ایک کہاوت پیسے سے متعلق کہی جاتی ہے کہ ” ایک روپیہ لاکھ برابر نہیں ہوتا لیکن لاکھ میں روپیہ کم ہو تو وہ لاکھ نہیں ہوتا” ۔
مطلب یہ کہ ایک روہے کی ویسے تو کوئی قیمت کوئی حیثیت نہیں ہوتی لیکن یہی روپیہ بڑی سے بڑی رقم میں کم ہوتو اس رقم کو حساب کے دائرے میں مکمل نہیں کہا جاسکتا، اسی کے ساتھ ایک اور مثال بھی دی جاتی ہے کہ "پہلا لاکھ مشکل سے بنتا ہے لکھ سے لاکھوں آسانی سے بن جاتے ہیں”۔
بول نیوز ٹی وی کے اینکر پرسن مرید عباس اور ان کے دوست خضر حیات کا قتل کیا ہوا کہ بہت سے ایسوں کے تانے بانے کھلنے لگے جن کے پاس کبھی لاکھ روپے ہونا بھی مشکل نظر آتا تھا لیکن یہ سب کے سب چھپے رستم نکلے اور ان کی لالچ نے انھیں 4کہیں کا نہ چھوڑا۔
جانے والا چلا گیا لیکن اس کے قتل کی تحقیقات ایک کاروبری تنازع سے نکل کر ایک بڑے مالیاتی اسکینڈل میں تبدیل ہو چکی ہے۔
بات لاکھوں سے نکل کر کروڑوں اور دوچار لوگوں سے ہوتے ہوئے درجنوں افراد تک جاپہنچی ہے، ان مین سے کچھ تو ایسے ہیں جو شاید اپنی رقم کا بتاسکیں کہ کب اور کیسے اور کہاں سے آئی لیکن شاید کئی لوگوں کو جواب دینا مشکل ہوجائے اس سلسلے میں ایف آئی اے، ایف بی آر اور دیگر اہم ادارے معاملے کی چھان بین میں شامل ہو چکےہیں اور لگتا یہی ہے کہ نئے نئے انکشافات کا سلسلہ بھی شروع ہونے والا ہے۔تازہ ترین رپورٹس کے مطابق ملزم عاطف زمان کے پاس بعض اینکر پرسنز، میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد اور دوستوں نے بھاری سرمایہ کاری کر رکھی تھی جن میں سے پولیس نے لگ بھگ 30 بڑے سرمایہ کاروں کی تفصیلات جمع کی ہیں جن کے بیانات قلمبند کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
رپورٹ کے مطابق عاطف زمان کو 54 کروڑ روپے کا سب سے زیادہ سرمایہ یاسر نامی شخص نے دیا تھا جس کےبعد دوسرے نمبر پرایازشوکت کی اہلیہ صدف ہیں جن کی 17 کروڑ 2 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری سامنے آئی ہے، مقتول اینکر مرید عباس نے 11 کروڑ 72 لاکھ روپے کا سرمایہ ملزم عاطف کو فراہم کیا تھا، عمر حیات نے 8 کروڑ 56 لاکھ جب کہ اینکر مدثر اقبال نے 7 کروڑ 50 لاکھ 57 ہزار لگا رکھے تھے، ملزم عاطف کے سسر عظیم خان نے بھی اپنے داماد کو 4 کروڑ 52 لاکھ 17 ہزار سرمایہ کاری کے نام پر دیئے۔
