- ٹائر اور گاڑی
- ٹائر کی معیاد یا لائف
- ٹائر میں ہوا کا دباؤ
- وھیل الائنمنٹ اور وھیل بیلنسنگ
- آپ کو جب محسوس ہو کہ گاڑی کا اسٹیئرنگ دائیں بائیں ہورہا ہے یا کار چلنے میں دشواری محسوس کریں یا ہموار سڑک پر بھی گاڑی ہلکے ہچکولے کھائے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کی کار کے ٹائرز کو وھیل بیلسنگ یا الائنمنٹ کی ضرورت ہے فورا وقت نکال کر کام کروائیں اس سے ڈرائیونگ بھی سہل ہوگی، ٹائروں کی لائف بھی برقرار رہے گی اور فیول بھی کم استعمال ہوگا ان سب سے بڑھ کر آپ کے محفوظ رہنے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔
- پچھلے ٹائروں کا خاص خیال رکھنا
- عام طور پر گاڑیاں ٹو وھیل ڈرائیو ہوتی ہیں یعنی ان کے فرنٹ وھیلز ڈرائیو کرتے ہیں اور پچھلے ٹائرز اگلے ٹائرز کی اقتداء کرتے ہیں اسی وجہ سے اکثر گاڑی مالکان یاا ڈرائیورز فرنٹ وھیلز کی خامی تو فورا محسوس کرلیتے ہیں لیکن انھیں پچھلے وھیلز کی ذرا سی بھی خرابی پتہ نہیں چلتی، ضروری ہے کہ پچھلے ٹائرز کا بھی باقاعدہ معائنہ کرتے رہیں تاکہ کسی پریشانی سے محفوظ رہ سکیں۔
- ٹائرز کی اندرونی یا بیرونی خرابی کی نشاندہی
- کوشش کریں کسی وقت ٹائم نکال کر گاڑی کے چاروں ٹائرز کا اندرونی و بیرونی معائنہ کسی اچھے ٹائر شاپ سے کروائیں کہ کہیں بظاہر بہتر نظر آنے والے ٹائرز بیرونی لائنوں یا اندرونی طور پر خراب یا گل تو نہیں گئے، آپ کا یہ عمل آپ کو کسی ناگہانی مسئلے سے محفوظ رکھنے میں بہت معاون ثابت ہوگا۔
- تیز رفتاری اور اوور لوڈنگ
- اسی طرح گاڑی میں جتنے لوگوں کے بٹھانے کی گنجائش ہے اس سے زائد کو سوار کرنا کار کے انجن اور ٹائروں کے ساتھ اس میں سوار تمام افراد کی زندگی کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہیں اس سے پرہیز کریں اور گاڑی کے لوڈ کے حساب سے ہی لوگوں کو اس میں بٹھائیں۔
- ری کنڈیشنڈ ٹائرز

عنوان شاید عجیب سا لگے کہ انسانی زندگی کا مقابلہ ایک معمولی ٹائر سے کیسے کیا جاسکتا ہے، لیکن یہ تلخ بلکہ انتہائی افسوسناک حقیقت ہے کہ بہت سے لوگ جن کے پاس موٹرسائیکل یا کار یا کوئی اور گاڑی ہے وہ اس سے اپنی منزل تک پہنچنے اور اپنے روزمرہ امور نمٹانے کیلئے فئدہ تو اٹھاتے ہیں لیکن جن پہیوں پر یہ بائیک یا گاڑی چلتی ہے انھیں ہمیشہ فراموش کردیتے ہیں کہ ابھی ٹائر صحیح لگ رہے ہیں ابھی کچھ دن اور چلیں گے، پھر کبھی جیب اجازت نہیں دیتی تو کبھی کچھ بچائے ہوئے پیسے کسی اور کام میں لگا دیئے جاتے ہیں کہ ٹائر ہی تو ہے خیر ہے بعد میں تبدیل کرادیں گے۔
اور یہیں سے آغاز ہوتا ہے اس موازنے کا جس میں ایک انسانی زندگی ایک ٹائر کی قیمت کے برابر آجاتی ہے۔ جسے ہم آسانی سے اور مسلسل فراموش کرکے نہ صرف اپنی بلکہ بائیک یا گاڑی میں سفر کرنے والے تمام لوگوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔
ٹائر اور گاڑی

کسی بھی بائیک یا گاڑی کا واحد حصہ ٹائر ہوتا ہے جو باڈی اور زمین سے منسلک ہوتا ہے، ٹائر کے بغیر انتہائی بیش قیمت اور نئی چمچماتی گاڑی بھی کسی مصرف کی نہیں ہوتی، یہ ٹائرز ہی ہیں جو فاصلے طے کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں ایک ٹائر کی اہمیت صرف اس وقت معلوم ہوتی ہے جب آپ کی نئی کار کا ٹائر کسی ویران جگہ پر پنکچر ہوجائے اور آپ کے پاس اسے تبدیل کرنے یا پنکچر لگانے کی سہولت نہ ہو تو وہ مہنگی گاڑی بھی کاٹنے کو دوڑتی اور ایک بوجھ بن جاتی ہے۔
اس لیئے ان ٹائروں کی اہمیت کم نہ سمجھیں اور آج بلکہ ابھی سے پہلے اپنی گاڑی اور ٹائروں کے باقاعدہ معانے کی عادت ڈال لیں، سب سے پہلے ٹائروں کے حوالے سے چھ اہم نکات جن کا جاننا گاڑی چلاانے والے کیلئے نہایت ضروری ہے۔
ٹائر کی معیاد یا لائف

