چیئرمین سینیٹ کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد پر ایوان بالا کا اجلاس یکم اگست کو طلب  

 

سینیٹ اجلاس کے لیے وزارت پارلیمانی امور نے صدر مملکت کو سمری بھجوائی تھی جس کے بعد صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی  نے سینیٹ کا اجلاس یکم اگست کو طلب کیا ہے۔ اجلاس میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا  کو ہٹانے کی قرارداد پیش کی جائے گی۔اپوزیشن ارکان چیئرمین سینیٹ اور حکومت ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو ہٹانےکی الگ الگ قراردادیں پیش کریں گے۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ سینیٹ اجلاس میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کی قرارداد پر خفیہ رائے شماری کے ذریعے ووٹنگ ہوگی۔ریکوزیشن اجلاس میں چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کی تحریک پر صرف بحث ہوگی‘

 

گزشتہ روز چیئرمین سینیٹ نے اپوزیشن کی ریکوزیشن پر 23 جولائی کو ایوان بالا کا اجلاس بلانے کا اعلان کیا تھا۔

سینیٹ سیکریٹری ذرائع کے مطابق ریکوزیشن اجلاس کا آرڈر آف دی ڈے پیر کو تیار کیا جائے گا لیکن ریکوزیشن اجلاس کے ایجنڈے میں چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کی قرارداد پر ووٹنگ شامل نہیں ہو گی۔ذرائع کے مطابق ریکوزیشن اجلاس میں چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کی تحریک پر صرف بحث ہوگی۔

 

: چیئرمین سینیٹ

 

اٰدھر چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کا کہنا تھا کہ آئین میں چیئرمین یا ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کے لیے تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کا کوئی طریقہ موجود نہیں ہے۔

 

 

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے اپوزیشن کے خط پر اپوزیشن کے 7 پارلیمانی رہنماؤں کو جوابی خط لکھا ہے جو تین صفحات پر مشتمل ہے۔ صادق سنجرانی کی جانب سے اپوزیشن رہنماؤں کو لکھے گئے جوابی خط میں کہا گیا ہے کہ آئین میں چیئرمین یا ڈپٹی چیئرمین کو ہٹانے کے لیے عدم اعتماد کی تحریک کا کوئی تصور موجود نہیں ہے۔ انہوں نے لکھا کہ بطور نگران چیئرمین سینیٹ کی رولنگ کے تحفظ کے لیے لڑ رہا ہوں اور اپوزیشن کی جانب سے جمع کرائی گئی قرارداد کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں۔

خیال رہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کے لیے ریکوزیشن جمع کرائی گئی تھی جسے اعتراض لگا کر واپس کر دیا گیا تھا۔ تاہم اب اجلاس 23 جوالئی کو طلب کیا گیا ہے۔

Share This Article

تازه ترین