ایک بینک مینیجر سیف نے 3 کروڑ 91 لاکھ 75 ہزار روپے کی سرمایہ کاری کی جب کہ ایک اینکر پرسن فواد زیدی نے 3 کروڑ 34 لاکھ روپے منافع پر دے رکھے تھے، عدنان مصطفی نے 2 کروڑ 92 لاکھ جب کہ حنین نے 2 کروڑ 72 لاکھ روپے بطور سرمایہ عاطف زمان کے پاس لگائے،پروڈیوسر لبنیٰ احمد نے ایک کروڑ 75 لاکھ جب کہ ہمایوں نے ایک کروڑ 95 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی،عاطف زمان کے بھائی عادل زمان کے نام بھی ایک کروڑ 50 لاکھ 50 ہزار کی سرمایہ کاری نکلی ہے،ماجد حسین کا ایک کروڑ 29 لاکھ جب کہ عرفان حیدر کے ایک کروڑ 21 لاکھ روپے کا ریکارڈ سامنے آیا ہے۔
ایک ریٹائرڈ میجر مدثر کے ایک کروڑ 20 لاکھ اور ایک مکینک صابر کی 87 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری سامنے آئی ہے،حماد خان نامی شہری نے 72 لاکھ، بینش اقبال نے 37 لاکھ، سدرا سید نے 35 لاکھ روپے سرمائے پر لگائے۔ کرن شاہ نے ساڑھے 18 لاکھ اور شاہد نے 17 لاکھ 56 ہزار روپے کی سرمایہ کاری کی،سرمایہ کاری کرنے والے دیگر شہریوں میں راجہ محمود، عزیز عباسی، طارق راجپوت بھی شامل ہیں۔
اتنی تفصیل سامنے آنے کے بعد پہلا سوال تو یہی ذہن میں آتا ہے کہ کیا سرمایہ کاری کرنے والے سب کے سب بینائی سے محروم تھے کہ انھیں نظر نہیں آیا کہ کوئی شخص اتنا برا منفع کیسے دے سکتا ہے۔۔؟؟
کیا میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد ماضی کی فنانس کمپنیوں کا اسکینڈل بھی بھلا بیٹھے تھے جنھوں نے ابتداء میں بھاری منافع دیا اور چند ماہ کے بعد اربوں روپے سمیٹ کر فرار ہوگئیں۔ کیا ڈبل شاہ کو بھی سب بھلا بیٹھے تھے۔۔؟؟
لگتا یہی ہے کہ عیش و عشرت اور امیری کی خواہش نے سب کو سب حقائق سے بے بہرہ کردیا تھا، ان میں سے کچھ لوگ تو یقینا ایسے بھی ہوں گے جنھیں لالچ دلایا گیا ہوگا کہ اپنا سب کچھ بیچ باچ کر سرمایہ لگاؤ اور بیٹھ کے کھاؤ، یقینا عاطف زمان نے تو ابتدا کرتے ہوئے سب کوگڑ دکھادیا تھا باقی سرمیہ کرنے والے بھنورے خود بخود اس کے گرد جمع ہوتے چلے گئے۔
یہ بھی صاف ظاہر ہے کہ عاطف زمان انتہائی درجے ک چالاک شخص ہے جسے پتہ تھا کہ کس طرح اور کس قسم کے لوگوں کو اپنے جال میں پھنسانا چاہیئے، وہ دانہ ڈالتا رہا اور لوگ پھنستے چلے گئے۔ اس نے مریس عباس کو پھنسایا، فواد زیدی کوپھنسایا ان کے ذریعے اور لوگوں تک رسائی لی، پھنسے والے بہت سے بے چارے عاطف زمان کو کیا جانیں انھین تو مرید عباس کی شکل سے ہی اطمینان ہوگیا ہوگا۔
لیکن کچھ بھی ہو معاملہ واقعی اتنا سادہ اور آسان نظر نہیں آتا اور لگتا یہی ہے کہ اس اسکینڈل سے جو انکشافات ہونے جاارہے ہیں وہ بہت سوں کے ہوش اڑا دیں گے ساتھ ہی بہت سے افراد جو ایسے کسی دوسرے اسکینڈل میں پھنسے جارہے ہوں ان کیلئے بھی سبق ہے کہ راتوں رات امیری کا مطلب ایسا ہی کچھ ہوتا ہے جو عاطف زمان واقعے میں ہوا۔