پاکستان کی کشش اس کی خاصیت غیر ملکیوں سے پوچھیں۔۔!!  

 

 

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کو قدرت نے بے پناہ  وسائل ،خوبصورت وادیوں، پہاڑوں، دریاؤں، سمندر، صحرا، لہلاتے کھیتوں اور چاروں موسموں سے نوازا ہے یہاں ہر رنگ کی سبزی اور ہر قسم کے پھل پیدا ہوتے ہیں، انواع اقسام کے کھانوں کی تو کیا ہی بات ہے اور سب سے بڑھ کر اس ملک کے چاروں صوبوں، شمالی علاقہ جات اور کشمیر کے لوگوں کی محبتیں ایسی جو بھلائے نہ بھولیں ایسے میں یہاں کوئی سیاح یہاں آئے اور یہیں کا نہ ہوجائے کیسے ممکن ہے۔۔۔!!

 

مارٹن کوبلر ( سابق جرمن سفیر)

 

پاکستان میں تعینات جرمنی کے سابق سفیر مارٹن کوبلر کو ہی لے لیں جو سبکدوشی کے بعد اپنے وطن واپس جاچکے ہیں لیکن پاکستان کی محبت ان کے دل میں ایسی بسی ہوئی ہے کہ جرمنی میں بھی وہ ان یادوں کو سینے سے لگائے رہتے ہیں، اور لوگوں کو بتاتے ہیں کہ پاکستان کے بارے میں منفی مت سوچو وہاں جاؤ اور خود دیکھو سوائے محبتوں ور قدرتی نظاروں کے وہاں کچھ غلط نہیں۔

 

 

مارٹن کوبلر نےدو سال تک پاکستان کے وفاقی دارالحکومت میں بطور جرمن سفیر اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں انجام دیں، زندہ دل سفیر اس دوران پاکستان کے رنگوں میں رنگ گئے تھے، سابق سفیراب بھی پاکستان کے سحر میں مبتلا ہیں اور وہ اپنے ساتھ لے جانے والی ٹرک آرٹ سائیکل جرمنی کی سڑکوں پر چلاتے ہیں۔ مارٹن کوبلر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر 14 جولائی کو ایک ٹویٹ کیا جس میں انہوں نے ٹرک آرٹ سے بنی اپنی سائیکل کی تصاویر شیئر کیں۔

 

 

مارٹن کوبلر نے 10 اگست 2017 کو بطور سفیرپاکستان میں پیشہ وارانہ ذمہ داریاں سنبھالیں، اس دوران انھوں نے پاکستانی کھانوں سے لیکر ثقافت، سیاحت اور اردو زبان کو خوب فروغ دیا، کبھی چنگ چی رکشہ چلایا تو کبھی سائیکل ، کبھی کسی پرانی آبادی میں نکل کر لوگوں سے گھل مل گئے تو کبھی کسی سڑک یا پارک کی حالت بدلنے کی کوششوں میں لگ گئے اس دوران ان کو پاکستان کی ہر چیز سے انسیت ہوگئی لیکن ان کی پسندیدہ سواری  فوکسی قرار پائی۔

 

اپنی تازہ ٹوئٹ میں مارٹن کوبلر  نے لکھا کہ ’’آپ کو میری ٹرک آرٹ بائیک یاد ہے؟ میں اس پر جرمنی کے تاریخی شہر گیا جہاں پر بہت سارے لوگوں نے پوچھا کہ میں نے یہ سائیکل کہاں سے خریدی‘‘۔ پھر میں نے لوگوں کو فخر سے بتایا کہ یہ سائیکل پاکستان سے لایا ہوں، انھوں نے اس  سائیکل پر آرٹ بنانے والے پاکستانی شہری حاجی پرویز کوبھی سراہا اور بتایا کہ جرمنی میں سب اس آرٹ کے بارے میں پوچھ رہے ہیں۔

 

الیگزینڈر (امریکی سیاح)

 

