شعبہ صحافت میں خبر کے اندراج میں وقت کا بڑا دخل ہوتا ہے لیکن بعض اوقات کچھ پانے کیلئے کھونا ہوتا ہے، ہمیں جانا تھا اسلام آباد ، سوچا ریلوے کی حالت سدھرنے کے بہت سے حکومتی دعوے ہورے ہیں اس دفعہ راولپنڈی کاسفر ریل کے ذریعے ہی کیا جائے۔
یہی سوچ کر اپنے ریلوے کے کچھ جاننے والے اہلکاروں سے رائے لی تو انھوں نے بتایا کہ ویسے تو گرین لائن بہت اچھی ہے لیکن 3 جولائی کو افتتاح ہونے والی سرسید ایکسپریس بہت اچھی ٹرین ہے جس کے کراچی سے راولپنڈی تک صرف 5 اسٹاپ ہیں اور سفر بھی 21 گھنٹے کا ہے۔ لیکن اگر آپ نے کچھ کالم وغیرہ لکھنا ہے تو اکانومی کلاس میں سفر کریں تب ہی مزہ بھی آئے گا اور مزہ بھی۔

ہمیں سن کر حیرت ہوئی کہ کیا واقعی راولپنڈی تک 21 گھنٹے کا سفر اور 5 اسٹاپ ہوں گے، خیر ٹکٹ لیا اور مقررہ تاریخ یعنی 10 جولائی کو کراچی کینٹ اسٹیشن پہنچ گئے، ہاں یہ بتاتے چلیں کہ ہمارا ٹرین کا آخری سفر کوئی 22 سال قبل کا تھا اور محکمہ ریلوے سے متعلق کسی بھی تحریرکیلئے اب ضروری ہوگیا تھا کہ ہم اس کا مشاہدہ خود کریں سنی سنائی باتوں سے تحریر نہیں لکھی جاسکتی۔
سرسید ایکسپریس کا کراچی سے روانگی کا وقت رات 9 بجے کا ہے سو ہم بھی کینٹ اسٹیشن وقت سے قبل ہی رات 8 بجے پہنچ گئے، جہاں وہی برسوں پرانا حال نظر آیا، گندگی، قلیوں کی من مانیاں، پلیٹ فارم پر کئی جگہ قابل اعتراض اور ہولناک تاریکیاں، اور اسٹیشن پر ملنے والی انتہائی غیر معیاری، ناقص اشیاء وہ بھی زائد نرخوں پر۔
ایک لمحے کو خیال آیا کہ ٹرین کے ٹکٹ لے کر غلطی کی لیکن پھر دل کو تسلی دی کہ جس پروفیشن میں ہم ہیں اس کیلئے مشاہدات اور ذاتی تجربات ضروری ہیں، سو برداشت کرتے ہوئے ٹرین کا انتطار کرنے لگے، تقریبا ساڑھے 8 بجے ٹرین آکر پلیٹ فارم پر لگی بیرونی حالت تو بظاہر اچھی اور صاف ستھری لگ رہی تھی لیکن جب ٹرین کمپارٹمنٹ میں داخل ہوئے تو خوشگوار حیرت کے جھٹکے لگنے لگے۔

کیا دیکھتے ہیں کہ انتہائی صاف ستھرے ڈبے، نئی نویلی نشستیں اور برتھیں، چھت پر تیز ہوا دینے والے پنکھے، روشن ایل ای ڈی لائٹس، ہر 6 سیٹوں کے مخصوص حصے کے سامنے پردے لگے ہوئے، کھڑکی کے ساتھ والی نشست پر ایک ٹیبل، ڈسٹ بن، اور خاص طور پر موبائل فون لیپ ٹاپ چارج کیلئے سوئچ بورڈ ، یہ سب چیزیں تو حیران کن تھیں ہی لیکن جب ٹوائلٹ پر نظر پڑی تو سلیقے سے رکھا ہوا لوٹا اور ساتھ میں مسلم شاور، واش بیسن، آئینہ، لیکیوڈ صابن، ان سب چیزوں اور سہولیات کو دیکھ کر تو گویا آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔

سچ کہیں تو اب پاکستان ریلوے کی یہ نئی شکل دیکھ کر اسٹیشن اور قلیوں سے ہونے والی کوفت قدرے کم ہوگئی تھی، خیر اپنا سامان سیٹ کیا اور بیٹھ گئے، ٹھیک 9 بجے ٹرین نے ہارن دیا اور چلنا شروع کردیا یہ بھی اپنی نوعیت کی عجیب بات تھی کہ ٹرین نے سفر کا اغاز بالکل مقررہ وقت پر کیا تھا، کراچی شہر سے چھک چھکا چھک کرتی ٹرین باہر نکلی تو باوردی ویٹرز آگئے اور انھوں نے بتایا کہ ٹرین کی ڈائننگ کار میں ہر قسم کے کھانے موجود ہیں اگر رات کا کھانا کسی نے کھانا ہو تو یہاں بھی فراہم کیا جاسکتا ہے اور اگرچاہیں تو ڈائننگ کار میں بھی جا سکتے ہیں۔

