مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس میں جعلی ٹرسٹ ڈیڈ پیش کرنے سے متعلق کیس کی سماعت احتساب عدالت کے معزز جج محمد بشیر نے کی، عدالت میں نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفرعباسی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ٹرسٹ ڈیڈ جعلی تھی، ٹرسٹ ڈیڈ سے متعلق عدالت کا دائرہ اختیار ہے، مریم نواز نے کہا عدالت کا دائرہ اختیارنہیں۔
معزز جج نے ریمارکس دیے کہ جعلی ٹرسٹ ڈیڈ کا معاملہ فرد جرم سے ہدف کردیا گیا تھا، نیب پراسیکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مریم نواز کی درخواست پرمعاملہ فرد جرم سے نکالا گیا تھا۔نیب پراسیکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے کہا تھا کہ جعلی دستاویزات کا معاملہ فیصلے کے بعد دیکھا جائے گا۔ سردار مظفر عباسی نے ایون فیلڈ ریفرنس کا حکم نامہ عدالت کو پڑھ کرسنایا۔احتساب عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد مریم نواز کے خلاف نیب کی جانب سے دائر جعلی ٹرسٹ ڈیڈ ریفرنس کی درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کردی۔

مسلم لیگ ن کی نائب صدر کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے، غیرمتعلقہ افراد کو احاطہ عدالت میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی، قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے احتساب عدالت میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ مریم نواز نے ایون فیلڈ ریفرنس میں جعلی ٹرسٹ ڈیڈ پیش کرکے عدالت کو گمراہ کیا تھا، عدالت اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے مریم نواز کو اس جرم میں بھی سزا سنائے۔
احتساب عدالت اسلام آباد میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ میں اور میاں صاحب بات چیت کے لوازمات پورے نہیں کر سکتے,صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ وہ کون سے لوازمات ہیں جو آپ لوگ پورے نہیں کر سکتے جس پر مریم نواز نے کہا کہ بات چیت کے لیے اصولوں کی قربانی دینی پڑتی ہے جس کے لیے ہم تیار نہیں ہیں۔
مریم نواز نے کہا کہ ڈیل دینے کی باتیں کرنے والے کو خود ڈیل کی ضرورت پڑ گئی ہے,رہنما ن لیگ نے کہا کہ میں تو موجودہ حکومت کو 5 سال دینے کے لیے تیار ہوں لیکن عوام انہیں مدت مکمل نہیں کرنے دیں گے کیونکہ حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔
یاد رہے کہ احتساب عدالت نے چھ جولائی 2018 کو ایون فیلڈ ریفرنس میں نوازشریف کو مجموعی طورپر گیارہ سال اور مریم نواز کو آٹھ سال قید بامشقت اور جرمانے کی سزا سنائی تھی اور ساتھ ہی مجرموں پر احتساب عدالت کی جانب سے بھاری جرمانے عائد کیے گئے تھے، فیصلے میں مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو 10 سال تک کسی بھی عوامی عہدے کے لیے بھی نااہل قرار دیا تھا اور 13 جولائی کو وطن واپسی پر نوازشریف اور مریم نواز کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔
مریم نواز کا نواز شریف کی تصویر والا لباس

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے جعلی ٹرسٹ ڈیڈ کی سماعت کے موقع پر عدالت میں پیشی کے لیے احتجاج کا نیا انداز اپنایا جس میں انہیں کالے رنگ کے کُرتے میں ملبوس دیکھا گیا، احتساب عدالت میں پیشی کے وقت مریم نواز کے کالے کُرتے پر سابق وزیر اعظم نواز شریف کی تصویر بنی ہوئی تھی جس پر ’بے گناہ نواز شریف کو رہا کرو‘ کے الفاظ بھی تحریر تھے۔
نیب والے شاہد خاقان عباسی کو پرہیزی کھانا بنا کردیں گے

قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیرکے روبرو پیش کیا گیا، عدالت میں سماعت کے آغاز پر معزز جج نے استفسار کیا کہ آپ کیا کہنا چاہیں گے؟ جس پر شاہد خاقان عباسی نے جواب دیا کہ ابھی تک نیب کوایل این جی کیس سمجھ نہیں آیا، میں چاہتا ہوں کہ 90 روزہ جسمانی ریمانڈ دیں تاکہ نیب کوکیس سمجھا دوں۔ نیب کی جانب سے مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی کے 14روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی تھی۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ گھرسے پرہیزی کھانا لانے کی اجازت دی جائے، احتساب عدالت کے معزز جج نے ریمارکس دیے کہ نیب والے آپ کو پرہیزی کھانا بنا کردیں گے۔
بعدازاں احتساب عدالت نے ایل این جی کیس میں گرفتار مسلم لیگ ن کے رہنما و سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے 13 روزہ جسمانی ریمانڈ کی منظوری دے دی، قومی احتساب بیورو (نیب) نے گزشتہ روز مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو گرفتار کیا تھا۔ نیب نے شاہد خاقان عباسی کو ایل این جی کیس میں طلب کر رکھا تھا لیکن انہوں نے نیب میں پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