ٹرمپ کی مسئلہ کشمیر میں ثالثی کی پیشکش،خان افغان حل میں معاونت کریں گے

 

آخرکار ساری قیاس آرائیاں، مبالغےاوراٹکلیاں اپنےاختتام کو اس وقت پہنچ گئیں جب وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئی اور اس میں وہ باتیں بھی ہوئیں جن کا کسی نے سوچا بھی نہ تھا یعنی مسئلہ کشمیر۔

امریکی صدر نے وزیراعظم سے ملاقات میں کہا کہ اگر وہ چاہیں تو میں (ٹرمپ) مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے نہ صرف ثالثی کا کردار ادا کرسکتا ہوں بلکہ پاک بھارت کشیدہ تعلقات کو بہتر بنانے کی بھی کوشش کروں گا۔

امریکی صدر نے عمران خان کو بتایا کہ وہ دو ہفتے قبل انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ تھے اور انھوں نےاس موضوع پر بات کی جس پر بھارتی وزیراعظم نے کہا کہ کیا آپ اس معاملے پر ثالث بننا چاہیں گے؟ جواب میں میں نے پوچھا کہاں؟ تو انھوں نے کہا "کشمیر”۔ کیونکہ یہ معاملہ کئی سالوں سے چل رہے ہے، میرا خیال ہے کہ مودی بھی چاہتے ہیں کہ یہ حل ہو جائے، کیا آپ بھی چاہتے ہیں کہ معاملہ حل ہو جائے؟ اگر میں مدد کر سکوں تو میں بخوشی ثالث کا کردار نبھانے کے لیے تیار ہوں۔ اگر میں کوئی مدد کر سکتا ہوں تو مجھے ضرور بتائیں۔

جواب میں عمران خان نے واضح اندازمیں کہا کہ پاکستان ہمیشہ بھارت سے بطور پڑوسی بہتر تعلقات کا خواہاں ہے اور ہم اس سلسلے میں مسلسل کوششیں کرتے رہتے ہیں لیکن کشیدگی کے خاتمے کیلئے مذاکرات اور مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے اگر ڈونلڈ ٹرمپ اس مسئلے کے حل کیلئے کوئی اقدام کرسکیں تو پوری پاکستانی قوم کی دعائیں ان کے ساتھ ہوں گی۔

امریکی صدر کی ثالثی کی پیشکش پر کشمیری قیادت کی جانب سے بھی خیر مقدمی بیانات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں تاہم امریکی تھنک ٹینک اس معاملے کو کیسے دیکھتا ہے اس کا اندازہ آئندہ کچھ روز میں ہوجائے گا کیونکہ امریکہ نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر کو دو ممالک کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے اس سے دور رہنے کی پالیسی اپنائی ہے، ایسے میں ٹرمپ کا یہ "یوٹرن” کتنا کارآمد ہوتا ہے اور بھارت جو اس سے قبل چین اور برطانیہ کی ثالثی کی پیشکش ٹھکرا چکا ہے

یہ بھی سوال  اہم ہے کہ کیا مودی اب تک اپنی اس خواہش پر برقرار بھی ہیں یا نہیں جو انھوں نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے بیان کی تھی۔۔؟؟ اور کیا واقعی بھارت اب مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے مخلص ہے یہ سب ایسے امور ہیں جو جواب طلب ہیں۔

ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ نے افغانستان کے حوالے سے کہا کہ "پاکستان اس وقت افغانستان میں ہماری بہت مدد کررہا ہے، امریکا، پاکستان کے ساتھ کام کررہا ہے اور خطے میں پولیس مین بننا نہیں چاہتا” امریکی صدر نے کہا کہ اگر میں چاہتا تو یہ جنگ ایک ہفتے میں جیت جاتا اورافغانستان صفحہ ہستی سے مٹ جاتا مگر میں ایک کروڑ لوگوں کو ہلاک کرنا نہیں چاہتا ۔ عمران خان افغانستان کے لاکھوں لوگوں کی جن بچانے کا سبب بن سکتے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے اس موقع پر کہا کہ افغانستان کے مسئلہ کا حل صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ طالبان سے امن معاہدہ کبھی بھی اتنا قریب نہیں تھا جتنا اب ہے۔ جس پر ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ آنے والے دنوں میں پاکستان طالبان پرمذاکرات جاری رکھنے کے لیے زور دے گا۔

