ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دیرینہ دشمن شمالی کوریا کی سرحد عبور کرلی، 20 قدم چلنے کو خوشگوار بھی قراردیا، اس طرح وہ پہلے امریکی صدر بن گئے جس نے شمالی کوریا کی سرحد میں قدم رکھا۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق جی 20 اجلاس میں شرکت کے بعد امریکی صدر جنوبی کوریا پہنچے جہاں سے وہ شمالی کوریا کے غیر فوجی علاقے میں گئے جہاں شمالی کوریا کے سربراہ کم جان اُن نے ان کا استقبال کیا، ڈونلڈ ٹرمپ نے کم جون ان سے مصافحہ کیا اور شمالی کوریا کی حدود میں چند قدم جا کر واپس لوٹ آئے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے ٹوئٹر پر شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کو شمالی اور جنوبی کوریا کے بارڈر (غیر فوجی علاقے) پر ملنے کی دعوت دی تھی۔ شمالی کوریا نے اسے ’بہت دلچپسپ تجویز‘ قرار دیا تھا، جس کے بعد ٹرمپ جاپان میں جی-20 سربراہی اجلاس کے بعد امریکی صدر سنیچر کو دو روزہ دورے پر جنوبی کوریا پہنچے تھے۔
امریکی صدرنےشمالی اور جنوبی کوریا کے غیر فوجی علاقےمیں ہونے والی تاریخی ملاقات کے موقع پر کہا کہ ’یہ تاریخی لمحات میرے ’قابل فخر‘ ہیں۔
چیئرمین کم جون ان نے اپنے ٹرانسلیٹر کے ذریعے کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے ‘ملاقات کا فیصلہ پُر اعتماد اور بہادرانہ اقدام ہے’۔
شمالی کوریا کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ’دوبارہ ملاقات کرکے خوشی ہوئی، امید نہیں تھی کہ اس مقام پر ملیں گے‘۔ اس موقع پر امریکی صدر کا کہنا تھا کہ’یہ بہت مثبت اور اچھی ملاقات ہے، یہ بات زیادہ اہمیت کی حامل ہے کہ ہم دونوں روز اوّل سے ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں‘۔
اس موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کم جون ان کو وائٹ ہاؤس کے دورے کی دعوت دی جس پر شمالی کوریا کے چیئرمین نے صاف جواب دیتے ہوئےکہا کہ ہمارے تعلقات تاحال اچھے نہیں ہوئے ہیں لہذا یہ ممکن نہیں ہوپائے گا۔
اس سے پہلے کئی امریکی صدور جنوبی کوریا کی سرحد پر جا چکے ہیں تاہم صدر ٹرمپ نے وہاں دورے کے سیاسی انداز کو بدل دیا انھوں نے دوربین کا استعمال نہیں کیا اور نہ ہی بم حملے سے حفاظت کے لیے جیکٹ یا سوٹ کا استعمال کیا۔
"یہ ملاقات بظاہر صدر ٹرمپ کی جانب سے ٹویٹر پر کم جانگ کو ملاقات کی دعوت کے بعد ہوئی ہے تاہم ناقدین نے اسے خالص سیاسی تھیٹر کہتے ہوئے مسترد کر دیا ہے لیکن دیگر افراد کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات مستقبل میں ہونے والے مذاکرات کے لیے راستہ ہموار کر سکتی ہے”۔

لیکن کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ پسِ پردہ سفارت کاری کے لیے وقت نہ ہونے کے باعث ٹرمپ کی یہ حرکت صرف ایک تصویر بنوانے کے موقع سے زیادہ اہمیت کی حامل نہیں ہے، تاہم اس ملاقات کو ڈی نیوکلیرآئزیشن کے لیے دونوں رہنماؤں کے عزم کے طور پر دیکھا جائے گا۔
شمالی کوریا کے متنازع جوہری پروگرام کو ختم کرنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کے سلسلے میں مذاکرات، گزشتہ برس اس وقت عروج پر پہنچ گئے تھے جب صدر ٹرمپ اور کم جونگ نے سنگاپور میں ایک تاریخی ملاقات کی تھی۔

بین الاقوامی امور کے بعض ماہرین کے نزدیک ٹرمپ ہر وہ کام کرنے کو راضی ہوجاتے ہیں جس سے انھیں تشہیر ملے اور وہ دنیا بھر کی خبروں میں آجائیں لیکن وہ اپنی یہ عادت اس وقت پوری نہیں کرپاتے جب معاملات ایران کے ہوں کہ وہاں جانے یا جوہری معاہدے کے حوالے سے مذاکرات کی راہ میں اسرائیل سمیت بہت سے حواری ان کا رستہ روکے ہوئے ہیں۔
بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی صدر مسلسل شمالی کوریا سے مذاکرات کی بات کررہے ہین لیکن شمالی کوریا مذاکرات کے ساتھ ساتھ اپنے معاملات کو چلانا بھی چاہتا ہے، اتوار کی غیر فوجی علاقے میں ملاقات کے بعد شمالی کورین صدر کی جانب سے وئٹ ہاؤس دورے کو مسترد کرنا اصل میں سفارتی محاذ پر ٹرمپ کی ناکامی ہے۔

مبصرین کے مطابق سفارتی آداب ہوتے ہیں کہ اگر کسی ملک ک سربراہ کسی دوسرے سربراہ کو دعوت دیتا ہے تو اسے قبول کیا جاتا ہے لیکن ٹرمپ کی دعوت پر کورین صدر ک انکار ثابت کرتا ہے کہ شمالی کوریا کرے گا وہی جو اس کا دل چاہے گا وہ کسی حالت میں امریکی بالادستی کو قبول نہیں کرے گا۔
سیاسی مبصرین اور ناقدین کی رائے میں اگر ٹرمپ شمالی کوریا کیلئے جیسا نرم رویہ رکھتے ہیں وہ یہی رویہ ایران سے ظاہر کریں تو خلیج میں بڑھتی کشیدگی کا خاتمہ ہوسکت ہے اور جس طرح اپنے دیرینہ اور سخت ترین دشمن کی سرحد کے پار 20 قدم جا سکتے ہیں اور پھر بھی انھیں پذیرائی نہیں ملتی اگر وہ ایرانی سرحد پر 2 قدم بھی آگے جائیں تو نہ صرف بین الاقوامی امن کیلئے بہت ہوں گے بلکہ انھیں بے پناہ پذیرائی بھی مل سکتی ہے۔