ٹائرز عام طور پر سنتھیٹک ربر، قدرتی ربر اور کچھ کیمیکل کا مرکب ہوتے ہیں، ٹائروں کی تیاری میں ان چیزوں کے معیار اور مقدار کا انحصار ٹائر بنانے والی کمپنی پر ہوتا ہے کہ وہ اپنے صارفین کو کس معیار کے ٹائرز فراہم کررہی ہے، عام طور پر کوئی بھی ٹائر 30 ہزار سے 80 ہزار کلومیٹر تک کی لائف کا حامل ہوتا ہے لیکن اس کا انحصار گڑی کی حالت اور سڑکوں کی حالت کے ساتھ موسم کی سختی نرمی پربھی ہوتا ہے، اگر ریتیلے، پتھریلے یا کسی سخت سڑک پر گاڑی چلائی جاتی ہے تو ٹائر کی لائف آدھی سے بھی کم ہوجاتی ہے ایسی صورت میں لازمی ہے کہ گڑی کا مالک یا ڈرائیور باقاعدگی سے ٹائروں کا جائزہ لیتا رہے۔
اس کے ساتھ ہی ہر ٹائر کی ایک ختم ہونے والی تاریخ ہوتی ہے جس کے بعد اسے تبدیل کیا جانا ضروری ہوتا ہے۔ چہے اس کی ظاہری حالت کتنی ہی اچھی کیوں نہ نظر آرہی ہو لیکن اندرونی طور پر اس کا ربر اپنی مدت پوری کرچکا ہوتا ہے، ایسے میں گاڑی چلائیں گے تو ٹائر کے پهٹنے کا شدید اندیشہ ہوتا ہے جو دورانِ سفر انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ یاد رکهیں بناوٹ کی تاریخ سے کسی بهی ٹائر کی محفوظ زندگی چار سال تک ہوتی ہے۔ اب آپ سوچیں گے ٹائر تیار ہونے کی تاریخ کس طرح جان سکتے ہیں؟

یہ ہر ٹائر پر چار ہندسوں کے طور پر لکھی ہوتی ہے۔ پہلے دو ہندسے تیاری کے ہفتے کی نمائندگی کرتے ہیں، جبکہ آخری دو تیاری کا سال بتاتے ہیں۔ یہ چار ہندسے ٹائر پر الگ لکهے ہوتے ہیں، ان کے ساتھ حروف تہجی شامل نہیں کیے جاتے۔ کچھ کمپنیاں چار ہندسوں سے پہلے اور بعد میں سٹار کا نشان (*) بهی بناتی ہیں۔
مثال کے طور پر اگر یہ چار ہندسے 1612 ہیں تو ان کا مطلب ہے کہ ٹائر سال 2016 کے 12 ویں ہفتہ یعنی (مارچ کے آخری ہفتے) میں تیار کیا گیا تھا۔ یعنیاس ٹائر کی محفوظ میعاد 2020 کے 12 ویں ہفتہ میں ختم ہو جائے گی۔ لہذا آپ کو اس تاریخ کے بعد ٹائر بدلنا ہوگا۔
کچھ کمپنیوں کے ٹائر پر تیاری کی تاریخ نہیں بتائی جاتی۔ یہ ایک سنگین جرم ہے مگر چین کے کچھ برانڈز میں عام ہے۔ مینوفیکچرنگ کی تاریخ دیکهے بغیر ٹائر خریدنا ایسا ہی ہے جیسے مدت میعاد دیکهے بغیر ادویات کا استعمال کرنا۔ بلکہ شاید یہ اس سے بھی بدتر ہے۔ کیونکہ خراب ادویات تو صرف آپ کو تکلیف پہنچا سکتی ہیں۔ جبکہ ٹائر کا پهٹنا گاڑی کے تمام مسافروں کی زندگی کو خطرے میں ڈالتا ہے۔
ٹائر میں ہوا کا دباؤ

ٹائر نئے ہوں یا کچھ پرانے اس کیلئے لازمی ہے کے ہوا کا دباؤ برابر رکھا جائے اس سلسلے میں ٹائروں کے مینول سے مدد لی جاسکتی ہے جس میں درج ہوتا ہے کہ کس موسم میں کتنا پریشر درکار ہوتا ہے، لیکن ٹائروں میں کم ہوا اس کے گھسنے کا دورانیہ گھٹا دیتی ہے جبکہ زیادہ ہوا سے ٹائر پھٹنے کا خدشہ رہتا ہے اور دونوں ہی صورتیں حادثے کا باعث بن سکتی ہیں۔
وھیل الائنمنٹ اور وھیل بیلنسنگ

