برطانیہ ، جرمنی اور فرانس نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ ذمے دارانہ اور سنجیدہ اقدام کیا جائے،کشیدگی میں اضافے کو روکنے کے طریقوں پر غور کیا جائے اور مکالمے کو بحال کیا جائے۔
خلیج عمان اور اس سے ماورا بحری جہازوں پر حالیہ حملوں اور خطے میں سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان ممالک کا کہنا ہے کہ وہ ایران سے جوہری سمجھوتے کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہیں لیکن انھوں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا ہے کہ یہ سمجھوتا تار تار ہوسکتا ہے۔
واضح رہے کہ تیرہ جون کو دو آئیل ٹینکروں، ناروے کے ملکیتی فرنٹ آلٹیر اورجاپان کے ملکیتی کوکوکا کورجیئس کو خلیج عمان میں آبنائے ہرمز کے نزدیک بین الاقوامی پانیوں میں تخریبی حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھاکہ موخرالذکر بحری جہاز پر آتش گیر مواد میتھانول لدا ہوا تھا اور اس کے پچھلے حصے میں بارودی سرنگ کا دھماکا ہوا تھاتاہم اس میں لدا آتش گیر مواد محفوظ رہا تھا۔
دوسری جانب برطانیہ کے قبضے میں ایرانی تیل بردار جہازکی رہائی کے حوالے سے معاملات بدستور پیچیدہ بنے ہوئے ہیں، اس ضمن میں برطانوی وزیر خارجہ جیریمی ہنٹ نے واضح کیا تھا کہ اگر انہیں یہ ضمانت مل جائے کہ جبل الطارق کی عدالت میں قانونی اقدامات کے بعد مذکورہ تیل بردار جہاز شام کا رخ نہیں کرے گا تو جہاز کی آزادی آسان ہو جائے گی۔
جبکہ ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ پابندیوں اور دباؤ کے باوجود ایران تیل کی برآمد ہر صورت جاری رکھے گا، غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق بیان میں کہا گیا کہ ظریف نے ہنٹ کو آگاہ کر دیا کہ ایران ہر صورت اپنے تیل کی برآمدات جاری رکھے گا اور یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ برطانیہ کو تیل بردار جہاز گریس 1 کو جلد آزاد کرنا ہوگا۔
ادھر جیرمی ہنٹ نے ٹویٹر پر بتایا کہ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے انہیں آگاہ کیا ہے کہ تہران گریس 1 تیل بردار جہاز کا مسئلہ حل کرنے کا خواہاں ہے اور وہ معاملے کو بڑھانا نہیں چاہتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی کی ایک نیوز ایجنسی نے بتایا کہ وزیر خارجہ محمد جواد ظریف اقوام متحدہ میں ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے نیویارک روانہ ہو گئے ہیں، جہاں وہ اقوام متحدہ کے زیر انتظام اقتصادی اور سماجی کونسل کے اجلاس میں شرکت کے بعد وینزویلا، بولیویا اور نیکارگوا جائیں گے، ایرانی وزیر خارجہ کا دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کی شدت انتہا پر ہے۔