ایران نےبرطانیہ سےجبرالٹر میں پکڑے گئےاپنےآئل ٹینکر کو چھوڑنےکا مطالبہ کیا ہےاورخبردار کیا ہےکہ اگرٹینکرنہیں چھوڑا گیا توبرطانوی آئل ٹینکرز کو ایران کی جانب سے قبضے میں لیا جاسکتا ہے، دوسری جانب امریکہ نے برطانیہ کےاس اقدام کو سراہتےہوئےامریکہ اوراس کےاتحادیوں کی جانب سے برطانیہ کےعمل کومکمل سپورٹ کرنےکا اعلان کیا ہے۔

 

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کارروائی پر ایران نے جمعے کے روز برطانوی سفیر کو طلب کرکے باضابطہ احتجاج کیا اور ایرانی وزارت خارجہ کے سینئر حکام نے برطانوی سفیر سے ملاقات کے دوران برطانیہ کی اس کارروائی کو ناقابل قبول قرار دیا۔

 

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان کے پاس مصدقہ اطلاعات ہیں کہ برطانیہ نے یہ کارروائی امریکا کےکہنے پر کی ہے۔

 

جبکہ جبرالٹر حکومت کا کہنا ہے کہ انھوں نے برطانیہ کی مدد سے ایرنی آئل ٹینکر اس لیے قبضے میں لیا کہ وہ شام کیلئے تیل لےکرجارہا تھا جبکہ شام پر یورپی یونین کی جنب سے پابندیاں عائد ہیں، جبرالٹر انتظامیہ نے برطانوی سپریم کورٹ کی ہدایت پر ایرانی آئی ٹینکرکا ریمانڈ بھی بڑھا دیا ہے۔

 

اسی طرح کا مؤقف برطانیہ کی جانب سے بھی آیا ہے، برطانوی شاہی میرینز، پولیس اور کسٹم حکام نے جمعرات کے روز ایرانی کروڈ آئل لے کر شام جانے والے ٹینکر کو پکڑا تھا اور اسے جبرالٹر کے ساحل پر لنگر انداز کروایا گیا ہے برطانیہ نے آئل ٹینکرکے ذریعے شام کو تیل کی ترسیل  یورپی یونین کی جانب سے شام کے صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف عائد کی جانے والی پابندیوں کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔

 

برطانوی حکام کا مزید کہنا ہےکہ ٹینکر کے کریو ممبران کے بطور گواہان بیان لیے جارہے ہیں جس میں کارگو کی نوعیت اور حتمی منزل کا تعین کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

 

ادھر ایران کے سینئر عسکری حکام نے واقعے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر آئل ٹینکر کو فوری طورپرنہ چھوڑا گیا تو یہ تہران کا فرض ہے کہ وہ اس کارروائی کا ایسے ہی جواب دے اور برطانوی ٹینکرکو بھی قبضے میں لے لیا جائے۔

 

ایرانی مؤقف کی حمایت میں اسپینش حکام نے بھی برطانیہ اور جبرلٹر انتظامیہ سے کہا ہے کہ وہ ایرانی آئل ٹینکر کو فوری چھوڑدیں، ورنہ خطے میں سورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔

 

مبصرین کےمطابق خلیج میں ایرن امریکہ کشیدگی کی شدت میں تیزی سے بدلاؤ آتا جارہا ہے لیکن تازہ ترین واقعےسے خدشہ ہے کہ اس کشیدگی کا نتیجہ خطرنک صورت میں نکل سکتا ہے بہتر ہے کہ برطانیہ اس معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرے۔

 

جبرالٹر جزیرہ نما آئبیریا کے انتہائی جنوب میں برطانیہ کے زیر قبضہ علاقہ ہے جو آبنائے جبل الطارق کے ساتھ واقع ہے۔ جبرالٹر کی سرحدیں شمال میں اسپین کے صوبہ اندلس سے ملتی ہیں۔ جبرالٹر تاریخی طورپربرطانوی افواج کے لیے انتہائی اہم مقام ہے اور یہاں برطانوی بحریہ کی بیس قائم ہے۔

 

جبرالٹر عربی نام جبل الطارق سے ماخوذ ہے جو بنو امیہ کے ایک جرنیل طارق بن زیاد کے نام پر جبل الطارق کہلایا جنہوں نے 711ء میں اندلس میں فتوحات حاصل کرنے کے بعد یہاں مسلم اقتدار کی بنیاد رکھی تھی۔

 

اسپین نے برطانیہ سے جبرالٹر واپس کرنے کا مطالبہ کررکھا ہےجو 1713ء میں ایک معاہدے کے تحت برطانیہ کے حوالے کیا تھا۔

 

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے