دنیا بھر میں جہاں کہیں انتہا پسندی یا دہشت گردی کی بات ہوتی ہے، لے دے کے ایک مسلمان کی پتلی گردن سب کو نظر آتی ہے اور فورا الزام لگا دیا جاتا ہے کہ یہ انتہ پسندی یا دہشت گردی لازمی کسی مسلمان نے ہی کی ہوگی۔
سونے پہ سہاگہ یہ کہ کسی دہشت گردی کے واقعہ کی ذمہ داری بھی کوئی نہ کوئی نام نہاد مسلمان تنظیم یا گروپ لے کر مسلمانوں کے دہشت گرد ہونے پر مہر لگادیتا ہے، لیکن نہ انسانی حقوق کے عالمی اداروں نے کبھی زحمت کی نہ انسانی حقوق کی علمبردار غیر ملکی حکومتوں نے یہ سوچنے اور سمجھنے کی زحمت گوارا کی کہ یہ ہر دہشت گردی کے پیچھے جو مسلمان نکل آتے ہیں یہ مسلمان ہی ہیں یا مسلم لبادے میں کرائے کے قاتل اپنا کام دکھ کر کسی اور کے مذموم مقاصد کی تکمیل کررہے ہیں۔
لیکن یہ حکومتیں ایسا سوچیں گی کیوں ۔۔؟؟ کیوں کہ اکثر دہشت گرد تو پالے ہوئے ہی ان کے ہیں، ان کا تو منصوبہ ہی پوری دنیا کے مسلمانوں کو دہشت گرد ثابت کرنا ہے اور سونے پہ سہاگہ مسلمان ممالک کی دو چار نمائندہ تنظیمیں ہیں انھیں آپسی جھگڑے سے فرصت نہیں وہ کیوں اپنے مذہب کے خلاف ہونے والی اس خوفناک سازش کے خلاف آواز بلند کرنے لگیں۔
بات ہورہی تھی بھارت کی امریکی سالانہ رپورٹ ہو یا کچھ غیر جانبدار عالمی ادارے بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ بھارت میں اقلیتوں کاص کر مسلمانوں کی زندگی اجیرن اور مشکل سے مشکل بنائی جارہی ہے لیکن ایک آدھی خبر لگتی ہے اس کے بعد وہی مجرمانہ خاموشی۔
دو سال قبل رمضانوں کی ہی بات ہے غالبا 24 جون 2017 کا وقعہ ہے کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں جمعے کی نصف شب ایک پولیس افسر محمد ایوب پنڈت کو سری نگر میں مار مار کر ہلاک کرنے کا بہیمانہ واقعہ سامنے آیا، یہ اس طرح کے ہجومی تشدد کا شورش زدہ وادی میں یہ پہلا واقعہ تھا۔

چونکہ معاملہ کشمیر کا تھا اس لیے ٹی وی چینلوں نے ’لنچنگ‘ کی خبر ملتے ہی ہر زاویے سے اس واقعے پر یلغار کر دی، ان چینلوں پر ہجومی حملے کے کچھ ویڈیو مناظر بھی دکھائے گئے۔ پولیس نے فوراً کاروائی کرتے ہوئے اس بہیمانہ حملے میں مبینہ طور پر ملوث 12 افراد کی شناخت بھی کر لی اور پانچ ملزموں کو گرفتار بھی کرلیا گیا اس دوران سبھی انڈین سیاسی جماعتوں اور کئی وزرا نے اس واقعے کی مذمت کرنے اور بحث و مباحثے میں حصہ لینے کا فرض بھی ادا کردیا ۔
لیکن اس کے دو ہی دن بعد ہریانہ کے کچھ مسلمان لڑکے عید کی خریداری کے لیے دلی آئے۔ واپسی میں جب وہ ٹرین پر بیٹھے تو کچھ مسافروں کے ایک گروپ نے مبینہ طور پر ان کے مسلمان ہونے پر طنزیہ فقرے کسنا شروع کیا۔ بات بڑھتی گئی ، مسافروں کے اس گروپ نے ان مسلمان لڑکوں کو بری طرح مارا اور ان کا اسٹیشن جب آیا تو ان میں سے تین کو چاقو مار دیا گیا۔ ان میں سے ایک 15 سال کے لڑکے جنید خان کی وہیں موت ہو گئی دو لڑکے اسپتال میں شدید زخمی ھالت میں منتقل کردیئے گئے، لیکن چونکہ بات مسلمانوں کی تھی اور ملزمان ہندو تھے اس لیئےاس خطرناک واقعے کے بارے میں عموماً خاموشی چھائی رہی، ریلوے پولیس یا مسافروں نے بھی کوئی مداخلت نہیں کی اور نہ ہی میڈیا نے رپورٹ کی نہ کسی سیاسی جماعت نے اس کی مذمت کی۔

