برطانوی ائیرلائن برٹش ائیرویز کو ڈیٹا لیک ہونے پر 183 ملین پاؤنڈ ( 36 ارب 18 کروڑ 30 لاکھ روپے ) کے ریکارڈ جرنے کا سامنا کرنا پڑا۔

 

ائیرلائن پر جرمانہ کرنے والے انفارمیشن کمشنر آفس نے اسے ایک بہت بڑا جرمانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کبھی کارروائی نہیں کی گئی اور نئے قوانین کے تحت پہلی مرتبہ اسے عام کیا گیا ہے۔

 

انفارمیشن کمشنر آفس کا مزید کہنا تھا کہ ہیکنگ کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب برٹش ائیرویز کی ویب سائٹ استعمال کرنے والے صارفین کو ایک جعلی ویب سائٹ پر منتقل کیا گیا اور اس ویب سائٹ کے ذریعے ہیکرز نے تقریباً 5 لاکھ صارفین کا ڈیٹا چرایا۔

 

انفارمیشن کمشنر نے کہا لوگوں کا ذاتی ڈیٹا صرف ذاتی ہے، اگر کوئی ادارہ اسے چوری، نقصان یا ہیک ہونے سے بچانے میں ناکام ہوتا ہے تو یہ کسی بھی تکلیف سے زیادہ ہے، اس لیے قانون واضح ہےکہ اگر آپ کسی کے ذاتی ڈیٹا میں دلچسپی رکھتے ہیں تو آپ کو اس کا ضرور خیال بھی رکھنا ہے۔

 

برٹش ائیرویزپر یہ جرمانہ گزشتہ سال ڈیٹا لیک ہونے پرعائد کیا گیا ہے جسے ائیرلائن نے حیران کن اور افسوسناک قرار دیا ہے، برٹش ائیرویز کا کہنا تھا کہ ہیکرز نے ائیرلائن کی ویب سائٹ پر انتہائی منظم انداز میں ایک کرمنل حملہ کیا جس کا ہمیں افسوس ہے لیکن جرمانہ بہت زیادہ ہے۔

 

برٹش ائیرویز کے صارفین کا ڈیٹا چوری ہونے کا پہلا واقعہ گزشتہ سال 6 ستمبر کو پیش آیا تھا جب برطانوی ائیرلائن نے بتایا تھا کہ اس کی 3 لاکھ 80 ہزار کے قریب ٹرانزکشن متاثر ہوئی ہیں مگر چرائے گئے ڈیٹا میں سفری اور پاسپورٹ کی تفصیلات شامل نہیں تھیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے