ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا داؤدابراہیم پاکستان میں نہیں ہے، کرتارپور کوریڈور پر مذاکرات کیلئے بھارت کو 14 جولائی کی تاریخ دی جبکہ عمران خان 22 جولائی کوصدرڈونلڈٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔
ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے کہا قابض بھارتی افواج نے 3 ہفتے میں 40 نہتے کشمیریوں کو شہیدکیا، سینئر حریت قیادت کے زیر حراست ہونے پر پاکستان کو شدید تشویش ہے، سینئر حریت قیادت کو بدنام زمانہ تہار جیل میں رکھاگیا ہے۔
ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا سرینگر کےایک اخبار کے ایڈیٹر کو حراست میں لیےجانے کی مذمت کرتےہیں، بھارت عالمی برادری کو گمراہ کرنا بند کرے، اقوام متحدہ کےساتھ تعاون کرنے والوں پر تشدد کی خبروں پر شدید تشویش ہے
دفتر خارجہ کے ترجمان نے ایک بار پھر واضح کیا کہ داؤد ابراہیم پاکستان میں نہیں ہے، انھوں نےدولت مشترکہ اجلاس میں پاک بھارت وزرائے خارجہ ملاقات کے امکانات کو بھی مسترد کیا ہے۔
داؤد ابراہیم کون ہے۔۔؟؟

ممبئی کے ایک پولیس کانسٹیبل کے ہاں پیدا ہونے والے داؤد ابراہیم کے بارے میں گذشتہ کئی دہائیوں سے بھارت یہی الزام لگاتا آیا ہے کہ وہ پاکستان میں رہتے ہیں اور یہیں سے وہ بھارت میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ پاکستان بارہا یہ واضح کرچکا ہے کہ نہ داؤد ابراہیم پاکستان میں ہیں نہ ان کا حکومت پاکستان سے کوئی تعلق ہے۔
داؤد ابراہیم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اپنے مستقبل کے لیے انہوں نے قانون شکنی کا راستہ چنا اور ممبئی شہر کے جنوبی حصہ میں واقع ٹمکر سٹریٹ اور محمد علی روڈ کے ایک معمولی بھتہ خور سے جرائم پشہ دنیا کے بے تاج بادشاہ بن گئے۔ ہفتہ وار بھتے کی وصولی کے ساتھ انہوں نے منشیات کا کاروبار شروع کیا اور اپنے مخالفین کو رفتہ رفتہ راستے سے ہٹا کر وہ ممبئی کے ڈان بن گئے۔
ابتدا میں ان کا تعلق حاجی مستان اور کریم لالہ سے بھی رہا۔ اسّی کی دہائی میں جرائم کی دنیا میں حاجی مستان کا طوطی بولتا تھا اور انہوں نے داؤد ابراہیم کے سر پر ہاتھ رکھا۔ مقامی طور پر وہ اس وقت مشہور ہوئے جب ان پر ممبئی کے دو انڈر ورلڈ ڈان عالم زیب اور امیرزادہ کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا۔ ا1980 کی دہائی میں ممبئی پولیس نے داؤد ابراہیم کو گرفتار کر لیا تاہم بعد میں ضمانت پر رہا ہو کر وہ دبئی فرار ہو گئے۔ دبئی میں انہوں نے سونے کی سمگلنگ میں ہاتھ ڈالا، بالی ووڈ کی فلمی صنعت میں سرمایا لگایا اور جائیداد بنانا شروع کیا۔

اس وقت تک عام لوگ ان کے نام سے اس قدر واقف نہیں تھے۔ تاہم سال 1993 میں ممبئی میں ہونے والے 12 دھماکوں کے بعد ان کو اس وقت شہرت ملی جب ممبئی پولیس نے الزام لگایا کہ ان دھماکوں کے پیچھے ٹائیگر میمن اور داؤد ابراہیم کا ہاتھ ہے۔ اس وقت داؤد ابراہم دبئی میں تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ممبئی میں ان کے دست راست چھوٹا راجن سے ان کے تعلقات انہی دھماکوں کے بعد ختم ہو گئے تھے۔ چھوٹا راجن پر بعد میں تھائی لینڈ میں قاتلہ حملہ ہوا۔ بتایا جاتا ہے کہ داؤد ابراہیم کا نمبر دو ’ چھوٹا شکیل‘ ہے جن کے گروہ میں ابو سالم شامل تھے۔ تاہم بعد میں ابو سالم ان سے الگ ہو گئے تھے۔
2002ء میں پرتگال کی پولیس نے اعلان کیا کہ اس نے ابوسالم کو گرفتار کر لیا ہے۔ بھارتی پولیس کے مطابق ابو سالم بمبئی میں 1993 میں ہونے والے بم دھماکوں کے بڑے ملزم ہیں۔ ان دھماکوں میں 200 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ داؤدابراہیم کے دیگر قابل اعتماد ساتھیوں میں ان کے بھائی انیس ابراہیم بھی شامل ہیں۔

ان کے ایک اور بھائی اقبال کاسکر کو دبئی پولیس نے بھارت ڈیپورٹ کر دیا تھا جہاں وہ ممبئی جیل میں ہیں۔ ممبئی پولیس کے مطابق داؤد ابراہیم اور چھوٹاکر میں رہائش پزیر ہیں۔ پاکستانی حکام نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی ہے۔ اکتوبر 2003ء میں امریکی حکومت نے بھی داؤد ابراہیم کو عالمی دہشت گرد نامزد کر دیا۔
بھارتی حکومت کی نااہلی دنیا سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، داؤد ابراہیم کے بارے میں یہ سب معلومات پوری دنیا کو بھی معلوم ہیں بلکہ شاید بھارت اس سے زیادہ جانتا ہے لیکن جب بھارتی حکومت کے پاس کچھ کہنے کو نہیں ہوتا تو وہ وقت گزاری کیلئے یہ الزام عائد کردیتی ہے کہ دؤد ابراہیم پاکستان میں ہے۔ زیادہ بہتر یہ ہے کہ بھارتی حکومت داؤد ابراہیم کے بارے میں پاکستان سے سوال کرنے کے بجائے کچھ اپنی حکومت کے لیڈروں اور کچھ بالی وڈ ستاروں سے پوچھ گچھ کرے تو ان کو کامیابی مل سکتی ہے۔