مہنگائی نہیں ہماری اپنی غفلت کا جرمانہ۔۔۔!!  

 

 

اس عنوان سے تحریر لکھنے کا کئی دنوں سے سوچ رہا تھا لیکن اس سے قبل درجنوں بار سوچا کہ کیا واقعی مہنگائی کی وجوہات پر کچھ لکھنا چاہیئے کیا ہماری قوم سچ سننے کی طاقت رکھتی ہے، کیا طبقوں، گروپوں اور سیاسی جماعتوں میں بٹے لوگ یہ برداشت کرپائیں گےکہ انھیں یہ سچ بتایا جائے کہ آج کی اس ہوشربا مہنگائی کے وہ خود ذمہ دار ہیں۔۔۔؟؟

 

پھر ایسا واقعہ ہوا کہ مجبور ہوگیا کہ یہ تحریر اب لکھنی ہی چاہیئے کم ازکم 22 کروڑ عوام میں سے 22 لوگ تو ایسے ہوں گے جو اسے سمجھ سکیں، اپنی غلطیوں کو پہچان سکیں۔

 

واقعہ کچھ یوں ہے کہ اتوار کی صبح کراچی کی پھل و سبزی منڈی جانے کا اتفاق ہوا مقصد یہ تھا کہ کچھ موسمی پھل اور کچھ سبزیاں خرید لی جائیں، عام طور پرتو ہم اپنے محلے کی دکانوں سے ہی خریداری کرلیتے ہیں لیکن اتوار کو سپرہائی وے پر ایک کام سے جانا تھا تو سوچا منڈی بھی ہوتے چلیں۔

 

 

خیر منڈی میں داخل ہوئے تو انواع اقسام کے پھل نظر آئے جو کہیں سلیقے سے لگے ہوئے تھے تو کہیں ان کا انبار لگا ہوا تھا، ان کے نرخ پوچھتے پچھاتے آگے بڑھے اور ایک دکان سے پھل خریدنے کا فیصلہ ہوا، کچھ قیمتوں کا اتار چڑھاؤ کرنے کی کوشش کی، لیکن دکاندار کا اصرار تھا کہ قیمت مناسب ہے صاف ستھرا مال ہے اس کے پیسے کم نہیں ہوں گے خیر شہر کی عام دکانوں سے بہرحال نرخ کم تھے سو، خریداری کا فیصلہ فائنل ہوا سارے پھل اپنے سامنے نکلوائے اور دکاندار کی منشا کے مطابق اسے رقم دے کر سامان وہیں رکھوایا کہ اب ذرا سبزی لے لی جائے۔

 

دکاندار کے پاس پھلوں کے شاپرز رکھوا کر سبزی لینے گئے وہاں بھی کم وبیش صورتحال وہی تھی، خیر جیسے تیسے سبزی بھی خریدی اور واپسی میں پھل اٹھا کر گھر آگئے، گھر آکر جو پھلوں کی تھیلیاں کھولیں تو یہ کیا۔۔۔؟؟  جو ہم نے پھل نکالے تھے ان میں وہ سب سامان اور مقدار تو تھی لیکن کئی تھیلوں میں گلے سڑے پھل ہمارا منہ چڑا رہے تھے، یعنی جتنی دیر سبزی لینے گئے اتنی دیر میں دکاندار نے اپنا کام دکھادیا اور اچھے اچھے پھل نکال کر اس میں کچھ گلے سڑے پھل رکھ دیئے۔

 

 

تقریبا 12 کلو مختلف اقسام کے پھلوں میں سے 3 کلو ناقابل استعمال پھل نکلے، جس کی قیمت 210 روپے بنتی تھی اس حساب سے دیکھا جائے تو ہمیں 9 کلو پھل ملے اور خراب پھلوں کی قیمت منہا کردی جائے بقیہ پھلوں کے نرخ تو ہمیں عام دکانوں سے بھی مہنگے پڑ گئے۔

 

جس دکاندار سے ہم نے پھل خریدے وہ شکل اور اپنی دکان کے سائز کے حساب سے کوئی لینڈ لارڈ نہیں لگتا تھا ایک عام سا دکاندار تھا لیکن اب اس کی باتیں یاد آرہی تھیں ، بھیا کیا کریں بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے محنت مزدوری کرتے ہیں، خیر اس طرح کا واقعہ شاید صرف ہمارے ساتھ ہی پیش نہیں آیا ایسے یقینا بے شمار لوگ ہیں جو روزمرہ ایسے واقعات کا شکار ہوتے ہیں، اس کی وجہ کیا ہے اس کی وجہ بہت سادہ ہے یعنی ہم صرف اپنے لیئے جیتے اور اپنا بھلا سوچتے ہیں یہ معاشرہ، یہ قوم، یہ ملک کہاں جارہا ہم اس کے ساتھ زیادتی کیوں کررہے ہیں اس سے کسی کو غرض نہیں۔

 

اب اپنی تحریر کے عنوان کی طرف آتے ہیں مہنگائی کا تو رونا بہت پرانا ہے لیکن ان دنوں مہنگائی کا جن واقعی بے قابو ہوچکا ہے، اس کا ایک آسان حل تو یہ ہے کہ ہم حکومت وقت کو گالیاں دیتے ہوئے اپنا غبار نکال لیں، معیشت کی زبوں حالی پرگرما گرم بحث کرتے رہیں، اور زیادہ برا لگے تو احتجاج توڑ پھوڑ کرتے ہوئے قانون اپنے ہاتھ میں لے لیں یا پھر دوسرا طریقہ ہے جو بہت مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں وہ یہ کہ زندہ قوموں کی طرح ایک دوسرے کا خیال کریں، سادگی اپنائیں، خود پر واجب الادا ٹیکس دیں، کرپشن اور بددیانتی سے پرہیزکریں، اس دکاندار کی طرح چھوٹی موٹی چوریاں بھی نہ کریں کہ یہی چوری بڑی ہوکر کسی اور شکل میں آپ کے سامنے واپس آتی ہے۔