اس حد تک بات تو پہلے جیسی ہی تھی لیکن ویٹر کا اگلا جملہ ہمیں پھر ورطہ حیرت میں ڈال گیا جب اس نے یہ کہا کہ کل صبح کا ناشتہ، دوپہرکا کھانا اور شام کی چائے بالکل مفت ہے تمام مسافروں کیلئے اور اس کے بعد مغرب سے پہلے ٹرین اپنی منزل پر پہنچ جائے گی۔ کھانا مفت فراہم کرنے والی بات تو جیسے ہمارے حلق سے اتر ہی نہیں رہی تھی سوچا شاید ویٹر کچھ غلط کہہ گیا ہے لیکن دوبارہ پوچھنے پر بھی اس نے یہی جواب دیا تو ہم حیران و پریشان اپنی سیٹ پر آبیٹھے۔
ٹرین اپنی مخصوص رفتار سے اپنی اگلی منزل یعنی حیدرآباد کی جانب رواں دواں تھی اور پھر وقت مقررہ پر حیدرآباد پہنچ بھی گئے، پوچھنے پر بتایا گیا کہ ٹرین کا اگلا اسٹاپ روہڑی جنکشن ہے جہاں سے ٹرین ڈرائیور اور اسسٹنٹ ڈرائیور تبدیل ہوجاتے ہیں۔
اسی دوران ہم نے سوچا کیوں نہ ایک چکر ڈائننگ کار کا بھی لگالیا جائے دیکھیں وہاں کیا سہولیات ہیں، بوگی کے اندورونی رستوں سے ہوتے ہوئے جب ڈائننگ کار تک پہنچے تو اسے دیکھ کر حیرت کا ایک اور جھٹکا لگا، صاف ستھری سلیقے سے لگی نشستیں اور ٹیبلز، ایئرکنڈیشن ماحول اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ کی فرمائش پر سب کچھ حاضر، وہیں بیٹھے ٹرین مینجر سے اپنا تعارف کروایا اور کچھ سوالات کیئے، اب یہ سب دیکھ کر ہم یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے تھے کہ واقعی حکومت نے سہولیات کی بہترین فراہمی تو کردی ہے یہ عوام کا کام ہے کہ ان سہولیات کا نہ صرف خیال کریں بلکہ انھیں اپنی اصلی حالت میں برقرار رکھنے کیلئے اپنا کردار بھی ادا کریں۔

ٹرین مینجر سے گفتگو کے بعد جب ہم واپس اپنے کپمارٹمنٹ جارہے تھے تو اتنے میں روہڑی اسٹیشن آگیا جہاں کچھ دیر ٹرین رکی اور باتھ رومز کی ٹنکیوں میں پانی بھرنے کے بعد روانہ ہوگئی۔ روہڑی سے جب ٹرین چلی تو ہم نے سوچا اچھا خاصا مواد جمع ہوچکا ہے اور سب اچھا ہی نظر آرہا ہے س مین کچھ منفی باتوں کی گنجائش نہیں ہے سو اب کچھ دیر آرام کرلیا جائے نیند کا غلبہ بھی بڑھتا جارہا تھا، باقی صبح دیکھیں گے، یہ سوچ کر 4 بجے کے قریب اپنی برتھ پر آکر لیٹے اور کچھ دیر میں ہی دنیا ومافیہا سے بے خبر ہوگئے۔ بس یہی وہ لمحہ تھا جس نے اس ٹرین اور کئی دیگر ٹرینوں کے مسافروں اور ہماری تحریر کے "سفر” کو “Suffer” میں تبدل کردیا۔
صبح تقریبا ساڑھے 6 بجے ٹرین ایک سنسان مقام پر رکی اور اس کا یہ اسٹاپ 2 گھنٹے طویل ہوگیا، ہم بے خبر سورہے تھے، لیکن کچھ لوگ جو جاگ رہے تھے انھوں نے صادق آباد اور رحیم یار خان کے درمیاں واقع اس مقام کے خونی منظر کو اپنی آنکھوں سے تسلی سے دیکھا تھا جہاں بدقسمت "اکبر ایکسپریس” ایک مال گاڑی سے ٹکرا گئی تھی جس کے نتیجے میں 21 افراد جاں بحق اور 80 زخمی ہوئے، تصادم اتنا خوفناک تھا کہ اکبر ایکسپریس کی 5 بوگیاں مال گاڑی پر چڑھتے ہوئے ٹریک سے الٹ گئیں اور مسافر اس میں بری طرح پھنس کر شدید زخمی ہوگئے تھے۔
ہمیں سوتے سے اس وقت اٹھایا گیا جب ٹرین اس مقام سے آہستہ آہستہ گزرنے لگی، اس دوران صبح کا اجالا ہوچکا تھا ہمیں افسوس ہوا کہ کسی نے اس وقت کیوں نہ اٹھایا خیر جو وقت ملا اس کو غنیمت جانتے ہوئے ہم نے کچھ تصاویراس بدقسمت ٹرین کی اپنے موبائل فون سے کھینچ لیں۔ ٹرین آگے بڑھی اور پھر اپنی مخصوص رفتار سے چلنے لگی لیکن حادثے کے مقام پر 2 گھنٹے کھڑے رہنے کی وجہ سے سر سید ایکسپریس کا شیڈول بری طرح متاثر ہوچکا تھا۔