آپ کو جب محسوس ہو کہ گاڑی کا اسٹیئرنگ دائیں بائیں ہورہا ہے یا کار چلنے میں دشواری محسوس کریں یا ہموار سڑک پر بھی گاڑی ہلکے ہچکولے کھائے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کی کار کے ٹائرز کو وھیل بیلسنگ یا الائنمنٹ کی ضرورت ہے فورا وقت نکال کر کام کروائیں اس سے ڈرائیونگ بھی سہل ہوگی، ٹائروں کی لائف بھی برقرار رہے گی اور فیول بھی کم استعمال ہوگا ان سب سے بڑھ کر آپ کے محفوظ رہنے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔
پچھلے ٹائروں کا خاص خیال رکھنا

عام طور پر گاڑیاں ٹو وھیل ڈرائیو ہوتی ہیں یعنی ان کے فرنٹ وھیلز ڈرائیو کرتے ہیں اور پچھلے ٹائرز اگلے ٹائرز کی اقتداء کرتے ہیں اسی وجہ سے اکثر گاڑی مالکان یاا ڈرائیورز فرنٹ وھیلز کی خامی تو فورا محسوس کرلیتے ہیں لیکن انھیں پچھلے وھیلز کی ذرا سی بھی خرابی پتہ نہیں چلتی، ضروری ہے کہ پچھلے ٹائرز کا بھی باقاعدہ معائنہ کرتے رہیں تاکہ کسی پریشانی سے محفوظ رہ سکیں۔
ٹائرز کی اندرونی یا بیرونی خرابی کی نشاندہی

کوشش کریں کسی وقت ٹائم نکال کر گاڑی کے چاروں ٹائرز کا اندرونی و بیرونی معائنہ کسی اچھے ٹائر شاپ سے کروائیں کہ کہیں بظاہر بہتر نظر آنے والے ٹائرز بیرونی لائنوں یا اندرونی طور پر خراب یا گل تو نہیں گئے، آپ کا یہ عمل آپ کو کسی ناگہانی مسئلے سے محفوظ رکھنے میں بہت معاون ثابت ہوگا۔
تیز رفتاری اور اوور لوڈنگ

کچھ لوگوں کو گاڑی تیز ڈرائیو کرنے میں ایک انجانی خوشی ملتی ہے اور شاید ایک احساس برتری ان میں پیدا ہوجاتا ہے یاد رکھیں تیز رفتاری ہر طرح سے نقصان دہ ہے کب آپ کی گڑی کا ٹائر یا کوئی انجن کا پرزہ اس تیز رفتاری کا ساتھ نہ دیتے ہوئے دغا دے جائے کچھ پتہ نہیں ایسے میں نتیجہ صرف خوفناک حادثہ کی صورت میں ہی نکلتا ہے۔
اسی طرح گاڑی میں جتنے لوگوں کے بٹھانے کی گنجائش ہے اس سے زائد کو سوار کرنا کار کے انجن اور ٹائروں کے ساتھ اس میں سوار تمام افراد کی زندگی کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہیں اس سے پرہیز کریں اور گاڑی کے لوڈ کے حساب سے ہی لوگوں کو اس میں بٹھائیں۔
ری کنڈیشنڈ ٹائرز

پاکستان میں چھوٹی سے لے کر بڑی گاڑیوں تک کے مالکان اور ڈرائیورز رقم بچانے اور باہر کے نام پر ری کنڈیشنڈ ٹائرز لگوا کر سمجھتے ہیں جیسے انھوں نے بہت بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہو، جبکہ انھیں اتنی سی بات سمجھ آنی چاہیئے کہ جن ممالک سے یہ ٹائرز اسمگل کرکے یا کچھ کسٹم ادا کرکے امپورٹ کیئے جاتے ہیں ان ممالک کی سڑکوں کی حالت بہت بہترین ہوتی ہے تو جب ان بہترین سڑکوں پر ہی جو ٹائرز اپنی مدت پوری کرچکے ہوں وہ پاکستانی سڑکوں کے قابل کس طرح ہوسکتے ہیں، اس کا مطلب ہے آپ اپنی رقم اور جان دونوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں، اس لیئے بہتر ہے کہ گاڑی میں جب ٹائرز ڈلواائیں نئے اور کسی معیاری کمپنی کے ٹائرزہوں جو پاکستانی سڑکوں کی مناسبت سے تیار کیئے گئے ہوں۔
یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ اپنی گاڑی اور اس کے ٹائروں کی دیکھ بھال اور احتیاطی تدبیر آپ کو زندگی بھر کے پچھتاوے سے محفوظ رکھتی ہے، ایک محتاط اندزے کے مطابق پاکستان میں ہر سال 30 ہزار افرد ٹریفک حادثات کا شکار ہوجاتے ہین جن میں سے 80 فیصد حادثات ٹائر پھٹنے یا تیز رفتاری کے باعث پیش آتے ہیں۔ اس لیئے اپنی گاڑی اور ٹائروں کا خیال رکھیں اپنے لیئے اور اپنے پیاروں کیلئے۔
