ایران کی یورینیئم افزودگی اور امریکی صدر کی دھمکی  

 

 

ایران اور یورپی ممالک کے درمیان طے پانے والا عالمی جوہری معاہدہ خطرے میں پڑگیا ہے، ایرانی صدر نے یورینیم افزودگی کی سطح بلند کرنے کا فیصلہ کرلیا، ایران نے یورینیم کی افزودگی کی 2015 کے جوہری معاہدے میں طے کی گئی 300 کلوگرام کی حد پار کرلی ہے، جبکہ ایرنی حکومت نے مزید سطح بلند کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

 

ایرانی صدر حسن روحانی کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ سات جولائی کے بعد ایران یورینیم افزودہ کرنے کی سطح کو بلند کرے گا، 2015 کے معاہدے میں اس سطح تک کی افزودگی کو روک دیا گیا تھا۔

 

 

قبل ازیں رواں ہفتے کے دوران ایران نے کم افزودہ یورینیم کے ذخیرے میں اضافے کی بھی تصدیق کی تھی۔ جبکہ حسن روحانی کے تازہ اعلان پر جوہری ڈیل کے حصے دار یورپی ممالک نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

 

اس سے قبل ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی کا کہنا تھا کہ امریکا کی موجودہ حکومت ہر روز دنیا کو کسی نہ کسی طرح کے بحران سے دوچار کر رہی ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹرمپ کے رویّے سے عالمی سطح پر ان کی عزت و وقار ختم ہو گیا ہے۔ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے امریکی دباؤ کے مقابلے میں استقامت کو واحد موثر ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی موجودہ صورت حال میں استقامت کا مطلب پیداواری شعبے کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینا ہے۔

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو دھمکی

 

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورینیئم افزودگی میں اضافے کو دھمکی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی دھمکیاں خود ایرانی لیڈروں کے گلے پڑ سکتی ہیں۔

 

عرب خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ ٹویٹر پر پوسٹ کی گئی ٹویٹس میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی صدر حسن روحانی نے کہاکہ 2015ءمیں طے پائے جوہری معاہدے کے بعد یورینیم کی افزودگی میں اضافہ کرچکے ہیں اور اس میں مزید اضافہ کریں گے، اگر ایران ایسا کرتا ہے تو یہ اس کی سنگین غلطی ہوگی۔

 

 

Share This Article

تازه ترین