قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے ورلڈ کپ سے باہر ہونے کے باوجود ٹیم کی کارکردگی کو بہتر قرار دیدیاہے ان کا کہنا ہے کہ رن ریٹ کی وجہ سے سیمی فائنل مین نہ پہنچ سکے لیکن ٹیم 11 پوائنٹس کے ساتھ واپس آئی ہے۔ کپتانی نہیں چھوڑ رہا ، کپتان چیئرمین پی سی بی نے بنایا تھا اور اب فیصلہ بھی انہیں ہی کرنا ہو گا ۔

قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں قومی ٹیم کی کپتانی نہیں چھوڑ رہا ، چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ نے مجھے کپتان بنایا ہے اور اب انہیں ہی فیصلہ کرنا ہو گا ، سارے فیصلے بورڈ ہی کرتا ہے،کپتان سرفراز کا کہناتھا کہ شروع کے میچز میں ٹیم کی پرفارمنس اچھی نہیں رہی ، میں مانتا ہوں کے پہلے پانچ میچ میں ہم اچھا نہیں کھیلے ، انگلینڈ کیخلاف میچ میں کم بیک کیا اور آخری چار میچز میں ٹیم نے بہت اچھی کارکردگی دکھائی ۔

ان کا کہناتھا کہ آسٹریلیا اور بھارت کے خلاف میچ میں ہم اچھا نہیں کھیلے بھارت سے شکست کے بعد کھلاڑیوں کے ساتھ برے واقعات ہوئے ،ٹیم کے ساتھ جو واقعات ہوئے وہ بالکل اچھا نہیں تھا ۔ وہ ایک ہفتہ پوری ٹیم پر بہت بھاری گزرا۔

کپتان سرفراز احمد نے اپنی پرفارمنس کے سوال پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنی بیٹنگ کے بارے میں نہیں سوچا، ٹیم کا سوچا تھا، حارث سہیل اچھی فارم میں ہیں اس وجہ سے میں نیچے کھیل رہا تھا۔

پریس کانفرنس میں کپتان سرفراز احمد نے ٹورنامنٹ کے ناکام میچز پر اظہار افسوس بھی کیا اور کہا کہ آسٹریلیا اور بھارت کے خلاف میچ میں ہم اچھا نہیں کھیل سکے، بدقسمتی سے سری لنکا کے خلاف میچ بارش کی نذر ہوا۔

ورلڈ کپ میں فاسٹ بولر حسنین کو موقع نہ دینے پر کپتان کا کہنا تھا کہ شاہین شاہ آفریدی فارم میں تھے جس کی وجہ سے حسنین کو موقع نہ مل سکا۔

۔سرفرازاحمد کا کہناتھا کہ میں اپنی اور ٹیم کی کارکردگی سے مطمئن ہون ۔ پہلے میچ میں شکست سے رن ریٹ بہت گر گیا ، کوشش تھی کہ جہاں موقع ملے اچھے مارجن سے جیتیں اور رن ریٹ اچھا ہو جائے لیکن ایسا نہ ہو سکا ، پچز کی وجہ سے بڑے مارجن سے نہیں جیت سکے ۔ان کا کہناتھا کہ ناکامیوں پر سب کی طرح ہمیں بھی دکھ ہوتاہے ، ٹیم جیتنے کیلئے گئی تھی ، شروع کے میچز میں کیچ ڈراپ ہوئے لیکن آخری میچز میں مشکل کیچ بھی پکڑے ۔
شعیب ملک کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ وہ ہمارے سینئر ساتھ اور بہترین کھلاڑی ہیں ان کو ہن نے فیئر ویل بھی دی، ٹیم میں گروپنگ کے حوالے سے سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ سب ایک ہیں سب کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ جس کے خلاف بھی کھیلیں ایک ٹیم بن کر کھیل جائے۔