اسلام آباد میں منعقد ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب کو اس احتجاجی تحریک کا مرکز بنا یا جائے گا اور پچیس جولائی کو یوم احتجاج منایا جائے گا۔ اس کانفرنس میں اسفندیار ولی، محمود خان اچکزئی، شہباز شریف، بلاول بھٹو، مریم نواز اور آفتاب شیر پاؤ سمیت اپوزیشن جماعتوں کے کئی رہنماوں نے شرکت کی۔
حزبِ اختلاف کی جماعتیں پر امید ہیں کہ حکومت کے خلاف یہ تحر یک کامیاب ہوگی۔ مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر برائے ماحولیات مشاہد اللہ خان کا کہنا ہے کہ پی پی پی، ان کی پارٹی اور دوسری جماعتوں کے درمیان کئی نکات پراتفاق ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ”میرے خیال میں تمام جماعتیں کئی نکات پر مشترکہ رائے رکھتی ہیں اور ہم اس رائےکو لے کر آگے چلیں گے۔‘‘
انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ پارٹی میں حکومت کو ہٹانے کے حوالےسے یا پی پی پی سے اتحاد کرنے پر کوئی اختلاف ہے۔ ”سیاسی جماعتوں میں مخلتف رائے ہوتی ہیں اور شہباز شریف کی بھی کسی مسئلے پر رائے مختلف ہو سکتی ہے لیکن پارٹی نواز شریف کے بیانیے کے ساتھ کھڑی ہے اور وہی بیانیہ چلے گا۔‘‘
پارٹی کے ایک اور رہنما نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ نواز شریف نے فضل الرحمن کو پورا مینڈیٹ دیا ہے کہ وہ حکومت کے خلاف تحریک چلائیں۔ ”نواز شریف صاحب نے فضل الرحمن کو واضح طور پر بتایا ہے کہ وہ حکومت کو ہٹانے کی ہر آئینی کوشش کا ساتھ دیں گے اور اس کے خلاف چلنے والی تحریک میں بھی ہر اول دستہ بنیں گے۔‘‘
تاہم ناقدین کا خیال ہے کہ حکومت کو ہٹانے کے حوالے سے حزب اختلاف میں اتفاق نہیں ہے اور یہ کہ پی ٹی آئی حکومت کے خلاف چلنے والی تحریک کامیاب نہیں ہو پائے گی۔ پاکستان میں یہ تاثر عام ہے کہ ن لیگ میں شہباز شریف کا گروپ اور پی پی پی میں زرداری کا گروپ اسٹیبلشمنٹ سے لڑائی نہیں چاہتا اور نہ ہی حکومت کے خلاف کوئی سخت احتجاج کرنا چاہتا ہے۔
لاہور سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار حبیب اکرم کے خیال میں سیاسی جماعتوں میں پی ٹی آئی کو ہٹانے پر اتفاق رائے نہیں۔ اس لئے پی ٹی آئی حکومت کے خلاف چلنے والی تحریک کامیاب نہیں ہوگی۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”میرے خیال میں وہ اس مسئلے پر شدید اختلافات کا شکار ہیں۔ مریم نواز چاہتی ہیں کہ یہ حکومت فوری طور پر ختم ہو جائے اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے، اس کی وہ بات نہیں کرتی لیکن شہباز شریف کے خیال میں اگر حکومت ختم ہوتی ہے تو اس بات کی بھی گارنٹی نہیں کہ وہ دوبارہ ان حالات میں اتنی نشستیں حاصل بھی کر سکیں گے یا نہیں۔
بالکل اسی طرح پی پی پی تو اس سسٹم کو ختم کرنا نہیں چاہے گی کیونکہ سندھ میں اس کی حکومت ہے۔ تو حکومت کو ہٹانے کے لئے صرف جے یو آئی ہی متحرک ہے بقیہ سیاسی جماعتوں میں حکومت کو ہٹانے کے حوالے سے اتفاق نہیں ہے اور وہ کسی حکومت مخالف تحریک میں سرگرمی سے حصہ بھی نہیں لیں گے۔‘‘
ان کا کہنا تھا کہ حزبِ اختلاف کے پاس تحریک چلانے کے لئے کوئی معقول وجوہات اور اخلاقی برتری نہیں ہے۔ حبیب اکرام نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”مریم کے خاندان والوں کے اثاثوں کےحوالے سے سوالات اٹھائے گئے ہیں اور ان کے دو بھائی اور اسحاق ڈار مفرور ہیں۔ بلاول کے والد اور پھوپی اثاثوں کے مسئلے پر اندر ہیں اور فضل الرحمن کی زمین کے حوالے سے سوالات ہیں۔ تحریک چلانے کے لئے اخلاقی برتری چاہیے جو اس وقت حزب اختلاف کے پاس نہیں ہے۔ اس کے علاوہ مقتدر حلقے بھی پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہیں جب کہ گرمی کی وجہ سے عوام بھی کسی تحریک کا حصہ نہیں بنیں گے تو کسی احتجاجی تحریک کے کامیابی کے امکانات کم ہیں۔‘‘