پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان جمعے کو لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں میچ کھیلا جانا ہے لیکن اس میچ اور سیمی فائنل تک رسائی کیلئے قومی ٹیم کی بات سے قبل تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ ذکر کرنا موقع کے لھاظ سے مناسب رہے گا۔
ایک گیند پر ریکارڈ انہونا اسکور
واقعہ ہے 1894 کا جب وکٹوریہ اور آسٹریلیا کی ٹیموں کے درمیان میچ کھیلا جارہا تھا، بیٹسمین نے شاٹ مارا تو گیند جکر باؤنڈری لائن کے اندر واقع ایک درخت کی ٹہنیوں میں اٹک گئی، فیلڈرز گیند کیلئے بھاگے ادھر دونوں بلے باز رنز کیلئے دوڑے، گیند ہاتھ نہ کسی کو نظر آئی ادھر بلے بازوں نے بھی رنز بنانا نہیں روکے تلاش طویل ہوئی اور پھر جیسے تیسے گیند مل ہی گئی لیکن یہ کیا جب گیند لے کر فیلڈر واپس آیا تو معاملہ ہی الٹا تھا۔

امپائر نےاسکور بورڈ کی طرف اشارہ کیا تو معلوم ہوا کہ اس ایک گیند پر لگنے والے شاٹ کے نتیجے میں دو چار نہیں پورے 286 رنز بنائے جاچکے ہیں، اس وقت کوئی ایسا قانون بھی نہیں تھا کہ ان رنز پر واویلا مچایا جاتا، کہا جاتا ہے کہ دونوں بلے بازوں نے وکٹ کے درمیان جو دوڑ لگائی وہ اگر ایک لائن میں بھاگتے تو 6 کلومیٹر یعنی 6 ہزار میٹر کا فاصلہ بنتا۔
یہ تو تھا دنیائے کرکٹ کا انوکھا واقعہ لیکن ایسا اب اس لیئے نہیں ہوسکتا کہ لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں باؤنڈری لائن کے اندر کوئی درخت ہی نہیں اگر ہوتا بھی تو آئی سی سی کا ڈنڈا اتنے رنز بنانے کی اجازت ہی نہیں دیتا۔ بس اگر اس تاریخی واقعے کے مقابلے میں یہاں کوئی برتری ہے تو یہ کہ پاکستان کے پاس 300 گیندیں کھیلنے کے مواقع ہوسکتے ہیں۔
تو اب سیمی فائنل تک پہنچنے کیلئے کوئی دوسرا راستہ دیکھنا پڑے گا، اگر کپتان سرفراز احمد کی بات کریں تو وہ کہتے ہین کہ ہم معجزے کے انتظار میں ہیں کہ ایسا کچھ ہوجائے کہ اتنے بڑے مارجن سے بنگلہ دیشی ٹیم کو شکست دی جاسکے کہ سیمی فائنل تک رسائی ممکن ہوسکے۔
تو سرفراز ساحب کی معلومات کیلئے عرض ہے پہلی بات یہ کہ ہمارے کھلاڑیوں کے پاس کوئی آسمانی عہدہ تو ہے نہیں کہ ان کے ساتھ کوئی معجزہ ہوسکے، حضرت انسان تو کرشموں کا محتاج ہے اس لیئے کرشمے کی دعا کیجیئے وہ بھی ایک دو نہیں پورے 4 کرشمے درکار ہیں۔
اب آپ پوچھیں گے یہ کیا بات ہوئی 4 کرشمے کیسے تو ذرا گنتے جایئے۔
پہلا کرشمہ یہ ہو کہ پاکستانی کپتان ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کریں، اور اگر ٹاس نہ جیت سکیں تو دوسرا کرشمہ بنگلہ دیشی ٹیم کی جانب سے پاکستان کو بیٹنگ کی دعوت دینے کی صورت میں درکار ہوگا، اس کے بعد تیسرا کرشمہ سرفراز احمد کے عزم کے تحت 500 رنز بنانے کی صورت میں رونما ہونا چاہیئے اور جب یہ تین کرشمے بھی ہوجائیں تو چوتھا کرشمہ یہ ہو کہ پکستانی باؤلرز بنگلہ ٹیم کو 184 رنز تک محدود کردیں بشرطیکہ شکیب الحسن آڑے نہ آجائیں۔
ان 4 کرشموں کے ہونے کے بعد بھی سیمی فائنل میں فتح اور ورلڈ کپ فائنل جیتنے کیلئے بھی 2 کرشموں کی پاکستان کو ضرورت پڑے گی، لیکن اس کی پکی امید ان 4 کرشموں کی رونمائی کے بعد لگائی جاسکتی ہے۔
اب ذرا کرشموں سے نکل کر حقیقت حال کی جانب بھی آجائیں ویسے تو بنگلہ دیش کا ون ڈے کرکٹ میں کم سے کم اسکور 58 ہے جو اس نے ورلڈ کپ 2011 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف بنایا تھا لیکن سچ یہ ہے کہ آج کی بنگالی ٹیم وہ 8 برس قبل والی نہیں ہے۔
تاریخ یہ بھی کہتی ہے پاکستان نے ون ڈے کی تاریخ میں سب سے زیادہ رنز گزشتہ سال زمبابوے کے خلاف بنائے تھے، جہاں فخر زمان کی ڈبل سنچری کی بدولت پاکستان نے ایک وکٹ پر 399 رنز اسکور کئے تھے ، اس بار بھی بیٹنگ میں کچھ ایسی ہی کرشماتی کارکردگی دکھانی ہوگی۔
پاکستان کی بنگلہ دیش کے خلاف رنز کے اعتبار سے سب سے بڑی فتح 233 رنزکی ہے جو 19 سال قبل حاصل کی تھی، اب اس تاریخ اور کرشموں کو سامنے رکھ کر پاکستانی ٹیم جب میدان میں اترے گی تو ٹاس کے ساتھ ہی چند منتوں میں ابتدائی دو کرشموں کا تو فیصلہ ہوجائے گا جن کے ہونے کی صورت میں اگلے دو کرشموں کیلئے پورا میچ دیکھنا پڑے گا۔
لیکن اب پاکستانی قوم ان کرشموں کیلئے شاید دعا نہ کرے اس لیئے سرفراز احمد سمیت پوری ٹیم کو پورے 4 کرشمے رونما ہونے کیلئے دعاؤں کا خصوصی اہتمام کرنا ہوگا، باقی اللہ مالک۔