خبر کے مطبق مری کے نزدیک تفریحی مقام پٹریاٹہ کی کیبل کر میں پھنسے 100 سے زائد افراد کو 10 گھنٹوں کی جدوجہد اور فوجی انجینئرز کی مدد کے بعد بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔
واقعہ کے مطابق ہفتے کی شام 5 بجے کے قریب پٹریاٹہ چیئر لفٹ کی بارہ کیبل کاروں میں سوار سیاح خوبصورت نظاروں سے لطف اندوز ہورہے تھے کہ اچانک تیز آندھی شروع ہوگئی اور کیبل کار کا رسہ پلی سے اتر گیا۔
نتیجے میں بارہ کی بارہ کیبل کاریں فضا میں جھولنے لگیں، آندھی اور بارش رکنے کے بعد سیاحوں کو بحفاظت نکالنے کے لئے ریسکیو عمل شروع کیا گیا جو رات گئے 3 بجے تک جاری رہا۔
ریسکیو اہل کاروں نے مینوئیل طریقے سے ایک ایک کیبل کار کو چلا کر سیاحوں کو نکالا اور اس طرح کیبل کار میں پھنسے خواتین، بچوں سمیت تمام افراد کو بحفاظت ریسکیو کیا گیا۔
مری ریسیکو کے انچارج انجینیئر کامران راشد کے مطابق کیبل کار کی دو پلیاں اپنی جگہ چھوڑ گئیں تھیں جس کی اطلاع ملتے ہی وہ فوراً موقع پر پہنچ گئے تھے۔
’کیبل کار کے کیبن 25 فٹ سے لے کر 800 فٹ تک فضا میں معلق تھے۔ پہلے تین کیبن کے لوگوں کو تو جلد ہی امداد فراہم کردی گئی تھی مگر باقی کیبن کے لوگوں نے رسیوں کی مدد سے اترنے سے انکار کردیا تھا۔ چنانچہ ایک طویل میٹنگ کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ کیبل کار میں موجود فالٹ کو ٹھیک کیا جائے اور اس کے بعد جتنا ممکن ہوسکے ہر کیبن کو کسی محفوظ مقام تک لایا جائے اور وہاں سے پھر لوگوں کو امداد فراہم کی جائے۔’
ان کا کہنا تھا کہ یہ پورا آپریشن آٹھ گھنٹے طویل تھا جس میں مجموعی طور پر 106 لوگوں کی جان بچائی گئی، جس میں سے صرف چھ کو ہسپتال بھیجنے کی ضرورت پڑی تھی۔ اس آپریشن میں پاک فوج کے کمانڈوز اور مقامی لوگوں کی بھی مدد حاصل تھی۔
دوسری جانب پنجاب حکومت کے ایک ترجمان کے مطابق واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔
پٹریاٹہ اور مری تفریحی مقام لیکن سہولیات۔۔۔!!
اسلام آباد کے نزدیک پرفضا مقام مری سے تو سب واقف ہیں جہاں سردی ہو یا گرمی ہر موسم میں ملک بھر سے لاکھوں سیاح جاتے ہیں، لیکن گذشتہ دو سال سے مری میں ہوٹل والوں کی جانب سے سیاحوں کے ساتھ بدترین سلوک کیئے جانے کے واقعات رپورٹ ہوئے اور بات تشدد تک بھی پہنچی جس کا انتظامیہ کی جانب سے سنجیدہ نوٹس نہیں لیا گیا اور مری جانے والے کسی نہ کسی سیاح کے ساتھ کوئی نہ کوئی مسئلہ آج بھی درپیش رہتا ہے۔

اسلام آبد سے 59 اور مری سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک اور پرفضا مقام ہے جسے
"نیو مری یا گلہرا گلی” کہتے ہیں لیکن اس کا معروف نام پٹریاٹہ ہے جہاں کیبل کار اور چیئرلفٹ کی سہولت موجود ہے۔
پٹریاٹہ کی بلندی ، یہاں کے جنگلات اور قدرتی حسن اپنی ایک انفرادی حیثیت رکھتا ہے اسی لیئے یہاں کیبل کار اور چیئر لفٹ کی سہولت فرہم کی گئی لیکن دیگر بنیادی سہولیات، رہائش، کھانے پینے اور سیاحوں کے تحفظ کے اقدامات آپ کو کہیں نظر نہیں آئیں گے۔
پٹریاٹہ حادثہ کیوں پیش آیا۔۔۔؟؟
موجودہ حکومت کی جانب سے ملک کے تفریحی مقامات پر سیاحت کے فروغ کے اعلانات کیئے جارہے ہیں کچھ اقدامات بھی ہوئے ہیں لیکن ان تفریحی مقامات پر دستیاب تفریحی سہولیات کی مینٹیننس، سروس کی بہتری اور ملازمین کے رویئے کو بہتر بنانے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کیئے گئے۔