 

 

عمران خان کی حکومت اور ان کے وزرا کام اچھا کررہے ہیں یا برا کس کا بیان کیا ہے کون اپنے وعدوں سے مکر گیا ابھی ان سب پر بات کرنے کا نہ وقت ہے نہ موقع لیکن یہ ضرور ہے کہ ٹیکس نیٹ کو بڑھانے اور ملک کی معیشت کو سنبھالا دینے کے ان کے مشکل ترین اور غیر معروف فیصلوں کی تائید ضروربنتی ہے۔

 

یہ تائید اس لیئے بھی ضروری ہے کہ ہم نے ماضی میں کبھی اپنی حکومتوں سے نہیں پوچھا کہ ان کی اقتصادی پالیسیاں کیا ہیں، وہ بیرونی قرضے کیوں لے رہے ہیں اور انھیں عوام کی فلاح کے کون سے منصوبوں پر خرچ کیا جارہا ہے۔۔؟؟

 

ہمیں ان کے کرتوت جب پتہ چلتے تھے جب کوئی دوسری حکومت آکر ماضی کی حکومت کے رازوں سے پردہ اٹھاتی تھی، کچھ دن واویلا کرکے ہم پھر 5 سال کیلئے سوجاتے تھے اور پھر آزمائے کو آزماتے ہوئے اقتدار اسے تھما دیتے تھے جاؤ جو چاہے کرنا ہے کرو۔

 

اس کا نتیجہ سامنے ہے، ماضی میں لیپا پوتی کے ذریعے معیشت کو اوپری سطح سے چمکا کر عوام کو بے وقوف بنایا جاتا رہا، لاکھ میں سے 10 ہزار عوام پر خرچ کرکے انھیں خاموش کرایا جاتا اور 90 ہزار جیب میں ڈال لیئے جاتے تھے، یہ وہ 90 ہزار ہیں جو آج 90 ہزار کروڑ بن کر آپ کی جیبوں پر بھاری پڑ رہے ہیں۔

 

 

اگر عوام بیدار رہتی تو ان پر یہ بوجھ نہیں پڑتا، "آج کی مہنگائی پر کوئی شبہ نہیں لیکن اسے فقط مہنگائی نہ کہیں بلکہ یہ ہماری اس غفلت اور لاپرواہی کا جرمانہ ہے” جو ہم کئی دہائیوں سے کرتے آرہے ہیں یہ بہت بڑا اجتماعی جرم تھا جس کی سزا بھی اجتماعی ہوگی اور اس کا جرمانہ بھی سب کو ہی ادا کرنا ہوگا۔ اور ویسے بھی ہم نے تو سیکھ رکھا ہے جیسے تیسے اپنا خرچہ چلانا اس کو توپی اس سے چوری اس سے بددیانتی، تو پھر ہمیں فکر بھی نہیں رہی کہ کون کیا کررہا ہے وہ تو اب پانی ناک تک آگیا سانس رکنے لگی تو واویلا کچھ زیادہ ہی شروع ہوگیا۔ ورنہ شاید ہم اب بھی سوہی رہے ہوتے۔

 

یاد رکھیں سیاسی حکومتوں کی طرح ہم میں سے ہر ایک شخص بھی پاکستان کی اس صورتحال کا ذمہ دار ہے کیونکہ ہمیں جب اور جہاں موقع ملتا ہے ہم چوری بھی کرتے ہیں ، بددیانتی بھی اور کرپشن بھی، فرق یہ ہے کہ اس کی نوعیت اور انداز الگ الگ ہوتے ہیں۔ اسی لیئے ہم نے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں جو جیسا کررہا ہے کرنے دو اپنا تو کام پورا ہورہا جب خود پر آئے گی تو دیکھیں گے، تو بھیا خود پر آگئی ہے۔۔۔ اب وقت احتجاج کا نہیں آنکھیں کھول کر اپنی ذمہ داری ادا کرنے کا ہے۔

 

 

اس لیئے یہ یاد رکھیں کہ اس  جرمانے کو ادا لازمی کرنا ہوگا اور اگر مستقبل میں اس سے بچنا ہے، اس میں اضافہ روکنا تو آج سے ہی خود کو اور دوسروں کو کرپشن، چوری اور بددیانتی سے روکیں اگر نہیں روکیں گے نہیں سنبھلیں گے، اپنی ذمہ داری کا احساس نہیں کریں گے تو اس سے بھی بڑا جرمانہ آپ کا منتظر ہوگا۔

 

 تو مہنگائی پر چیخنے چلانے سے پہلے ذرا خود سے ایمانداری سے سوال ضرورکریں کیا آپ نے اپنی پوری زندگی مکمل دیانتداری سے گزاری ، کسی کا حق نہیں مارا کیا آپ کا اس مہنگائی بڑھانے میں اپنا حصہ نہیں ہے۔۔۔؟؟

اگر ہے تو اس غفلت کا جرمانہ بھی اس مہنگائی کی صورت میں ادا کرنے کو تیار رہیں۔۔۔۔

 

 

Share This Article

تازه ترین