منشیات کا استعمال پوری دنیا کیلئے ایک ایسے عفریت ک روپ اختیار کرچکا ہے جس سے نمٹنے کیلئے پوری پوری حکومتی مشینریاں کام کررہی ہیں لیکن اس کا استعمال ہو یا اس کی خریدوفروخت یہ پھر بھی تیزی سے پھیلتا جارہا ہے۔

منشیات کی بےشماراقسام تومارکیٹ میں پہلےسے تھیں ہی لیکن موت کے سوداگر مسلسل اس جستجو میں لگے رہتے ہیں کہ کس طرح کو ئی نیا نشہ تیار کیا جائے تاکہ پرانے خریداروں کے ساتھ نئے لوگوں کو بھی اس جانب متوجہ کرکے انھیں اس کا عادی بنائیں اور اندھی دولت کمائیں، ایسا ہی ایک نشہ ہے جسے "آئس” کا نام دیا گیا ہے۔

"آئس” نامی اس نشے کو چند سال پہلے ہی مارکیٹ میں متعارف کرایا گیا ہے اور اسے یہ نام اسکی کرسٹل حالت یا برف جیسی صورت کی بنیاد پر دیا گیا ہے، آئس نشے میں "میتھا مفیتامین” نامی ملہک دوا کو دیگر خطرناک کیمیکلز کے ساتھ ملا کر بنایا جاتا ہے، یہ دوا انتہائی غنودگی کیلئے کسی خطرناک اورجان لیوا مرض میں مبتلا مریض کو کچھ دیر کے سکون کیلئے دی جاتی ہے اور اس کا کام صرف دماغ کو کچھ دیر کیلئے تھپک کر سلادینا ہے جس سے مریض کچھ دیر کیلئے درد و اذیت سے بیگانہ ہوجاتا ہے۔

 آئس نشے پر تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ چینی یا نمک کے بڑے دانے کے برابر ایک کرسٹل کی قسم کی سفید چیز ہوتی ہے جسے باریک شیشے سے گزار کر حرارت دی جاتی ہے۔ ان کے مطابق اس کے لیے عام طور پر بلب کے باریک شیشے کو استعمال کیا جاتا ہے جبکہ اسے انجیکشن کے ذریعے سے بھی جسم میں اتارا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق منشیات کے مکروہ کاروبار میں ملوث موت کے سوداگروں نے کروڑوں روپے کی لاگت سے جدید لیبارٹریاں بنا رکھی ہیں جہاں وہ دن رات نت نئے اقسام کے نشے تیار کروانے میں مصروف رہتے ہیں، "آئس” نامی نشے کی تیاری بھی ایسی ہی کسی موت کی لیبارٹری کی کارستانی ہے جس نے اس دوا میں مزید خطرناک کیمیکلز کی آمیزش سے اسے انتہائی خطرناک ، زہریلا لیکن بظاہر بے ضرر دکھنے والا نشہ بنادیا۔

"آئس” نشہ اپنی ظاہری صورت کے اعتبار سے کوئی منشیات لگتا بھی نہیں اور اس میں کوکین، چرس، ہیرون کی طرح کوئی بدبو بھی نہیں ہوتی، اس کی کرسٹل شکل اور بے بو خاصیت نے اس نشے کو دنیا بھر میں مقبولیت بخشی خاص طور پر طلبہ وطالبات اور نوجوان ہنرمند طبقہ اس کی لپیٹ میں آگیا، کہا جاتا ہے کہ دفتروں بازاروں، دوستوں کی محفلوں سے نکل کر یہ نشہ اسکول کالجز اور یونیوسٹیوں تک پہنچ کر لاکھوں طلبہ و طالبات کو اپنا غلام بنا چکا ہے۔

آئس نشے کے نقصانات

ویسے تو منشیت کی ساری اقسام ہی انسان کو اندر سے کھوکھلا کرکے موت کے دہانےپرپہنچا دیتی ہیں لیکن بین الاقوامی ریسرچ کے مطابق "آئس” نشہ دیگر تمام منشیت کی اقسام سے زیادہ مہلک اور خطرناک ہے، اسے استعمال کرنے والے کو ابتدا میں تو سرور و مزے کے ساتھ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس سے زیادہ طاقت وراورذہین کوئی نہیں لیکن اصل میں یہ اس نشےکی وہ لالچ ہے جو اسے استعمال کرنے والے کو مزید نشہ کرنے پرمجبورکرتی ہےاورچند دنوں میں عادی بن جانے کےبعد اس پینے والا سخت چڑچڑے پن اورموڈسوئنگ کا شکارہوتا ہے،اسکےبعد اسکی بھوک پیاس ختم ہوجاتی ہےجواسےجسمانی طورپرانتہائی کمزورکردیتی ہےاوررفتہ رفتہ اسےاپنےدل و دماغ پرکنٹرول نہیں رہتا۔