مسلمانوں کے خلاف اس طرح کے لنچنگ یا ہجومی تشدد کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں۔ ملک کے سرکردہ مسلمان دانشوروں، مذہبی تنظیموں اور اہم شخصیات نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ ہے وہ عید کے روز کالی پٹی باندھ کر ہجومی تشدد سے تحفظ نہ دے پانے پر حکومت کے خلاف احتجاج کریں۔
بھارت میں مودی کی پہلی حکومت کے آغاز کے ساتھ ہی مسلمانوں کے خلاف نفرت کی مہم چل پڑی جس نے ملک کے طول و عرض کو لپیٹ میں لے لیا لیکن مجال ہے جو کسی حکومتی وزیر یا متعلقہ پولیس نے ان واقعات کی روک تھام اور ہندو غنڈوں کے خلاف کوئی کارروائی کی ہو۔ پھرسوشل میڈیا پر کچھ گروپوں نے مسلمانوں سے نفرت پیدا کرنے والی ویڈیوز اور پیغامات پوسٹ کرنا شروع کیں جس نے مسلمانوں کے خلاف مزید آگ بھڑکا دی ، بعض ٹی وی چینلز بھی قوم پرستی کی آڑ میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے لگے، لیکن ان معاملات کو روکا نہیں گیا۔

پھر تو جیسے ہندں غنڈوں کو موقع مل گیا کھلا میدا تھا جس کی جہاں مرضی آئی اپنی وحشت و بربریت کا مظاہرہ کیا ، مسلمانوں کو پہلے گائے کے گوشت پر پابندی کے نام پر نشانہ بنایا گیا۔ پھر غیر قانونی سلاٹر ہاؤسز کے نام پر بھینس اور بکرے کے گوشت کا کاروبار محدود کر دیا گیا۔ مویشیوں اور گوشت کا کاروبار کرنے والے لاکھوں لوگوں کی روزی روٹی متاثر ہوئی ان واقعات نے مسلمانوں کو شدید خوف و ہراس میں مبتلا کردیا ہے۔
ایک طرف مسلمانوں میں ڈر بڑھتا چلا گیا تو دوسری طرف ہندو انتہا پسندوں کی کارروائیوں میں اضافہ ہوتا گیا اور میڈیا کو بھی مسلمانوں کے خلاف ظلم وتشدد کے واقعات نظر آنا بند ہوگیا نتیجے میں آئے دن کے پرتشدد واقعات مین اضافہ ہوتا گیا ۔

تازہ واقعے میں بھارت کی مشرق ریاست بہار کے ضلع ساران میں ایک ہجوم نے تین افراد کو گائیں چرانے کے الزام میں پکڑ کر مار مار کر ہلاک کردیا، پولیس کا کہنا ہے کہ جمعہ کی صبح ہلاک ہونے والوں کو چور کہہ کر ایک گاؤں کے مقامی لوگوں نے پکڑ لیا تھا جب وہ بھینسوں اور ایک بچھڑے کو ایک ٹرک میں لاد رہے تھے۔
’گاؤ رکھشا‘کے نام پر اقلیتوں اوردیگر پسماندہ طبقوں پر ہونے والے ہجوم کے حملوں کی کڑی کے سلسلے کا یہ تازہ ترین واقعہ ہے جس کے وجہ سے انڈیا کی اقلیتیں خاص کر مسلمان بہت پریشان ہیں۔
ہلاک ہونے والوں کی شناخت بدیس نات، راجو نات اور نوشاد قریشی کے نام سے ہوئی ہے۔ پولیس کی رپورٹ کے مطابق، دو افراد تو ہجوم کے تشدد سے موقع پر ہی ہلاک ہو گئے تھے جبکہ ایک نے ہسپتال پہنچ کر دم توڑا تھا، ہلاک ہونے والوں کا تعلق بھی مقامی علاقے سے تھ، ناقدین انتہا پسند ہندو جماعت بی جے پی کی حکومت پر انڈیا میں بڑھتے ہوئے تشدد کو نہ روکنے کی ذمہ داری عائد کرتے ہیں، لیکن مودی جیسے سفاک اور بی جے پی جیسی انتہا پسند جماعت کو روکے تو کون روکے۔۔؟؟
اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2014 سے لے کر اب تک انتہا پسند ہندوؤں کے حملوں میں سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔ بی جے پی کی حکومت سنہ 2014 میں اقتدار میں آئی تھی۔ لیکن اب تک ان حملوں کے واقعات میں شاید دو یا چار افراد کو ہی سزائیں دی گئی ہیں، انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی پر اس حوالے سے تنقید بھی ہوئی ہے کہ وہ اس طرح کے حملوں کی موثر اور تیزی سے مذمت کرنے میں سست رہے ہیں لیکن مودی کو اس تنقید سے فرق کیا پڑنا ہے۔
پھر ہونا یہی تھا جیسا جمعہ کو ہوا کہ اپوزینش جماعتوں نے جب مودی سرکار کی انتہا پسندی کے خلاف آواز نہیں اٹھائی تو مودی کی یہی وحست و بربریت خود اپوزیشن کے گریبان تک پہنچ گئی اور جمعے کو بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کی جنرل سیکریٹری پریانکا گاندھی کو یوپی پولیس نے فائرنگ سے ہلاک ہونے ولے 10 افراد کی تعزیت کیلئے جانے سے روک کر حراست میں لے لیا۔

