اگر ڈرون تباہ کیا گیا تو پھر امریکی جہاز کی تصاویر کیسے بناتارہا۔۔؟؟ ایران کا سوال  

 

ایرانی حکومت نے ٹرمپ انتظامیہ سے سوال کیا ہے کہ جس ایرانی ڈرون کے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا جارہا ہے سی ڈرون سے مسلسل امریکی جہاز یو ایس باکسر کی تصاویر بنائی جارہی ہیں پھر ڈرون تباہ کرنے کا امریکی دعویٰ کیا ہوا۔۔۔؟؟

 

ایران کے سرکاری ٹی وی نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ ’فوٹیج پاسداران انقلاب کی طرف سے جاری کی گئی ہے، جس میں امریکی جنگی جہاز کو فوکس کیا گیا ہے، فوٹیج میں خلیج میں موجود امریکی بحری بیڑے یو ایس ایس باکسرکے قریب ایک ڈرون کو دکھایا گیا ہے۔

 

 

امریکی صدر نے جمعے کو دعویٰ کیا تھا کہ یہ ڈرون ایرانی تھا جسے مار گرایا گیا ہے جبکہ ایران نے صدر ٹرمپ کا دعویٰ بے بنیاد قراردیتے ہوئے تازہ فوٹیج جاری کی ہے جس میں امریکی بحری جنگی جہاز کو فوکس کیا گیا ہے۔ ایرانی ٹی وی چینل کی طرف سے نشر کی گئی خبر میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ فوٹیج پاسداران انقلاب کی طرف سے جاری کی گئی ہے۔ایرانی ٹی وی چینل کے مطابق جس ڈرون طیارے کے بارے میں امریکی صدر نے کہا تھا کہ اسے مار گرایا گیا ہے وہ بدستور امریکی جنگی جہاز کی تصاویر بنا رہا ہے۔

 

ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کی ایک تقریب کے دوران اخباری نمائندوں کو بتایا تھا کہ یو ایس ایس باکسر نامی امریکی جنگی بحری جہاز نے جمعرات کو اس وقت دفاعی کارروائی کی جب یہ ڈرون بحری جہاز کے 1000 گز تک قریب آ کر جہاز اور اس کے عملے پر دھونس جما رہا تھا، اسے بار بار وارننگ دی گئی مگر انتباہ کے باوجود ڈرون طیارہ پیچھے نہیں ہٹا جس پر اسے مار گرایا گیا۔

 

ایران اپنے جوہری پروگرام کے وسیع تر معائنے کو تیار

 

دوسری جانب  ایران نے تجویز پیش کی ہے کہ اگر امریکا تہران پر عائد اقتصادی پابندیوں سے مستقل طور پر دستبردار ہو جائے تو ایران اپنے جوہری پروگرام کے وسیع تر معائنے (اضافی پروٹوکول) کو دائمی صورت میں قبول کر لے گا۔ تاہم امریکا نے اس پیش کش کی سنجیدگی پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔

 

 

برطانوی اخبار نے ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے نیویارک میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایران اضافی پروٹوکول پر فوری دستخط کر سکتا ہے جو اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں کو ایرانی جوہری پروگرام کے پُرامن ہونے کو یقینی بنانے کے لیے زیادہ راستے فراہم کرے گا تاہم اس کے لیے پہلے امریکا کو ایران پر عائد پابندیاں مستقل طور پر ختم کرنا ہوں گی۔

 

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے پہلے ہی مذکورہ پروٹوکول نافذ ہے لہذا یہ واضح نہیں کہ وہ کون سی رعایت ہے جو جواد ظریف اس تجویز میں پیش کر رہے ہیں، دوسری جانب ایک امریکی ذمہ دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ وہ اس معاملے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران پابندیوں میں نرمی حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جب کہ اس کے مقابل کوئی قابل ذکر چیز پیش نہیں کی گئی۔

 

امریکی عہدیدار نے واضح کیا کہ ایرانی تجویز سے یورینیم کی افزودگی کا سلسلہ موقوف نہیں ہو گا اور اس سے یمن ، عراق، شام اور لبنان میں ایران کی اپنے ایجنٹوں کے لیے سپورٹ میں کوئی کمی نہیں آئے گی، یاد رہے کہ مذکورہ اضافی پروٹوکول پر 1993 میں دستخط کیے گئے تھے،یہ پروٹوکول تفتیش اور دیگر وسائل کے ذریعے جوہری تنصیبات کے پر امن ہونے کو یقینی بنانے کے حوالے سے ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے اختیارات میں اضافہ کرتا ہے۔

 

 

Share This Article

تازه ترین