کشمیر میڈیا سروس کے مطابق شہید کمانڈر برہان وانی کی تیسری برسی پر انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے حریت قیادت نے ہڑتال اور مظاہروں کی کال دی ہے جس کے بعد وادی میں قابض بھارتی فوج نے مکمل شٹر ڈاؤن کرکے کرفیو نافذ کردیا

 

شہید برہان وانی کی برسی کی مناسبت سے وادی بھر میں شہید کی تصویریں اور پوسٹر لگائے گئے ہیں جب کہ بوکھلاہٹ کا شکار بھارتی فورسز نے پوسٹر لگانے کے الزام میں دو نوجوانوں کو گرفتار کرلیا۔

 

 

میڈیا رپورٹس کے مطابق مقبوضہ وادی میں بھاری تعداد میں پولیس اور فوج کی نفری تعینات ہے جب کہ اسلام آباد، پلوامہ، کلگام اور شوپیاں میں انٹرنیٹ سروس بند ہے۔

 

قابض انتظامیہ نے برہان وانی کے گھر اور آبائی علاقے ترال میں واقع شریف آباد کے قبرستان کو بھی سیل کررکھا ہے جب کہ برہان وانی کے گھر جانے والے راستوں کو بھی کنٹینر لگا کر بند کیا گیا ہے۔

 

بھارتی فوجیوں نے کشمیری رہنما برہان مظفر وانی کو 8 جولائی 2016 کو محاصرے اور تلاشی کی ایک کارروائی کے دوران 2 ساتھیوں کے ہمراہ شہید کر دیا تھا۔

برہان وانی کی شہادت سے اب تک مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی کارروائیوں کے دوران  ایک ہزار 20 کشمیریوں کو شہید کیا جن میں سے 70 کشمیریوں کو جعلی مقابلوں کے دوران شہید کیا گیا۔

 

کشمیرمیڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی طرف سے برہان مظفر وانی کے تیسرے یوم شہاد ت کے موقع پر جاری کیے جانے والے اعدادو شمار کے مطابق ان شہادتوں کی وجہ سے 91 خواتین بیوہ اور 205 بچے یتیم ہوئے۔

 

بھارتی فورسز کی جانب سے اس عرصے کے دوران پرامن مظاہرین کے خلاف پیلٹ گن اور آنسوگیس سمیت طاقت کے وحشیانہ استعمال کے ذریعے 27 ہزار659 افراد زخمی ہوئے۔

 

 

بھارتی فورسز نے گھرو ں پر چھاپوں،محاصروں اور دیگر کارروائیوں کے دوران حریت رہنماﺅں اور کارکنوں سمیت 11ہزار 812 کشمیریوں کوگرفتارکیا۔ 8 جولائی 2016 سے اب تک بھارتی فوجیوں نے 3 ہزار304 رہائشی مکانوں کو تباہ کیا اور 9 سو 33 کشمیری خواتین کی بے حرمتی کی۔

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے