جنوبی کوریا کی مشہور کمپنی سام سنگ فائیو اور سکس جی سے لیس نیا موبائل متعارف کرانے کی تیاریوں میں مصروف ہے جس میں کمپنی پہلی بار 64 میگا پکسل کا فرنٹ کیمرا متعارف کرائے گی جبکہ ایک سے زائد کیمرے بھی دیے جانے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں جو 2020ء کے آغاز میں لانچ کیا جائے گا۔

کورین کمپنی نے نئے فون بنانے کیلیے حقوق دینے والی کمپنی میں درخواست دائر کی ہے جس میں فون کے ماڈل کا نام بتائے بغیر حقوق حاصل کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔امریکی اقتصادی جریدے کے مطابق کمپنی کی جانب سے حقوق کیلئے دی جانے والی درخواست اور لیک ہونے والی سام سنگ کے فون کی پہلی تصویر سے لگتا ہے کہ یہ فون ’بارڈر لیس‘ ہو گا یعنی فون میں کوئی بارڈر نہ ہونے کی وجہ سے اس کی اسکرین فل ڈسپلے ہوگی۔
اس سلسلے میں ملے والی معلومات اور تصاویر کے مطابق کمپنی فون کو ’گلیکسی ایس 11‘ کا نام دے سکتی ہے۔ فون میں کمپنی پہلی بار 64 میگا پکسل کا فرنٹ کیمرا دے گی۔ فون کو نیکسٹ جنریشن ٹیکنالوجی کے تحت تیار کیا جا رہا ہے جو فائیو جی اور ممکنہ طور پر سکس جی ٹیکنالوجی سے لیس ہوگی۔ اس موبائل میں بھی فنگر پرنٹ سینسر فیچر دیا جائے گا تاہم خدشہ ہے کہ بارڈر لیس ہونے کی وجہ سے فون میں کچھ کامن فیچرز نہیں ہوں گے۔

بارڈر لیس ہونے سے اس فون کے کونے اور باڈی دیگر فونز کے مقابلے باریک بنائے جانے کا قوی امکان ہے، چونکہ بارڈر لیس شپ میں سکرین فون کے بیک سائیڈ سے بالکل ملی ہوئی ہوگی اس لیے اس فون میں ’ہیڈ فون‘ جیک نہ دیے جانے کی چہ مگوئیاں بھی کی جا رہی ہیں۔ آئندہ کچھ ہفتوں میں فون کی مزید تفصیلات سامنے آئیں گی اور کمپنی اس فون کو آئندہ سال کے آغاز میں متعارف کرائے گی۔

تاہم کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ سام سنگ اتنی بیوقوف نہیں ہوسکتی کہ ایسے اہم ترین اور جدید فون میں بنیادی فیچرز کو ختم کردے اس کے لیئے ضرور کوئی متبادل حل نکالا گیا ہوگا تاہم یہ سب تفصیلات فون کے مکمل فیچرز جاری ہونے کے بعد ہی سامنے آسکتی ہیں البتہ جتنی معلومات دستیاب ہیں اس نے ہی موابئل فون صارفین میں اضطراب پیدا کردیا ہے اور وہ شدت سے اس کے مارکیٹ ہونے کا انتظار کرنے لگے ہیں۔