مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے ہفتے کو اپنی پریس کانفرنس میں احتساب عدالت کے جج کی مبینہ آڈیووڈیودکھاکر ملکی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل مچانے کی کوشش کی ہے ان کا کہنا ہےکہ نواز شریف کےخلاف فیصلہ کرانے کیلئے حکومت نے جج کو بلیک میل کیا جس کا اعتراف احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے اس وڈیو میں کیا ہے۔
وڈیو اصلی ہے یا نقلی یہ تو چند دنوں میں پتہ لگ ہی جائے گا لیکن قارئین کیلئے یہ جاننا بھی شاید ضروری ہے کہ جج کے پاس بیٹھا شخص اصل میں کون ہے۔۔۔؟؟
اس شخص کا پورا نام ناصر محمود بٹ ہے جو ن لیگ کا پرانا کارکن ، مسلم لیگ ن برطانیہ کا صدر اور میاں نواز شریف کا خاص دست راست ہے، ناصر بٹ پر1982 سے 1996 کےدوران راولپنڈی اسلام آباد کے مختلف تھانوں میں 14 مقدمات درج کیئے گئے تھے جن میں اقدام قتل، کارسرکار میں مداخلت، غیر قانونی اسلحہ رکھنے سمیت دیگر الزامات عائد ہیں۔
ناصر بٹ پر قتل کے 5 الزامات بھی ہیں جن میں سزا سے بچنے کیلئے وہ لندن فرار ہوا اور وہاں نواز شریف کے بہت سے کام بھی انجام دیتا رہا ۔ جس کے صلے مین میاں محمد نواز شریف نے اسے مسلم لیگ ن برطانیہ کا صدر بنادیا تھا۔
پاکستان میں قائم مقدمات کے علاوہ ناصر بٹ کو 10 جولائی 2018 میں لندن پولیس نے ہاتھا پائی کے الزام میں گرفتار بھی کیا تھا جس کے بعد وہ ضمانت پر رہا ہوا۔

ناصر بٹ پر قائم مقدمات میں پہلا مقدمہ 9 جون 1982 کو کارسرکارمیں مداخلت کےالزام میں تھانہ مری روڈ میں درج کی گیا تھا۔
28 جنوری 1986 کو تھانہ سٹی میں اقدام قتل کا مقدمہ درج ہوا۔
23 مئی 1986 کو تھانہ صادق آباد میں قتل اور اقدام قتل کا مقدمہ درج ہوا۔
4 جون 1986 کو تھانہ گنج منڈی میں ناجائز اسلحہ کا مقدمہ درج ہوا۔
15 دسمبر 1986 میں تھانہ صادق آباد میں زنا اور پولیس پر حملے کا مقدمہ درج ہوا۔
2 دسمبر 1987 کو تھانہ گنج منڈی میں ہی اقدام قتل، قتل میں معاونت کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔
27 مارچ 1990 کو تھانہ آر اے بازار میں اقدام قتل کا مقدمہ ، 17 مئی 1993 میں تھانہ وارث خان میں اقدام قتل کا مقدمہ، 7 اکتوبر 1993 کو تھانہ گنج منڈی میں اقدام قتل کا مقدمہ درج ہوا۔
ناصر بٹ کے خلاف 20 مئی 1994 کو تھانہ گوجر خان میں غفلت سے گاڑی چلاتے ہوئے ایک شخص کو قتل کرنے کا مقدمہ بھی درج ہے۔
8 اپریل 1996 میں اسلام آباد میں تھانہ کوہسار ، 14 اکتوبر 1996 میں تھانہ گنج منڈی اور 15 اکتوبر 1996 میں تھانہ صادق آباد میں مختلف جرائم کے تحت مقدمات درج کیئے گئے۔

ملزم ناصر بٹ کے خلاف مختلف عدالتوں نے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کررکھےہیں جس کے تحت وہ اشہتاری اورمفرورقرار دیا جاچکا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک ایسا شخص جو نہ صرف پارٹی کا پرانا کارکن ہو بلکہ مختلف سنگین مقدمات میں مطلوب اوراشتہاری بھی ہو وہ ایک معزز جج کے پاس کس حیثیت سے گیا تھا۔۔؟؟
اور معزز جج نے اس ناصر بٹ نامی شخص کو کیونکر اپنےراز کی باتیں بتائیں۔۔؟
ناصر بٹ نے جس طرح جج سے ملاقات کی اور چائے ، بسکٹ سے اس کی تواضح کی گئی اس کا ایسا کیا تعلق ہے معزز جج سے اور اسکے پیچھے کیا حقائق ہیں ۔۔؟؟

یقینا ان سوالات کے جوابات بھی جب عوام کے سامنے آئیں گے تو بہت سے رازوں سے پردہ اٹھے گا اور ممکنہ طور پر مسلم لیگ ن کی جاری کردہ اس مبینہ وڈیو کا اصل سچ بھی سامنے آجائے گا، کیونکہ لگتا یہی ہے کہ یہ آدھا سچ ہے جو پورے جھوٹ سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے جب پورا سچ سامنے آئے گا تو کس کس کو مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا یہ وقت ہی بتائے گا۔
دوسری جانب قانونی ماہرین کے مطابق مسلم لیگ ن نے جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وڈیو جاری کی انھیں چاہیئے تھا کہ پہلے خود اس کا فارنزک ٹیسٹ کرواتے اور اس کے صحیح ہونے پر باقاعدہ اعلیٰ عدالت کے ذریعے نواز شریف کے خلاف فیصلے کو چیلنج کیا جاتا لیکن اب وڈیو سامنے آنے کے بعد اگر اس میں جھوٹ نکلا تو نواز لیگ کو توہین عدالت کے تحت اپنا بچاؤ کرنا بہت مشکل ہوجائے گا۔