اس سے قبل وزیراعظم عمران خان وائٹ ہاؤس پہنچے تو صدر دونلڈ ٹرمپ نے ان کا استقبال کیا، بد ازاں دونوں رہنماؤں کے درمیان خیرمقدمی کلمات کا تبادلہ ہوا جس کے بعد میڈیا سے مختصر گفتگو کی گئی، اس موقع پر ایک صحافی نے پاکستان میں آزادیٰ صحافت کی سورتحال پر عمرن خان سے سوال کیا تو ان کا کہنا تھ کہ میڈیا پر جتنی تنقید میرے خلاف ہوتی ہے اس کا تو آپ سوچ بھی نہیں سکتے ایسی تنقید تو آج تک کسی پر نہیں ہوئی، عمران خان کے اس جواب پر "ڈونلڈ ٹرمپ فورا بولے یہ ممکن ہی نہیں جتنا برا سلوک میرے ساتھ یہاں ہوتا ہے آپ کے ساتھ اتن برا سلوک کیا گیا ہو۔۔!!”

 

ٹرمپ عمران ملاقات سے قبل یہی خیال کیا جارہا تھا کہ افغانستان کے حوالے سے بات چیت کو مرکزیت حاصل رہے گی اور امریکہ چونکہ افغانستان میں بری طرح پھنسا ہوا ہے اس لیئے پاکستان کے کردار کی اسے ضرورت بھی ہے ایسے میں پاکستانی قیادت کس طرح امریکی سپورٹ اپنی جانب کرپاتی ہے یہ ملاقات کے بعد ہی پتہ چلے گا اور ہوا بھی ایسا ہی دونوں رہنماؤں کو ایک دوسرے کی اہمیت اور اس کی ضرورت کا پتہ تھا س لیئے اگر یہ کہا جائے کہ معاملہ برابری کی بنیاد پر ہوا ہے تو غلط نہ ہوگا۔

دوسری جانب پاکستان مین اپوزیشن جماعتین بھی چہین گی کہ وہ عمران خان کے دورہ امریکہ کو نکام ثابت کرنے کیلئے باریک سے باریک بات نکال کر اس کا ایشو بنائیں، ساتھ ہی سوشل میڈیا پر بھی سیاست سے نابلد  "سینئرتجزیہ کارافراد” کی تنقید اور تبصروں کا سلسلہ جاری ہے، لیکن مسئلہ کشمیر کے حوالے سے گفتگو اور ٹرمپ کے دوستانہ انداز نے بہت سوں کے منہ از کود بند کردیئے ہیں اور جس طرح کیپیٹل ون ارینا کی خان صاحب کی تقریر سے قطعہ نظر وہاں کے اجتماع کی تعداد نے عمرن خان کے دورے کو ابتدائی مرحلے میں ہیں نصف کامیاب کردیا تھا ویسے ہی وائٹ ہاؤس ملاقات نے وزیراعظم کے دورے کو ایک مظبوط دلیل فرہم کردی ہے جو ناقدین اور تنقید کرنے والوں کے منہ بند کرنے کیلئے کافی ہوگی۔

ایسے میں شفقنا اردو نیوز کی ایک دن قبل کی یہ خبر بھی درست ثابت ہوئی جس میں کہا گیا تھا کہ

بات "امریکی مطالبے ڈو مور سے پلیز ڈو سمتھنگ” تک آسکتی ہے۔

 

Share This Article

تازه ترین