واقعہ یہ تھا کہ گزشتہ دنوں بھارتی ریاست اترپردیش کی ریاست سونبھادرہ میں زمین کے تنازع پر دو گروہوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں فائرنگ سے 3 خواتین سمیت 10افراد ہلاک ہوئے تھے۔ کانگریس کی جنرل سیکریٹری پریانکا گاندھی فائرنگ سے ہلاک ہونیوالوں کے لواحقین سے تعزیت کرنے جارہی تھیں کہ انہیں راستے میں ہی روک لیا گیا۔
پریانکا گاندھی نے اس موقع پر پولیس اہلکاروں سے مطالبہ کیا کہ انہیں بتایا جائے کہ آخر متاثرہ خاندان سےملنے سے کیوں اور کس قانون کے تحت روکا جارہا ہے، پولیس اہلکاروں کی جانب سے آگے نہ جانے دینے پر پریانکا گاندھی اور ان کے ساتھ موجود کارکنوں نے سڑک پر ہی بیٹھ جانے کا فیصلہ کیا، انہوں نے کچھ دیر سڑک پر بیٹھ کر دھرنا دیا جس کے بعد پولیس اہلکار پریانکا گاندھی کو حراست میں لے کر قریبی گیسٹ ہاؤس لے گئے، پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے پریانکا گاندھی کو گرفتار نہیں کیا بلکہ حفاظتی تحویل میں لیا ہے کیوں کہ متاثرہ ضلع میں حالات کشیدہ ہیں اور وہاں دفعہ 144 بھی نافذ ہے۔

پریانکا گاندھی نے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ انہیں گزشتہ 9 گھنٹوں سے چونر فورٹ میں قید کرکے رکھا ہوا ہے، پولیس حکام کا کہنا ہے کہ رہائی کیلئے مجھے 50 ہزار روپے کا ضمانتی مچلکہ جمع کرانا ہوگا بصورت دیگر مجھے 14 روز قید کی سزا ہوگی، پریانکا گاندھی نے مزید لکھا کہ پولیس اہلکار کہہ رہے ہیں کہ وہ کسی صورت مجھے سونبھادرہ نہیں جانے دے سکتے کیوں کہ انہیں ‘اوپر’ سے حکم آیا ہے۔، پریانکا گاندھی نے مزید لکھا کہ اگر حکومت مجھے جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈالے لیکن میں متاثرین سے ضرور ملوں گی۔
بتایا جاتا ہے کہ کانگریس کی جنرل سیکریٹری نے گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ اترپردیش کی حکومت قاتلوں کی پشت پناہی کرنے کے بجائے ان کے خلاف سخت کارروائی کرے۔اس کے علاوہ پریانکا نے اترپردیش اور ملک کے مختلف شہروں میں پیش آنے والے مذہبی واقعات اور امن و امان کی تیزی سے بگڑتی صورتحال کا ذمہ دار مودی حکومت کو ٹھہرایا تھا۔
لیکن شاید اب پانی سر سے اونچا ہوچکا ہے کانگریس حالیہ عام انتخابات میں شکست کھا چکی اور س کی شکست کی ایک بڑی وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ اس نے مظلوموں کے حقوق کیلئے اس وقت آواز نہیں اٹھائی جب بھارت کا نچلا طبقہ، اقلیتیں اور خاص طور پر مسلمان کانگریس کی جانب امید بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے، اب اگر کانگریس کا ہوش آہی گیا ہے تو انھیں مودی سرکار کی انتہا پسندی اور دہشت گردوں کی سرپرستی کے معاملے پر بھرپور آواز بلند کرنے کے ساتھ بین الاقوامی برادری کی توجہ بھی مودی سرکار کے ہتھکنڈوں کی جانب دلانا ہوگی تاکہ بھارتی اقلیتوں کو سکون کا سانس لینے کا موقع مل سکے، اگر اب بھی کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتیں ہوش میں نہ آئیں تو ان کی سیاست کی سانسیں رکنے کا خدشہ بڑھ جائے گا۔