اس خبر پر حیرت زدہ نہ ہوں شہر کرچی میں رہنے والا ہر فرد، پلاسٹک، آلودہ دھویں اور زیریلے مواد کو یومیہ اپنے اندر نگل رہا ہے لیکن نہ شہری کو س کی فکر ہے نہ متعلقہ اداروں کو اس بات کی سنگینی کا احساس ہے
ایک حالیہ تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ شہرِ قائد کے شہری ایک ہفتے میں 5 گرام پلاسٹک کھاتے ہیں، جبکہ گاڑیوں کے دھویں، ملاوٹی اشیاء اور آلودہ پانی کے ذریعے بہت سا زہریلا مواد بھی ان کے جسم میں منتقل ہورہا ہے اغذا میں شامل پلاسٹک کے ذرات اور دیگر زہریلی اشیاء انسانی زندگی کے لیے جان لیوا بننے لگی ہیں۔

اس حوالے سے عالمی ادارہ ڈبلیو ڈبلیو ایف ا نے پلاسٹک پلوشن کی تازہ تحقیق جاری کر دی ہے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پلاسٹک کے ذرات انسانی زندگی کے لیے جان لیوا ثابت ہو رہے ہیں۔
یہ رپورٹ یونیورسٹی آف نیو کاسل آسٹریلیا کے طلبہ نے عالمی ماحولیات پر تیار کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق کراچی میں پلاسٹک کے بڑھتے ذرات شہریوں کی خوراک کا حصہ بننے لگے ہیں۔
پلاسٹک کی وجہ سے کراچی کے شہریوں کا غذائی نظام بھی متاثر ہوا ہے، تحقیق کے مطابق ایک ہفتے میں 5 گرام پلاسٹک عام آدمی کی غذا کا حصہ بن رہی ہے، پلاسٹک کی آلودگی سے ہوا، پانی اور مٹی کی کوالٹی بہت متاثر ہے، پلاسٹک کی مقدار مہینے کے اوسطاً 21 گرام اور سال کے 250 گرام کے برابر ہے۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف کا کہنا ہے کہ کلفٹن کے ساحل پر ایک گرام مٹی میں 300 پیس مائیکرو پلاسٹک رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ مائیکرو پلاسٹک سے آبی جانور اور ماحول بھی سخت متاثر ہو رہا ہے۔

کراچی میں مضر صحت غذائی اشیاء، بڑھتی فضائی آلودگی اور کچرے کو ٹھکانے نہ لگانے کی وجہ سے نہ صرف شہر کچراچی بنتا جارہاا ہے بلکہ اس کے شہری میں اسے کچرے اور آلودگی کا شکار بن رہے ہیں لیکن بدقسمتی سے کسی حکومتی ادارے کی جانب سے اس ضمن میں کوئی اقدامات نہیں کیئے گئے ہیں۔
اس صورتحال نے کراچی اور اس کے باسیوں کو تقریبا لاوارث کردیا ہے بین الاقوامی شہر ہونے کے باوجود کراچی میں بنیادی شہری سہولیات ک فقدان اور انسانی حقوق کی پامالی ک عمل جاری ہے۔ جبکہ آلودگی کے تدارک اور شہر کی سڑکیں گلیاں، فضا کو بچانے کیلئے حکومتی سطح پر اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے اہالیان کراچی کیلئے شہر میں زندگی روز بروز دشوار ہوتی جارہی ہے۔