خان صاحب آپ بہت بُرے، ہم سب دودھ کے دُھلے ۔۔۔!!  

 

 

اصولی طور پر دیکھا جائے تو عمران خان کو سیاست میں آنا ہی نہیں چاہیئے تھا، کیونکہ نہ انھیں حکومت کرنی اتی ہے نہ انھیں معلوم ہے کہ کس طرح عوام کو بیوقوف بنایا جاتا ہے کس طرح لیپا پوتی کے ذریعے باہر ہی باہر سے سب اچھا دکھا کر اندر سے ملک و قوم کو کمزور کیا جاتا ہے۔

 

عمران خان کو یہ بھی نہیں معلوم کہ ہمارے ہاں، ڈیری فارمرز آکسی ٹاکسن کے انجکشن لگا کر گائے بھینسوں کی ہڈیوں سے بھی دودھ نکال کر گوالے کو دیتے ہیں اور گوالہ دودھ میں پانی، برف، ڈٹرجنٹ، مکئی کا آٹا ملا کر ہم سے پوری قیمت وصول کرتے ہوئے حکومت کی بددیانتی کا رونا روتا ہے۔

 

وزیراعظم صاحب یہ بھی نہیں جانتے کہ سبزی مارکیٹ میں گلی سڑی سبزیوں کو ایک طرف رکھ دیا جاتا ہے جسے ہوٹلوں والے بڑے شوق سے لے جاکر اس کا کھنا بناتے اور ہمیں مہنگے داموں فروخت کرتے ہوئے ہماری ہی جیبوں سے بھاری رقمیں نکالتے ہوئے مہنگائی کا رونا روتے ہیں۔

 

 

سبزی والے ہمارے لیئے ہی تو کچی سبزیوں کو رنگ دے کر خوشنما بناتے ہیں، ادرک اور لہسن کو مٹی کے تیل سے دھوتے ہیں کہ پیٹ کے جراثیم کا خاتمہ اور اندرونی اعضاء کی سروس ہوجائے، ہری سبزیوں کو کیمیکل والے سبز رنگ کے پانی میں ڈال کر رکھتے ہیں کہ اس کا رنگ عوام پر بھی چڑھ جائے چھوٹے موٹے اسکن کینسر اور پیٹ کی بیماریاں تو ہوتی رہتی ہیں، بس یہی سبزیاں عوام کو فروخت کرتے ہوئے حکومت کی سخت پالیسیوں پر گالم گلوچ کرنا احس کام ہے اور کیا کریں اب ۔

 

 

خان صاحب کو یہ تک تو معلوم نہیں کہ دکاندار کبھی سودے کی رسید نہیں دیتا کیونکہ وہ گاہک کو اس جھنجٹ میں ڈالنا ہی نہیں چاہتا کہ وہ حساب کتاب کرتے رہیں کہ کون سی چیز کتنے کی تھی اور کتنے میں فروخت کی گئی، اور ہم بھی بس ٹوٹل پوچھ کر جیب سے رقم نکال کر ادا کردیتے ہیں کیونکہ ہم اپنے خرچے اوپر نیچے کی کمائی سے پورے کرہی لیتے ہیں بس ذرا مہنگائی زیادہ ہے۔

 

 

وزیراعظم صاحب ٹیکس دو ٹیکس دو کی گردان لگائے ہوئے ہیں وہ اتنے معصوم ہیں کہ انھیں پتہ ہی نہیں ٹیکس ہمارے آباؤ اجداد نے نہیں دیا تو ہم کیا دیں گے اور ہم کیا جانیں ٹیکس کیا ہوتا ہے یہ ہم پر واجب بھی ہے کہ نہیں، ہمارا تو کام ہے بس اپنا کام نکالنا باقی ملک و قوم خود ہی ٹھیک ہوجائے گی ویسے بھی ہر روز گلی کے نکڑ پر یا چائے کے ہوٹل پر بیٹھ کر ہم سیاست و معیشت پر سیر حاصل گفتگو تو کرہی لیتے ہیں اب کیا خان صاحب سارے کام ہم ہی سے لیں گے خود بھی کچھ کرلیں۔

عمران خان کو چاہیئے تھا کہ جیسے ہی انھیں وزرات عظمیٰ ملی تھی اور انھیں پتہ چلا کہ خزانے خالی، ملک کا بال بال قرضوں میں ڈوبا ہوا اور سابقہ حکومتیں سب کچھ لوُٹ لاٹ کر چلتی بنی ہیں

 

وہ بھی واویلا کرنے کے بجائے چپ چاپ عالمی اداروں سے بھاری قرضے لیتے، کچھ لگاتے بہت سا کھاتے اور موج اڑاتے یہ کیا آپ نے قوم کی حالت سدھارنے کی قسم کھا لی ناحق۔

 

لیکن خان صاحب ایک سال گزرنے کے بعد بھی حکومت کرنا نہیں سیکھ سکے اب بھی وقت ہے انھیں یہ معلوم ہوجانا چاہیئے کہ ٹیکس چوری میں ہم سب ایک ہیں، اسی لیئے تو ہڑتال کرکے سب کچھ بند کرنے پر راضی ہیں، ویسے بھی یہ تاجر یہ دکاندار بے چارے کسی کو کیوں بتائیں کہ 100 روپے کی چیز وہ 1100 میں فروخت کررہے ہیں بھئی یہ تو ان کا ہنر اور نصیب ہے اس کا حساب لینے اور کمائی سے حصہ لینے ایف بی آر والے کہاں سے بیچ میں ڈال دیئے آپ نے۔۔؟؟

 

