اثاثہ جات ظاہر کرنے کی اسکیم ختم ہوگئی، فیڈرل بیورو آف ریونیو کے ذرائع کے مطابق اسکیم سے اب تک 70 ارب روپے کا ریونیو حاصل ہوا ہےاور 1 لاکھ 10 ہزار افراد فائدہ اٹھا چکے جبکہ 25 ہزار افراد پائپ لائن میں ہیں۔
ذرایع ایف بی آر نے بتایا کہ گزشتہ سال اسکیم سے 84 ہزار افراد نے استفادہ کیا تھا، اور 124 ارب 50 کروڑ روپے کا ریونیو جمع ہوا تھا۔
دوسری جانب ایمنسٹی اسکیم کے تحت چالان جمع کرانے کی مہلت ختم ہو گئی، آخری دن ایمنسٹی حاصل کرنے والوں کے بے پناہ رش کے باعث ایف بی آر کا سسٹم بیٹھ گیا، لوگوں نے شکایت کی کہ چالان جمع کرانے کے باوجود ایف بی آر کا سسٹم اپ ڈیٹ نہیں ہو رہا، بینکوں میں بھی رش رہا۔
تاہم ذرایع ایف بی آر نے کہا کہ جمع کیے گئے چالان رات 12 بجے تک سسٹم میں آ جائیں گے۔ لیکن شہریوں نے مطالبہ کیا کہ سسٹم سست ہے تو ایمنسٹی اسکیم کی تاریخ میں مزید توسیع کی جائے۔
اسکیم کے اعلان کے بعد سے ہی کچھ لوگوں نے یہ منفی تاثر پھیلا دیا تھاکہ موجودہ حکومت بھی ماضی کی طرح چند دن تک شور کرے گی اس کے بعد سب پہلے جیسا معمول پر آجائے گا لیکن ایف بی آر نے بارہا واضح کیا تھا کہ اسکیم کے ختم ہونے کے بعد کسی سے کوئی رعایت نہیں کی جائے گی
ایسے میں جو لوگ اسکیم ختم ہونے کا انتظار کرتے رہے انھیں آخری روز معاملے کی نزاکت کا احساس ہوا اور وہ خود کو رجسٹر کرانے پہنچے تاہم ان کی غفلت نے انھیں مشکل مین دال دیا ہے۔
اس حوالے سے وزیراعظم پاکستان اور چیئرمین ایف بی آر بھی کئی دفعہ وضاحت کرچکے ہیں کہ ٹیکس نیٹ میں آنے والے افراد فائدے میں رہیں گے ماضی کی حکومتوں نے جس طرح ظاہری طور پر ترقی و خوشحالی کا ڈھنڈورا پیٹا تھا وہ اصل میں عوام سے حقائق چھپاتے رہے موجودہ حکومت نے ساری مشکلات بیان کردیکرتے ہوئے کچھ ناپسندیدہ فیصلے کیئے لیکن اس کے نتائج معیشت کی حقیقی بہتری کی سورت میں ہی نکلیں گے۔
دوسری جانب فیڈرل بورڈ آف ریونیونےاثاثے ظاہر کرنےکی اسکیم کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد کارروائیوں کا آغاز کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما سینیٹر چوہدری تنویر کی 6 ہزار کنال بے نامی جائیداد منجمد کردی ہے۔
اس حوالے سے کراچی، راولپنڈی و دیگر شہروں میں کارروائیوں کا آغاز کردیا گیا ہے، ذرائع کے مطابق یہ اراضی چوہدری تنویر کے ملازموں محمد بشارت، راجا عبدالشکور، شاہ جہاں بیگم، محمد معروف، اظہر علی اور عبدالعزیز کے نام پر رکھی گئی تھی۔ ان تمام ملازمین کو نوٹس جاری کردیا گیا ہے۔ چوہدری تنویر کی پراپرٹی منجمد کرنے کے احکامات ڈپٹی کمشنر انکم ٹیکس راولپنڈی نے جاری کیے اور کارروائی مکمل ہونے کے بعد حکومت یہ جائیداد ضبط کرسکتی ہے۔
کراچی میں بھی بےنامی جائیدادوں کےخلاف ایف بی آر نے کارروائی کرتے ہوئے کچھ جائیدادیں منجمد کردی ہیں، اب یہ جائیدادیں نہ فروخت کی جاسکتی ہیں اور نہ کسی کے نام منتقل ہوسکتی ہیں۔ان کے مالکان کو نوٹسز جاری کیے گئے ہیں جو ڈپٹی کمشنر انکم ٹیکس سید مشکور علی کی جانب سے جاری کیےگئے ۔