دماغی کنٹرول پر گرفت کمزور ہونے کے بعد "آئس” نشے کا عادی ماں، بہن، بیٹی، بیوی، دوست میں تمیز کھو بیٹھتا ہے یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں "آئس " نشے کے عادی افراد کی جانب سے ہی "ریپ” اور زیادتی کے سب سے زیادہ واقعات سامنے آئے ہیں جو اس نشے کا خطرناک ترین پہلو ہے۔پھر  اس نشے کا عادی فرد ہلکے ہلکے جرم کی جانب مائل ہونا شروع ہوجاتا ہے اس کے اندرسماج کے خلاف نفرت بیدار ہوتی ہے جو اسے جرم کے دوران سامنے آنے والی ہر رکاوٹ کو ختم کرنے پر مجبور کرتی ہے۔

کئی سال تک آئس کا نشہ کرنے والے اکثر افراد پاگل پن کا شکار ہوجاتے ہیں اور ان میں ایسی تبدیلیاں پیدا ہوجاتی ہیں کہ وہ ہر قریبی شخص کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ شاید کوئی انھیں مارنے کے لیے سازش کررہا ہے۔

 

ماہرین کے مطابق آئس نشے کا جس طرح سے نوجوان نسل میں استعمال بڑھتا جارہا ہے اگر اس پر بروقت قابو نہیں پایا گیا تو دنیا بھرمیں یہ نشہ نوجوانوں کو وقت سے پہلے بوڑھا بنانے اور ان کی صلاحیتوں کے خاتمے کے ساتھ انھیں مجرم بنانے کا باعث بن سکتا ہے اور اگرچہ ہر نشے کا انجام دردنک موت ہوتا ہے لیکن آئس نشے کا عادی "خطرناک پاگل پن” کا شکار ہوکر اپنے اور اپنے خاندان و معاشرے کیلئے کسی پاگل کتے سے زیادہ خطرنک ثابت ہوسکتا ہے اس کامطلب سوائے تباہی، بربادی اور پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔

"آئس” نشے کی ہی بات ہورہی ہے تو یہ بھی بتاتے چلیں کہ پاکستان میں اس کا استعمال بھی خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے اور  اس کی خرید و فروخت کیلئے بھی نت نئے طریقے ڈھونڈے جارہے ہیں تاکہ قانون نافذ کرنے والوں کی گرفت سے بچا جاسکے، لیکن انسدد منشیات والے بھی قیامت کی نظر رکھتے ہیں۔

تازہ ترین واقعہ کے مطابق شہر قائد میں موت کے سوداگروں نے فیس بک پیج کے ذریعے ملک بر میں "آئس” نشے کی فروخت شروع کی لیکن انھیں پولیس نے انتہائی مہارت سے پکڑ کر پورے گینگ کا صفایا کردیا ہے اس حوالے سے زیر حراست ملزمان نے بھی سنسنی خیز انکشافات کیئے ہیں۔

 

کراچی کےضلع جنوبی کےسینئرسپریٹنڈنٹ پولیس شیرازنذیر نے میڈیا بریفنگ میں منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث گروہ کے ممبران کی گرفتاری کے بعد ان سے حاصل ہونے والی معلومات کی روشنی میں تفصیلات بتتے ہوئے کہا کہ منشیات کی فروخت میں ملوث ملزمان اپنے لیے گاہک تلاش کرنے ، رقم کی ادائیگی اور مال پہنچانے کے لیے جدید ذرائع اختیار کررہے تھے۔ اس سلسلے میں فیس بک، سوشل میڈیا اور آن لائن رقم کی منتقلی کے سارے جدید ذرائع بھی استعمال کیئے جارہے تھے۔