حادثہ دیکھ کر دل بھی بوجھل تھا اور سر سید ایکسپریس کی اب تک کی تمام اچھائیاں اس حادثے کے نیچے کہیں دب گئی تھیں اور ایک ہی سوال بار بار ابھر رہا تھا کہ جب نئی ٹرینیں بھی چلائی جارہی ہیں منافع کا ڈھنڈورا بھی پیٹا جارہا ہے تو پھر یہ حادثات کیوں رونما ہورہے ہیں غلطی کہاں ہورہی ہے۔۔؟؟
اسی سوال کا جواب ڈھونڈتے ٹرین میں ہم کبھی ادھر تو کبھی ادھر گشت کرتے رہے، اتفاق سے ریلوے کا ایک سینئر ملزم ہمیں ملا جس نے نام نہ بتانے کی شرط پر بہت سے راز آشکار کرنے کا وعدہ کیا، ہم ان کا فرضی نام "چچا” رکھ لیتے ہیں،
چچا نے بتایا کہ 30 برس پہلے ٹرینوں کی تعداد اتنی نہیں تھی جو اج ہے لیکن چونکہ نیٹ ورک پورے پاکستان میں پھیلا ہوا تھا اس لئے ملازمین کی تعداد بھی ایک لاکھ سے زائد ہی تھی،پھر ان میں سے ہزاروں ملازمین ریٹائرڈ ہوئے تو کچھ کا انتقال ہوگیا اور یہ تعداد کم ہوتے ہوتے 60 ہزار کے لگ بھگ ہوگئی، یعنی اگر محتاط اندازے پر ہی دیکھا جائے تو پاکستان ریلوے کو اپنا نیٹ ورک مکمل چلانے اور فعال رکھنے کیلئے مجموعی طور پر 90 سے 95 ہزار ملازمین کی ضرورت ہے، لیکن نجانے کیوں بھرتیاں کیوں نہیں کی جارہیں۔۔۔؟؟

چچا نے بتایا کہ سابقہ دور حکومت میں 10 ہزار کے قریب بھرتیاں کی گئی تھیں لیکن وہ سب سیاسی بھرتیں تھیں ان میں ٹیکنیکل اور ہنر مند افراد شامل نہیں تھے، نتیجہ یہ نکلا کہ یہ سیاسی افسران و ملزمین نے کام تو کیا کرنا تھا محکمہ کو اپنے غلط سلط مشوروں سے اور تباہی کی جانب دھکیل دیا، اسی لیئے ریلوے میں جدت کچھ نہیں آئی بس ٹرینوں کی تعداد بڑھ گئی اور کچھ نئے نام رکھ دیئے گئے۔
چچا کے مطابق سب سے پہلے ٹرین حادثات روکنے کیلئے ضروری ہے کہ آپ اپنا اسٹاف پورا کریں اور وہ بھی ہنر مند، بھرتیاں جو سیاسی نہیں ہونی چاہئیں، اس کے بعد حکومت سگنلز، ٹریکنگ سسٹم اور پٹری بدلنے والے کانٹوں کے سسٹمز کو جدید بنائے، سب سے آخر میں ٹریکس کی تبدیلی کی جائے تاکہ سفر آسان، اور تیز رفتار بن سکے اگر یہ تین کام نہیں کیئے جاسکتے تو ریلوے کو کبھی جدید نہیں بنایا جاسکتا بلکہ اس کا سفر ہمیشہ انگریزی والا "سفر” ہی رہے گا۔
چچا کی بات ابھی ختم ہوئی تھی لیکن سر سید ایکسپریس کا سفر ختم نہیں ہوا تھا، اکبر ایکسپریس حادثے، ٹریکس کی خستہ حالت اور کراسنگ دینے کی مجبوریوں نے اس 5 اسٹاپ والی تیز رفتار ٹرین کو خانیوال کے بعد لوکل ٹرین بنادیا تھا جس نے کم از کم 20 ٹرینوں کو کراسنگ دی اور ہولے ہولے کر کے اپنے مقررہ وقت سے 4 گھنٹے تاخیر سے رات 10 بجے راولپنڈی پہنچی۔
اس طرح ایک نئی ٹرین میں بیٹھ کر شروع ہونے والا خوشگوار سفر اسی ٹرین نے ایک ڈراؤنا خواب بنادیا اور جو ہم یہ سوچ رہے تھے کہ کیا زبردست ٹرین بنائی ہے اب سفر کے اختتام پر یہی خیال آیا کہ فقط اچھی ٹرین نہیں بلکہ اچھے ٹریکس، اچھا ٹیکنیکل نظام اور اچھے ملازمین سے ہی یہ مربع مکمل ہوکر ایک نئی ٹرین ، بہترین ، آرام دہ اور محفوظ سفر کی ضامن بن سکتی ہے ورنہ تو یہ "سفر” بھی “Suffer” رہے گا۔