افغان حکومت و طالبان کے امن مذاکرات اور خودکش حملے  

 

افغانستان کے صوبے غزنی میں انٹیلی جنس کے دفتر پر طالبان کے کار بم حملے میں 8 پولیس اہلکاروں سمیت 14 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے، جبکہ دوسری جانب قطر میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن مزاکرات کا بھی آغاز ہوگیا ہے۔

 

افغان حکام کے مطابق طالبان نے غزنی میں این ڈی ایس کے یونٹ کو نشانہ بنایا جس میں 8 اہلکاروں سمیت 13 افراد اور ایک بچہ ہلاک ہوئے، حکام کے مطابق خود کش حملے میں 180 افراد زخمی بھی ہوئے جن میں 60 بچے بھی شامل ہیں جو جائے وقوعہ کے قریب ہی واقع اسکول میں موجود تھے۔

 

غزنی کے ہیلتھ ڈائریکٹر زاہر شاہ نکمال کا کہنا ہے کہ زخمیوں کی تعداد زیادہ ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے، طالبان نے این ڈی ایس کے دفتر پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

 

ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں این ڈی ایس کے درجنوں افسران یا تو مارے گئے یا پھر زخمی ہوئے۔

 

قطر مذاکرات

 

 

دوسری جانب قطر اور جرمنی کے تعاون سے افغان وفد اور طالبان کے درمیان افغانستان میں جنگ کے خاتمے اور قیام امن کے لیے دو روزہ کانفرنس کا آغاز ہو گیا ہے۔

 

افغانستان کے سیاستدانوں، سول سوسائٹی اور صحافیوں پر مشتمل 50 رکنی وفد طالبان سے دوحہ میں ملاقات کر رہا ہے جس میں قیام امن سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا، پاکستان میں سابق افغان سفیر عمر زخیلوال بھی کانفرنس میں شریک ہیں جن کا کہنا ہے کہ طالبان سے ملاقات کا مقصد امن مذاکرات کو آگے بڑھانا ہے جب کہ آج کی کانفرنس امریکا اور طالبان کے درمیان جاری مذاکرات کا حصہ ہے۔

 

طالبان نے افغانستان کی موجودہ اشرف غنی حکومت سے براہ راست مذاکرات سے صاف انکار کر رکھا ہے تاہم طالبان کا کہنا ہے کہ حکومتی افراد ذاتی حیثیت میں کانفرنس میں شریک ہو سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ طالبان افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کے حق میں نہیں اور وہ اشرف غنی حکومت کو امریکا کا کٹھ پتلی قرار دیتے براہ راست امریکا سے مذاکرات کو ترجیح دیتے ہیں۔

 

 

 

Share This Article

تازه ترین