پاکستان میں ان دنوں کچھ زیادہ ہی بیرونی اور اندرونی قرضوں کا چرچہ ہے، بلکہ نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ سوشل میڈیا پر آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور دیگر بیرونی قرضوں پر وہ لوگ بھی اپنی قیمتی رائے عطا کررہے ہیں جنھیں گھر کا سودا لانے ہزار روپے دیئے جائیں تو 700 کا سودا لاکر 230 روپے واپس دیتے ہیں اور 70 روپے کہں گئے اس چکر میں گھر اور دکان کے چکر لگاتے رہتے ہیں۔
خیر بات ہورہی ہے قرضے کی یقینا ہر پاکستانی یہ جاننا چاھتا بھی ہوگا اور اسے جاننا چاہیئے بھی کہ یہ ہم قرضون کے جال میں جکڑے کیسے اور اس کے ذمہ داران کون کون ہیں۔۔؟؟ کہیں ایسا تو نہیں جنھیں ہم مہربان سمجھ رہے ہیں وہی اصل میں بلائے جان ہوں۔
پاکستان کے قرضوں کی تاریخ دیکھی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے 1958ءمیں پہلی دفعہ آئی ایم ایف سے قرضہ لیا جو شاید چند ملین ڈالرز تھا۔

1973ءمیں ذوالفقارعلی بھٹو کا دور تھا مشرقی پاکستان لگ ہوکر بنگلہ دیش بن چکا تھ سیاسی تناؤ کی وجہ سے بھٹو حکومت نے قرضوں پر زیادہ اکتفاءنہ کیا اور اپنے دور اقتدار میں انھوں نےمحض 3 کروڑ ڈالر ہی بیرونی قرض لیا، پھر 1980 میں جنرل ضیاءالحق کے دور میں 2 ارب ڈالر کا لیا گیا۔

ضیاء دور میں افغان جنگ کی وجہ سے ڈالروں کی خاصی ریل پیل تھی اس لیے انہیں مزید قرض لینے کی کچھ خاص ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔
لیکن اگر صحیح معنوں میں دیکھا جائے تو پاکستان کو قرضوں کے بوجھ تلے دبانے کا آغاز 1988 سے ہوا جب محترمہ بے نظیر بھٹو وزیراعظم بنیں اس وقت ڈالر 18روپے کا تھا۔ اور اسی سال دسمبر1988ءمیں محترمہ بے نظیر کی قیادت میں عالمی اداروں سے قرض کے دو پروگرام حاصل کیے گئے جو 1990 اور 1992 میں ختم ہوئے۔ ان پروگراموں کے ختم ہونے سے مراد یہ کہ قرض واپس کرنے کی مدت ختم ہوئی مگر قرض واپس نہیں کیا گیا۔

محترمہ کے بعد نومبر 1990ءمیں نواز شریف کا پہلا دور حکومت شروع ہوا، انہوں نے بھی 1993ءمیں ایک ارب ڈالر کے قریب بیرونی قرض لیا ۔
1994میں محترمہ کے دوسرے دور حکومت میں آئی ایم ایف سے پھر رجوع کیا گیا یہ وہ دور تھا جب قرض واپس کرنے کے بجائے بین الاقوامی اداروں کے چنگل میں پاکستان کے پھنسنے کا آغاز ہوچکا تھا۔ اور اصل رقم کے بجائے پاکستان محض اوپر کا سود ہی ادا کرنے پر اکتفا کرتا تھا۔ اسی ڈگر پردونوں مذکورہ جماعتوں نے آئی ایم ایف، ایشائی ترقیاتی بینک اور عالمی بینک سے 1995 سے 1999 تک 3پروگرام لئے جووقت سےپہلے ہی فلاپ ہوگئے۔

اس طرح ۔۔۔۔ 1999ءتک پاکستان پر بیرونی قرض کا کل حجم 39ارب ڈالر تک جا پہنچا یعنی پاکستان سود کی ادائیگی کے قابل بھی نہیں تھا یا یوں کہہ لیں کہ ڈیفالٹ اور دیوالیہ کے قریب تھا۔ رہی سہی کسر 1999ءمیں جنرل مشرف کے مارشل لاءنے نکال دی جب مارشل لاءکی وجہ سے دنیا بھر کے ممالک نے پاکستان پر اقتصادی پابندیاں لگا دیں اور آئی ایم ایف نے بھی پاکستان کے لیے قرض دینے کے دروازے بند کردیے۔
جنرل مشرف قسمت کے شاید دھنی تھے کہ اس دوران نائن الیون جیسا واقعہ ہوگیا اور امریکا کو ایک بار پھر پاکستان کی ضرورت محسوس ہوئی، نتیجے میں نہ صرف پاکستان پر پابندیوں کا خاتمہ ہوا۔ بلکہ جنرل مشرف نے پیرس کلب کے ساتھ معاہدہ کیا اور کنسورشیم کو قرضوں کی ری شیڈولنگ پر بھی راضی کرلیا۔