بات فقط مارٹن کوبلر تک ہی محدود نہیں ہے ایک امریکی سیاح الیگزینڈر کچھ عرصے قبل جب پاکستان آیا تو یہاں کے لوگوں کی محبتیں اور یہاں کے قدرتی حسن کو دیکھ کر وہ یہیں کا ہوگیا، الیگزینڈرکو رکشہ کی سواری بھی اتنی پسند آئی کہ اس نےسب سے پہلےایک رکشہ خریدا اوراسے مقامی دستکاروں سے سجوایا اور اسی رکشے پر پورا ملک گھومے۔

 

 

الیگزینڈرکے مطابق انھیں پاکستان آنے سے قبل  بہت ڈرایا گیا کہ وہاں جاؤ گے تو مار دیئے جاؤ گے، پاکستانی بہت انتہا پسندہیں، لیکن میں پھر بھی ڈرتے ڈرتے پاکستان آہی گیا، لیکن یہاں آتے ہی مجھے وہ ساری باتوں کی سمجھ آگئی جو اصل میں پاکستان کے بارے میں منفی پروپیگنڈہ تھا ورنہ تو یہاں سب کچھ اچھا ہے، محبتیں ہیں، خوبصورتی ہے، اچھے اچھے لذید کھانے ہیں۔

 

Video Courtesy By: BBC Urdu

 

الیگزینڈر کہتے ہیں میری خواہش ہے کہ اس رکشے پر وزیراعظم عمران خان کو بٹھا کر سیر کراؤں اور پھر رکشہ نیلام کرکے اس کی رقم دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے فنڈ میں عطیہ کردوں۔

 

روزی گیبریل ( کینیڈین بائیکرٹورسٹ)

 

کوبلر اور الیگزینڈر چلیں مرد ہیں جو کسی بھی معاشرے میں جیسے تیسے ایڈجسٹ ہوی جاتے ہیں لیکن بات اگر کسی خاتون کی ہو، وہ بھی غیر ملکی اور خوبصورت ہونے کے ساتھ تنہا بھی ۔۔ تو شاید اس کا کہیں جانا اور رہنا اتنا آسان نہ ہو لیکن کینیڈا سے تعلق رکھنے والی روزی گیبریل اپنی ہیوی موٹر سائیکل پر دنیا کی سیر کرنے نکلیں اور اور پاکستان پہنچیں تو یہاں کے سحر میں ایسا کھوئیں کہ جانے کا نام ہی نہیں لیتیں۔

 

 

روزی کے مطابق جو کوئی بھی یہ کہتا ہے کہ پاکستان اور اس کے لوگ خطرناک ہیں وہ پہلے یہاں آئیں اور خود دیکھیں کہ یہ ملک کتنا اچھا اور اس کے لوگ کتنے محبت کرنے والے ہیں، روزی کے مطابق میں جہاں گئی مجھے تنہا دیکھ کر ہر شخص میرا محافظ بنا، میری رہنمائی کی، ہر گھر کا دروازہ میرے لیئے کھولا گیا، خواتین نے مختلف کھانوں سے میری تواضح کی میں تو حیران ہوں کہ اتنی محبت کرنے والے لوگوں کو کیوں دنیا بھر میں بدنام کیا جاتا ہے۔۔۔!!

 

Video Courtesy By: Rosie Gabrielle

 

مارٹن کوبلر ہوں الیگزینڈر ہوں یا روزی، دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے ان افراد نے ذاتی تجربات اور مشاہدات سے یہ ثابت کیا کہ پاکستان سیاحوں کی جنت اور محبتوں کا امین ملک اور اس کے لوگ انتہائی مہمان نواز ہیں، ان غیر ملکیوں کے تاثرات کے بعد پاکستانی قوم کی ذمہ داریاں اور بھی بڑھ جاتی ہیں کہ ان کے ملک میں جو اور جب آئے اس کا شاندار استقبال بھی کیا جائے اور اسے اپنی مہمان نوازی سے مسحور بھی کیا جائے ایسے میں شرپسندی یا منفی بات کرنے والے کو اسی وقت روک دیا جائے، کیونکہ بیرونی دنیا میں پاکستان کا جتنا اچھا امیج بنے گا اتنے سیاح پاکستان آئیں گے اور ملک کی معیشت کی مضبوطی کا سبب بنیں گے۔

 

 

Share This Article

تازه ترین