بات رہ گئی تعلیم و صحت کی تو ہم نے پڑھ لکھ کر ویسے بھی کیا کرنا ہے، چور بازاری، کرپشن ، لوٹ مار، ملاوٹ میں ہم سب نے پیدائشی پی ایچ ڈی کررکھی ہے پھر بھی دنیا دکھاوے کو بچوں کو اسکول کالج بھیج دیتے ہیں تو وہاں ٹیچرز کو خود نہیں پتہ ہوتا کہ انھیں پڑھانا کیا ہے وہ بھی کتاب سے سبق کو بلیک بورڈ پر نقل کرواتے ہیں پھر بلیک بورڈ سے بچوں کی کاپیوں پر اور اسی کا امتحان لے کر فارغ ہوجاتے ہیں، اس سے زیادہ اور کیا تعلیم دینی اور کیا لینی، رہی بات اسپتالوں کی تو ہم لال دوائیوں سے خوش ہوجاتے ہیں زیادہ مسئلہ ہوتو داکٹر صاحبان کے پرائیویٹ کلینکس تو ہیں ہی، اب اگر وہ مہنگا علاج کرتے ہیں تو کیا ہوا ہم بھی کسی نہ کسی کا گلا کاٹ ہی لیں گے پیسوں کی کیا کمی۔۔؟

 

ویسے یہ تو سچ ہے وزیراعظم صاحب کہ مہنگائی بہت ہوگئی ابھی پچھلے مہینے کی بات ہے ہمارے ایک جاننے والے جو ایک سرکاری دفتر میں 11 گریڈ کے ملازم ہیں یہی کوئی 50 ہزار کے لگ بھگ تنخواہ آجاتی ہوگی، بےچارے 200 گز کے مکان میں رہتے ہیں ابھی ایک سال پہلے ہی بنوایا تھا 4 بچے ہیں، انھوں نے اپنی بیٹی کی شادی کی ، مہندی والی رات ہمارے سامنے کھڑے بچارے رو رہے تھے کہ کیا کریں مہنگائی نے جینا حرم کردیا، دیکھو یار شادی پر ہی 9 لاکھ روپے لگ گئے ہم غریب کہاں جائیں کس کے سامنے دکھرا روئیں خیر ہم نے انھیں دلاسا دیا تو کہنے لگے آپ اچھے آدمی ہیں آئیں آپ کو دکھاؤں نئی کار لی ہے 32 لاکھ کی غضب خدا کا کاریں بھی اتنی مہنگی کردیں غریب آدمی کیسے لے سکے گا انھیں۔۔؟؟

 

صحیح بات ہے یہ جواب تو عمران خان صاحب کو دینا ہوگا کہ یہ بچارہ 11 گریڈ کا ملازم 9 لاکھ کا خرچہ کررہا ہے 29 لاک کی کار 32 لاکھ کی کردی آپ نے مہنگائی نہ کی ہوتی تو دل کھول کر کم ازکم 15 یا 20 لاکھ تو خرچ کرتا بندے کے ارمان بھی کوئی چیز ہوتے ہیں اب یہ آپ کے خلاف بات نہ کرے تو کیا کرے بے چارہ۔

ارے ہاں پٹرول کا تو بھول ہی گئے، بھئی خان صاحب یہ آپ نے ستم کیا 113 روپے لٹر پٹرول خدا کی پناہ، اب بتائیں کہ پہلے دوسرے تیسرے دن لانگ ڈرائیو پر بچوں کو لے کر نکل جاتے تھے، اب کیسے جائیں گے، وہ تو بھلا ہو کہ گھر میں 3 گاڑیاں ہیں اور چھوٹی کار استعمال کرلیتے ہیں تو پٹرول کی کچھ بچت ہوجاتی ہے ورنہ 1800 سی سی والی کار تو بہت پٹرول کھاتی ہے بھیا آپ نے تو کباڑا کردیا سب کا۔

 

اصل میں عمرن خان صاحب آپ نے ماضی کےحکمرانوں سے کچھ سیکھا ہی نہیں وہ سب کے سب کھاتے بھی تھے اور کھلاتے بھی تھے آپ نے ہم سب کا حقہ پانی بند کردیا ہے، بہت سے لوگوں کے غیرملکی دوروں پر پابندی، ٹیکس میں چھوٹ ختم، عیاشیاں اور شاہ خرچیاں کم، اس کو پکڑ اس کی دھکڑ، میڈیا کے لفافے بند تو منطور نظر صحافیوں کے اثاثوں کی چھان بین، یہ ٹیکس وہ محصول، ، جائیداد بتاؤ، آمدنی دکھاؤ، سیدھے ہوجاؤ اب بھیا یہ سب کریں گے تو سارے کے سارے آپ کے پیچھے تو لگ ہی جائیں گے اب برداشت کریں یا پھر ان جیسے بن جائیں، کہاں آپ پڑ گئے ملک وقوم کی تعمیر و ترقی میں ، ارے بھیا کسی کو کچھ نہیں چاہیئے ہم تو سچ بھی نہیں سنیں گے کیونکہ جو آپ کہہ رہے ہیں لاکھ اچھا اور سچا ہو گا لیکن ہم نے نہیں ماننا نہیں جاننا کہ آپ کے مشکل فیصلے ہماری مشکلات کے خاتمے کیلئے ہیں، ہم تو بس یہی کہیں گے کہ آپ اچھے نہیں ہو آپ سے اچھے تو وہ پہلے والے تھے ۔ بس فیصلہ ہوگیا کہ آپ بہت ہی بُرے ہو بس صرف  ” ہم ہیں دودھ  کے دُھلے ہوئے”

 

 

 

 

Share This Article

تازه ترین