اس کا فائدہ یہ بھی ہوا کہ مشرف نے عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے پاکستان کو دیوالیہ ہونے سےبچا لیا۔ اور پاکستان نے سارے سود ادا کرکے اصل زر میں سے بھی پانچ ارب ڈالر کی رقم واپس کردی جو ایک بڑا معرکہ تھا۔ اس طرح 2008ءمیں پاکستان پر قرضوں کا بوجھ کم ہوکر 34ارب ڈالر رہ گیا۔
معاشی بہتری کی وجہ سے مشرف دور میں ہی ”منصوبہ 2020ء“بھی بنایا گیا جس کے مطابق پاکستان 2020ءتک ملک کے تمام قرضے ادا کردے گا، 2000ءسے 2008ءتک پاکستانی کرنسی بھی مستحکم رہی۔ 1999ءمیں 52روپے کا ڈالر تھا ۔ اس مشرف کے 9 سالہ دور اقتدار میں ڈالر 52اور62روپے کے درمیان ہی رہا۔
2008 میں پیپلز پارٹی برسر اقتدار آئی اور اس "جمہوریت” نے جمہور کا جنازہ ہی نکال دیا س دوران عالمی اداروں سے 7.2 ارب ڈالرز کا تاریخی پیکج وصول کیا گیا۔

2008ء سے 2013ء تک کے پیپلزپارٹی کے پانچ سالوں میں بیرونی قرضہ 34 ارب ڈالرز سے 59 ارب ڈالر تک جا پہنچا۔ پیپلز پارٹی نے اپنے 5 سالہ دور میں پاکستان کو 25 ارب ڈالر کا مقروض کیا، کوئی ان سے یہ پوچھے کہ مشرف تو ایک مستحکم معیشت چھوڑ گیا تھا پھر آپ کو اتنا قرضہ لینے کی کیا ضرورت تھی اور اگر قرضہ لیا تھا کہا اسے لگایا۔۔۔؟؟

بات یہیں تک محدود نہیں رہی اس کے بعد 2013ءمیں مسلم لیگ ن لیگ کا دور شروع ہوا جو 2018 تک جاری رہا اور اسے عرصے میں تو کمال ہی ہوگیا جس میں پاکستان کا بیرونی قرضہ 59 ارب ڈالر سے بڑھ کر 93 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔
صرف جولائی 2016ءسے جنوری 2017ءکے سات ماہ میں 4.6ارب ڈالر کے نئے قرضے لیے گئے ۔ اس2.3 ارب ڈالر میں سے ایک ارب ڈالر سکوک بانڈ کی فروخت سے حاصل کیے گئے۔ اس بانڈ کو فروخت کرنے کے لیے لاہور اسلام آباد موٹر وے کو ضمانت کے طور پر گروی رکھوایا گیا۔
یہ وہی موٹر وے ہے جس پر مسلم لیگ ن کی سیاست قائم ہے جس کو بنانے کا تو وہ کریڈٹ لیتے ہیں لیکن عوام کو یہ نہیں بتاتے کہ یہ موٹروے گروی ہے۔ اور لیگی رہنما یہ بھی نہیں بتاتے کہ 34 ارب دالرز کے یہ نئے قرضے آخر گئے کہاں۔۔؟؟
مسلم لیگ ن کی حکومت نے اگلے مرحلوں میں دیگر موٹر ویز سمیت، ملک کے تمام ریڈیو اسٹیشن اور اہم عمارتیں عالمی منڈی میں گروی رکھوائی دیں مقصد یہی تھا کہ پاکستان قرض کی ”نعمت“ سے استفادہ حاصل کرتارہے۔
اس لحاظ سے دیکھا جائے تو پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے ملکر صرف 10 سال (2008 سے 2018) کے دوران مجموعی طور پر پاکستان کو 59 ارب ڈالر کا مقروض کیا۔ جبکہ اس سے پہلے کے 60 سالوں میں پاکستان کل 34 ارب ڈالر کا مقروض تھا۔

