میں سالانہ اضافہ نہیں لیا۔

 

آرمی چیف کا مزید کہنا تھا کہ معیشت کو سدھارنےکیلئے مشکل فیصلے کرنے ہونگے ، مشکل معاشی فیصلوں سے قوموں کی کامیابی کی مثالیں موجود ہیں، معیشت اور سیکیورٹی کا آپس میں گہرا تعلق ہے ، اس وقت مشکل اقتصادی صورتحال کا سامنا ہے ، مشکل معاشی حالات سے نکلنا کسی اکیلے شخص کے بس کی بات نہیں۔

 

پاک فوج کے سربراہ کے خطاب کو اس تناظر میں بھی دیکھنا چاہیئے کہ آیا موجودہ حکومت کے ساتھ ایسا کیا ہوا جو انھوں نے آتے کے ساتھ ہی معیشت کی بدحالی کا پرچار شروع کردیا، کیا وجہ ہے کہ ماضی کی حکومتوں نے ایسا کبھی نہیں کیا۔ اور وہ خطے کی ترقی کے بارے میں جو کہہ رہے ہیں اس کی اہمیت کیا ہے۔۔؟؟

 

اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ماضی کی حکومتوں خاص کر گذشتہ 10 سال کے دوران حکومتیں اندر ہی اندر بیرونی قرضے لیتی رہیں اور اس میں سے کچھ تجوریوں میں تو کچھ اس سے پہلے کے قرضوں میں  اور بقیہ تھوڑے سے پیسوں سے لیپا پوتی کے ذریعے ملک چلایا جاتا رہا، تاکہ لوگ بھی خوش رہین اور کسی کو یہ پتہ ہی نہ چلے کہ اصل میں یہ ملک چل نہیں رہا بلکہ اندر سے اسے کھوکھلا کیا جارہا ہے۔

 

پھر ایک طرف معاشی مسائل اور دوسری طرف ُروسی ممالک سے چپقلش اور سردمہری کے انداز نے پاکستان کی تعمیر وترقی میں ہمیشہ رکاوٹ ڈالے رکھی ایسے میں آرمی چیف جب یہ کہیں کہ خطے کا امن ہی ترقی و خوشحالی کا ضامن ہے تو اس سے بڑا بیان شاید کوئی نہیں ہوسکتا کہ پاکستان کسی سے بھی جنگ نہیں بلکہ امن چاہتا ہے اور امن کیلئے ہر کسی سے بات کرنے کیلئے تیار ہے لیکن اپنی کودمختاری اور انا پر سمجھوتہ کیئے بغیر۔

 

اس کے ساتھ ہی اگر تمام سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر اور صرف ملک و قوم کے مفد کو مدنظر رکھتے ہوئے سوچا جائے تو مشکل نہیں کہ عام آدمی کو بھی سمجھ آجائے گی کہ بنیادی طور پر پاکستانی معیشت کو ماضی میں مسلسل زخم لگائے گئے اور ان کی مرہم پٹی کے بجائے ان زخموں کو چھپایا جاتا رہا جس نے اب ناسور کی صورت اختیار کرلی ہے۔

 

ایسے میں یہی واحد حل یہی تھا کہ ایک بڑی جراحی کرکے اس ناسور کو ختم کیا جائے جس سے وقتی تکلیف تو ہوگی، کچھ پرہیز بھی کرنا ہوگا پھر صحیتیابی کے بعد سکون ہی سکون، شرط وہی ہے جو وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف نے کہا کہ مشکل فیصلوں میں سب کو اپنا اپنا کردار ادا بھی کرنا ہوگا اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا بھی ہوگا۔

 

اوریہ بات بھی حقیقت ہےکہ قوم نے یہاں وہاں کی باتوں، پروپیگنڈےاورملک دشمن عناصرکی باتوں کے بجائے اگر صرف ملک و قوم کی ترقی کا سوچا اوراس مشکل وقت میں اپنا مطلوبہ کردار دیانتداری سے نبھایا تو کوئی وجہ نہیں کہ مملکت خداد پاکستان کے نہ صرف مسائل ختم ہوجائیں بلکہ اس کیلئے ترقی و خوشحالی کی نئی راہیں بھی کھلنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔

 

دوسری جانب آرمی چیف کے معاشی صورتحال سے متعلق بیان  پر پی پی چیئرمین بلاول بھٹو کا کہنا ہےکہ آرمی چیف اپوزیشن یا کسی سیاسی جماعت کو پیغام نہیں دیتا ہے، وہ ایک تقریب میں تھے جہاں معیشت پر بات کی گئی اور یہ بیان بالکل صحیح ہے، ہمیں مل کر کام کرنا ہے، اپوزیشن نے پہلے ہی کہا تھا قومی مسائل پر ملکر کام کے لیے تیار ہیں۔ 

 

 

Share This Article

تازه ترین