پٹریاٹہ میں کیبل کار کا حادثہ اس بات کا ثبوت ہے، فقط یہ کہہ دینا کہ تیز آندھی کی وجہ سے کیبل کار کی آہنی رسی پلی سے اتر گئی تھی حادثے کی شدت کم نہیں کرسکتی، کیونکہ جس مقام پر یہ کیبل کارزاور چیئرلفٹ نصب کی گئی ہیں وہاں کی تو خصوصیت ہی موسم کی شدت ہے، تیز بارشیں، برف باری، آندھی طوفان ان علاقوں کا خاصہ ہے۔
پٹریاٹہ کیبل کار حادثے کے متاثرین کے مطابق جب ہم کیبل کار کے مقام پر پہنچے تو موسم بہت سہانا تھا اور لوگ کیبل کار پر بیٹھنے کے لیے لائنوں میں لگے ہوئے تھے۔
ایک عینی شاہد کے مطابق ابھی لوگ کیبل کار کے پاس پہنچے ہی تھے کہ یک دم طوفان آگیا۔ اس موقع پر کچھ لوگوں نے کیبل کار والوں سے کہا کہ اس طوفان میں ہم نے کیبل کار میں نہیں بیٹھنا، تو ملازمین کا کہنا تھا کہ ’بیٹھو بیٹھو، کچھ نہیں ہوتا، ہم لوگ اتنا بڑا پراجیکٹ چلا رہے ہیں ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ کیا ہوگا اور کیا نہیں۔’ اس موقع پر موجود انتظامیہ نے ہم سے کہا کہ ’اس موسم میں تو اتنا انجوائے کرو گے کہ تمھاری زندگی کا یادگار سفر بن جائے گا۔’
ایک اور عینی شاہد نے بتایا کہ ان کے ساتھ کھڑے ایک خاندان جس میں خواتین اور بچے بھی تھے، ان سے بھی کیبل کار انتظامیہ نے ایسے ہی الفاظ ادا کیے تھے جس کے بعد لوگ بیٹھنا شروع ہوگئے تھے۔ یہ کوئی چھ بجے کا وقت تھا۔ کیبن میں زیادہ سے زیادہ آٹھ لوگوں کی گنجائش تھی مگر انھوں نے 10 لوگوں کو بٹھا دیا تھا۔
’متاثرین کا کہنا تھا کہ ہم لوگ سب سے پہلے والے کیبن پر سوار تھے جو سب سے اوپر پھنسی تھی۔ ابھی کیبل کار تھوڑی دیر ہی چلی ہوگی تو طوفان تیز ہوا اور ایک زوردار جھٹکا لگا۔ ہم سب لوگوں کے سر کیبن کے شیشوں، دیواروں اور دروازوں سے لگے جس سے ایک بندے کا سر پھٹ گیا۔ چند لمحوں کے لیے تو سمجھ ہی میں نہیں آیا کہ کیا ہوا ہے۔ کچھ دیر بعد ہوش آیا تو ہم لوگ فضا میں لٹکے ہوئے تھے۔ ہمارے قریب ہی ایک کیبن سے چیخ و پکار اور کلمے کی آوازیں آ رہی تھیں۔’
اصل بات یہ ہے کہ گرمیوں میں سیاحوں کی بڑی تعداد ان علاقوں کا رخ کرتی ہے اور سرکاری و نجی ٹوور آپریٹرز اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے صرف دونوں ہاتھوں سے رقم سمیٹتے میں مصروف رہتے ہیں سیاحوں کی حفاظت سے انھیں کوئی سروکار نہیں۔
مری کے پنڈی پوائنٹ کی چیئرلفٹ ہو یا ایوبیہ کی چیئر لفٹ کی حالت زار اوراس کے پک اپ و ڈراپ اسٹیشن ، یا پٹریاٹہ کی چیئر لفٹ و کیبل کار کی سروس ان تینوں مقامات سے آپ کو اندزہ ہوجائے گا کہ یہاں پر نہ مناسب دیکھ بھال ے اور نہ ہی سروس کا کوئی معیار پٹریاٹہ میں کیبل کار کا فی کس ٹکٹ 450 روپے وصول کرکے یومیہ لاکھوں روپے کمانے سے مطلب ہے، سیفٹی اور سیکیورٹی جائے بھاڑ میں۔

وہ تو شکر ہے کہ یہ پاکستان ہے جہاں ایسے واقعات دو چار دن میں فراموش کردیئے جاتے ہین ورنہ یہ واقعہ کسی دسرے ملک میں ہوتا جہں 90 افراد 10 گھنٹوں تک کہیں پھنسے ہوں اور ذمہ دار ادارہ بھی موجود ہو تو ہرجانے کی ادائیگی میں ہی ادارے کا دیوالیہ ہوجاتا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت سیاحت کے فروغ کی اپنی پالیسی میں ان مقامات پر دستیاب سہولیات پر بھی نظر ثانی کرے خاص کر اس قسم کے ٹیکنیکل معاملات اور سیاحوں کے کھانے پینے کی سہولیات پر نظر رکھی جائے، ان چیزوں کا معیار بہتر بنائے بغیر سیاحت کا فروغ کسی صورت ممکن نہیں۔