اب اگر ”اندرونی“ یعنی مقامی قرضوں کی بات کریں تو اس سے مراد مقامی بینکوں سے لیا جانے والا قرضہ ہے۔ آپ کو شاید حیرت ہو کہ پاکستان کا مقامی قرض، بیرونی قرضوں سے زیادہ ہے۔ مشرف دور سے پہلے تک یہ قرضہ صرف 3ہزار ارب روپے تھا جو 9 سال میں 2 ہزار ارب کے اضافے سے 5 ہزار ارب ہوگیا۔
جبکہ پیپلز پارٹی نے اپنے دور اقتدار میں تقریباً 6 ہزارارب روپے کے اندرونی قرضے لیے جبکہ ن لیگ نے پانچ سالوں میں 9 ہزار ارب روپے کے قرضے لیے۔ اس حساب سے مشرف دور میں ہر پاکستانی 40 ہزار روپے کا مقروض تھا، پیپلزپارٹی کے دور میں 80 ہزار روپے کا ، ن لیگ دور میں ڈیڑھ لاکھ روپے اور آج پونے دو لاکھ روپے کا مقروض ہوچکا ہے۔
اب یہاں ہماری اپنے قارئین سے درخواست ہے کہ وہ پیپلزپارٹی سے تعلق رکھتے ہوں ، مسلم لیگ ن سے، تحریک انصاف سے یا کسی بھی سیاسی و مذہبی جماعت سے، تھوڑی دیر کیلئے اپنی سیاسی وابستگی کنارے پر رکھ کر صرف ایک پاکستانی کی حیثیت سے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں کہ۔۔۔
کیا ان سیاستدانوں نے ملک ک بیڑہ غرق کرنے میں بڑا کردار ادا نہیں کیا ہے۔۔۔؟؟
بات یہیں تک محدود نہیں جن جماعتوں نے ملک کو قرضوں کی دلدل میں گردن تک پھنسا دیا وہی آج جمہوریت خطرے میں ہے سمیت ملک کی بدترین معاشی و اقعصادی صورتحال کو جواز بنا کر سیاست کررہی ہیں۔
ان جماعتوں نے جتنا قرضہ لیا اگر اس میں سے 25 فیصد بھی ملک کی تعمیر و ترقی پر لگا دیا جاتا تو آج ہمارا ملک سنگاپور سے زیادہ کامیاب اور ترقی یافتہ ہوتا، شاید ہماری یہ بات آپ کو ہضم نہیں ہوئی لیکن یہ حقیقت ہے۔
یہ سمجھ لیں کہ پاکستان پر جتنا قرضہ ہے وہ اس کے حجم اور آبادی کے تناسب سے دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے، قرضوں کے دلدل میں سب سے زیادہ امریکہ ڈوبا ہوا ہے جبکہ دنیا کے 203 ممالک میں سے صرف 4 ممالک پالاؤ، برونائی، توکالاؤ اور لکٹنسٹائن یا لیختینسٹائن ایسے ملک ہیں جن پر ایک ڈالر کا بھی بیرونی قرض نہیں جبکہ دنیا کے 199 ممالک اسی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔
یعنی پوری دنیا کی مجموعی پیداوار کے مقابلے میں قرضوں کا مجموعی حجم زیادہ ہے، فرق یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر ممالک نے اگر قرضہ لیا تو اسے اپنے ملک کی تعمیر و ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود پر لگایا، اس کے برعکس پاکستانی سیاستدانوں نے قرضے لے کر اپنی جائیدادیں بناتےاور اپنے عزیزواقارب کو مالامال کرتے ہوئے اس ملک اور اس کے عوام کا بیڑہ غرق کردیا ۔
اب ایسے میں آپ ہی بتائیں، موجودہ حکومت اگر کچھ مشکل فیصلے لے رہی ہے تو اس کا ساتھ دینا چاہیئے یا نہیں۔۔؟؟ کیونکہ اب بین الاقوامی معاشی ماہرین بھی کہہ رہے ہیں کہ اگر عمران خان ان مشکل فیصلوں سے گزرنے میں کامیاب ہوگئے تو پاکستانی معیشت صرف چند سالوں میں ہی اپنے بہترین مقام پر کھڑی ہوسکتی ہے۔

آخر میں ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ موجودہ حکومت کو سب سے بڑا چیلنج ان بیرونی قرضوں کی واپسی کا درپیش ہے جو گذشتہ دس برسوں میں لیئے گئے ان قرضوں اور اس کے سود کی شکل میں پاکستان کو آئندہ 5 برسوں میں 37 ارب ڈالرز کی لازمی ادائیگی کرنی ہے۔
اس لیئے سیاسی وابستگیوں کو چھوڑیں اور پاکستانی بن کر سوچیں ، اپنےحصے کی ذمہ داری ادا کریں، ٹیکس دیں اور قرض کے بوجھ تلے ملک و قوم کو دبانے والوں سے اظہار لاتعلقی اگر نہ کرسکیں تو کم از کم ان سے سوال تو کریں کہ جو قرضہ لیا تھا آپ نے وہ گیا کہاں۔۔۔؟؟