ایس ایس پی کا کہنا تھا کہ منشیات فروشی میں ملوث گروہ کے کچھ ارکان کو حراست میں لیا گیا ہے ، جن میں ایک خاتون بھی شامل ہیں، جو کسی زمانے میں ایک اسکول میں ٹیچنگ کیا کرتی تھیں۔انہوں نے بتایا کہ آئس کے حصول کے لیے رقم آن لائن منتقل کی جاتی ہے جو کہ بلوچستان میں وصول ہوتی ہے، بلوچستان کے شہر حب سے چلنے والے منشیات کےاس نیٹ ورک کے مرکزی کردار خالد رئیسی اور مطیع الرحمان ہیں۔

ملزمان کے مطابق فیس بک پیج کی مدد سے گاہکوں کو تلاش کیا جاتا ہے، انہیں خالص مال پہنچانےکا یقین دلایا جاتا ہے اورادائیگی کےبعدآن لائن بتایا جاتا ہےکہ فلاں دکان کے پیچھےسےمنشیات اٹھالو،کبھی کبھار منشیات پتھروں کے نیچےبھی چھپا کر دی جاتی ہے، زیرحراست ملزمان میں ایک خاتون بھی شامل ہے جس کا کہنا ہے کہ برے دوستوں کی صحبت کے سبب اسے منشیات کی لت لگ گئی، جسے پورا کرنے کے لیے اس نےاس گینگ میں شمولیت اختیار کی ۔

ایس ایس پی ضلع جنوبی کے مطابق ملزمان کراچی کےفارم ہاؤسزاور ساحلی علاقے ہاکس بے پر بھی منشیات سپلائی کرتے تھے،آئس نامی یہ نشہ اکثر پرائیویٹ پارٹیز میں بھی سپلائی کیا جاتا ہے،ملزمان نے تفتیش کے دوران یہ بھی انکشاف کیا کہ آئس کے قیمت کے بدلے چوری کی گاڑی ، زیور ی کوئی بھی قیمتی سامان بھی قبول کرلیا جاتا ہے ، جس کی وجہ سے گاڑیوں کی چوریوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اس سے قبل بھی رواں سال مئی میں کراچی کے علاقے بہادرآباد سے تعلیمی اداروں میں آئس نشہ فروخت کرنے والا 15 رکنی گروہ گرفتار کیا گیا تھا ، ملزمان میں ایک سیاسی جماعت کی خاتون کونسلر بھی شامل تھیں۔ گرفتار خاتون ملزمہ نارتھ ناظم آباد کی کونسلر اور خود بھی آئس نشے کی عادی تھی، پولیس کے مطابق ملزمان اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں منشیات فروخت کرتے تھے، گروہ نوجوان لڑکے لڑکیوں کو ٹریپ کرتا تھا ان کی ویڈیو بناتا اور بلیک میل کرتا تھا۔

رواں ماہ 2 جولائی کو انسدادِ منشیات فورس نے بھی کراچی میں ایک کارروائی کے دوران 18 کلو گرام ‘آئس” منشیات پکڑی تھی ، جو فیصل آباد سے کراچی اسمگل کی گئی تھی جبکہ خیبر پختونخواہ پولیس نے بھی افغانستان سے پاکستان آئس منشیات کا دھندا کرنے والا عالمی نیٹ ورک رواں ماہ پکڑا تھا، گرفتار کیے گئے 12 اسمگلرز سے کروڑوں روپے مالیت کی منشیات بر آمد ہوئی تھی، پولیس کے مطابق عالمی اسمگلروں کی گرفتاری حساس اداروں کی مدد سے عمل میں لائی گئی تھی۔

 

نشہ آئس کا ہو یا کسی بھی دوسری منشیات کا اس کا انجام انسانی صحت کے خاتمے کے بعد، جرم کی جانب رغبت اور پھر دردناک موت کے سوا  کچھ نہیں ہوتا، اس سے بچاؤ صرف ایک ہی صورت میں ممکن ہے کہ اپنے اہل خانہ اور ملنے جلنے والوں پر نظر رکھیں جو بھی کسی نشے کا عادی نظر آئے اس کی دلجوئی کرتے ہوئے اسے نشے کی عادت چھوڑنے پر مجبور کریں، اس کا علاج کرائیں اور اس کی محرومیوں کو ختم کریں، اگر انفرادی طور پر سب نے مل کر اپنی ذمہ داریاں نہیں نبھائیں تو آپ کے اپنے پیارے ان جان لیوا عاادتوں میں مبتلا ہوکر نہ صرف پوری نسلوں کی تباہی کا سبب بنیں گے بلکہ اپنی دردناک حالت اور موت سے خاندان کو غم و پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں دے سکیں گے۔

 

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے