امریکی ڈالر کی باقاعدہ شروعات امریکی ’’کانٹی نینٹل کانگرس‘‘ نے آٹھ ستمبر 1786ء کو کی، البتہ ڈالر کا ماضی سولہویں صدی تک جاتا ہے جس میں قصبہ ’’باواریا‘‘ کا نام بھی آتا ہے۔

 

جب کسی سے پوچھا جاتا ہے کہ امریکی ڈالر کا آغاز کہاں سے ہوا تو اکثر اوقات وہ اندازے سے کہتا ہے، امریکا سے، لیکن یہ پورا سچ نہیں، بہت سے تاریخ دانوں کے مطابق ڈالر کا آغاز ایک چھوٹے سے قصبے باواریا سے ہوا۔

1518ء میں اس قصبے نے چاندی کے معیاری سکے جاری کرنے کا آغاز کیا۔ چاندی کو قریبی کانوں سے حاصل کیا گیا تھا، ان سکوں کا معیاری وزن 29.2 گرام تھا۔ ان سکوں کو ’’تھالر‘‘ کہا جاتا تھا کیونکہ جرمن میں ’’تھال‘‘ کے معنی ہیں ’’وادی‘‘، اور یہ سکے ایک وادی سے بن کر آتے تھے، جلد ہی یورپ بھر میں معیاری کرنسی کی اہمیت کو محسوس کیا جانے لگا۔

ملکوں نے معیاری تھالر سکے کو کامرس کے لیے اختیار کر لیا، مختلف حکومتیں مختلف طرح کی چاندی استعمال کرتیں اور اس کی پیداوار کے طریقے بھی مختلف ہوتے، لیکن بنائے جانے والے تمام تھالر ایک جیسے ہوتے، یوں یورپ میں تھالر ایک معیار بن گیا۔

 

ہسپانوی ڈالر:

جب ’’پرانی دنیا‘‘ نے ’’نئی دنیا‘‘ کو تلاش کرنے کا آغاز کیا، تو تھالر یا ڈالر زیادہ جگہوں پر پھیل گیا۔ ہسپانوی مہم جوؤں نے میکسیکو اور دیگر نوآبادیوں میں قیمتی معدنیات دریافت کیں، انہوں نے انہیں استعمال میں لاتے ہوئے چاندی کے ہسپانوی ڈالر بنانے شروع کیے۔

چند ہی سالوں میں چاندی کا ہسپانوی ڈالر براعظم شمالی و جنوبی امریکا کی نوآبادیوں میں سب سے عام برتا جانے والا سکہ بن گیا، لیکن اس سے کاروباری لین دین میں پیچیدگیاں پیدا ہو رہی تھیں، اس لیے امریکا نے ایک معیاری کرنسی رائج کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔

 

 

کانگرس کے تھالر کو سرکاری کرنسی بنانے کا فیصلہ:

امریکی انقلاب کے بعد ریاست ہائے متحدہ امریکا کی کانگرس کو ایک بڑا فیصلہ کرنا تھا کہ نئے بننے والے ملک کی سرکاری کرنسی کیا ہو گی؟ 1785 میں امریکی کانگرس نے یورپی تھالر کو پورے امریکا میں معیار مان لیا، اس مرحلے پر جرمن لفظ ’’تھالر‘‘ کو انگریزی روپ دیتے ہوئے ’’ڈالر‘‘ بنا دیا گیا۔ دونوں ایک ہی طرح سے ادا کیے جاتے تھے۔

1792ء کے ’’کوائن ایج ایکٹ‘‘ نے امریکی ڈالر کو قومی کرنسی بنانے کی بنیادیں مزید مستحکم کر دیں، اس ایکٹ کے نفاذ سے مالیات کا منظم نظام وجود میں آیا جس میں سونے، چاندی اور کانسی کو برتا گیا۔

 

 

1861ء اور خانہ جنگی:

امریکا میں خانہ جنگی 1861ء اور 1865ء کے درمیان ہوئی، اس وقت امریکا کو ایک بڑے مسئلے کا ادراک ہوا، اسے جنگ کے لیے زر کی ضرورت تھی، لیکن اس کے پاس سونے، چاندی اور کانسی کا محدود ذخیرہ تھا۔

پس امریکا نے 1861ء میں کاغذ کے نوٹ یا ’’گرین بیک‘‘ جاری کرنا شروع کر دیے تاکہ خانہ جنگی کو مالی مدد فراہم کی جا سکے، باوجود اس کے کہ روایتی دھاتی سکوں کی نسبت کاغذ کے نوٹوں کی نقل تیار کر نا آسان تھا، اسی دوران امریکی خزانے نے نقلی نوٹوں سے نپٹنے کے مختلف اقدامات شروع کر دیے، ان میں خزانے کی مہر اور کندہ شدہ دستخط شامل تھے۔

1863ء میں کانگرس نے قومی بینکنگ نظام متعارف کروایا جس نے امریکی ٹریژری کو قومی بینک کے نوٹوں کی نگرانی کا اختیار دیا، اس سے قومی بینکوں کو زر تقسیم کرنے اور امریکی بانڈز خریدنے میں زیادہ آسانی ہوئی تاہم اسے ریگولیٹ کیا جاتا تھا۔

 

 

ڈالر کا چاندی اور سونے سے رشتہ:

ماضی میں تھالر یا ڈالر کی بنیاد چاندی کی قیمت تھی، البتہ آج کل ڈالر کی طرح زیادہ تر کرنسیوں کی قدر سونے کی قیمت سے منسلک ہے، یہ تبدیلی کب ہوئی؟ تاریخ کے ادوارمیں چاندی اور سونے کی تجارت کا تناسب کم و بیش ایک جیسا رہا ہے، یوں تجارت میں ایک ’’دو دھاتی نظام‘‘ رائج تھا۔

کئی صدیوں تک سونے کے ایک اونس کی قیمت چاندی کے 15 یا 16 اونس کے برابر رہی، تھالر نظام نے چاندی کی قیمت کے ساتھ سونے کو بھی معیار بخشا، پھر سونے کو زیادہ مستحکم جنس سمجھا جانے لگا اور یہ کرنسی کی قدر کا زیادہ پسندیدہ پیمانہ بن گیا۔

 

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے