مسئلہ کشمیرکیلئےامریکی ثالثی اور بھارتی احتجاج، بات کہیں اور نکل گئی۔۔!!  

 

صرف چند ہی گھنٹے گزرے تھے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں انکشاف کیا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے جی-20 کانفرنس کے دوران ان سے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ثالثی کی درخواست کی تھی، ٹرمپ نے اس حوالے سے من وعن وہ مکالمے بھی دہرائے جو مودی اور ان کے درمیان بولے گئے تھے، لیکن فورا ہی بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے اس بات کی سختی سے تردید بھی آگئی اور امریکہ سے احتجاج بھی شروع کردیا گیا۔

جس کے بعد امریکی دفتر خارجہ کی جنب سے وضاحت جاری کی گئی کہ ” امریکہ اس بات کو سمجھتا ہے کہ مسئلہ کشمیرصرف پاک بھارت مسئلہ ہے جسے حل بھی ان دونوں نے ہی کرنا ہے اس میں کسی تیسرے فریق کی گنجائش نہیں” صرف یہی نہیں ایک امریکی کانگریس رکن نے تو امریکہ میں بھارتی سفیر سے ٹرمپ کے الفاظ پر معافی بھی مانگ لی ہے۔

 

اس تناظر میں دیکھا جائے تو پاک امریکہ سربراہان کی ملاقات اور اس میں مسئلہ کشمیر سے مسئلہ افغانستان تک کی بات پھر درمیان میں ہی رہ جاتی ہے کیونکہ مسئلہ کشمیر پر بات ٹرمپ نے شروع کی اور ثالثی کی ازخود پیشکش بھی کی جس پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اگر امریکی صدر اس کام کا بیڑہ اٹھاتے ہیں تو پوری پاکستانی قوم ان کے ساتھ ہوگی، اور ٹھیک اسی موقع پر افغانستان میں امن کے قیام اور طالبان سے مذاکرات کامیاب کرانے کی بات ہوئی جس پر وزیراعظم نے اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔

 

گویا یہ "کچھ لو اور کچھ دو” کی پالیسی تھی جس پر دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا، اب صورتحال اس نہج پر آچکی ہے کہ دنیا کے طاقتور ترین صدر کو یا تو اپنے الفاظ کی پاسداری کرتے ہوئے بھارت کو مجبور کرنا ہوگا کہ وہ مسئلہ کشمیر پر ثالثی قبول کرے اور نریندر مودی کو پابند کرن ہوگا کہ وہ اپنے اُن االفاظ کی وضاحت کریں جو انھوں نے جی-20 اجلاس کے بعد ٹرمپ سے کہے تھے، اصولی طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کو اب براہ راست مودی سے پوچھنا چاہیئے کہ وہ الفاظ اُس وقت کیوں ادا کیئےتھے اور اب ان سے مُکر کیوں رہے ہیں۔۔؟؟

لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکہ کا طرہ امتیاز رہا ہے کہ وہ طاقتور کے ساتھ ہمیشہ نرمی سے پیش آتا رہا ہے اور اس کی آنکھیں دکھانے کا کام صرف کمزور اور چھوٹے ممالک کیلئے ہی ہے، ایسے میں بھارت جیسی بڑی مارکیٹ کو کس طرح نظراندز کیا جاسکتا ہے یہ سوال امریکی تھنک ٹینک بلکہ خاص طور پر امریکی صدر کیلئے پریشان کُن ہوسکتا ہے کیونکہ اگر امریکہ کو افغانستان کے مسئلے سے نمٹنے کیلئے پاکستان کی مدد چاہیئے تو انھیں مسئلہ کشمیر پر اپنے الفاظ کی پاسداری کرنا ہوگی ورنہ شاید پاکستان افغان حل میں اس طرح مدد نہ کرسکے جیسا امریکہ چاہتا ہے۔

 

بھارت کے طرزِ عمل کو بھی دنیا خاص کر امریکہ کو سمجھنا ہوگا کہ  فقط یہ کہہ دینے سے بات ختم نہیں کی جاسکتی کے مسئلہ کشمیر صرف پاکستان اور بھارت کا آپسی مسئلہ ہے، کیونکہ کشمیر کے معاملے پر اقوام متحدہ کی قرارداد کو 70 برس گزر چکے اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت آج تک نہیں دیا جاسکا  بھارت لاکھوں فوج کے ذریعے دہشت گردی کرتے ہوئے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دبانے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہے اور اب تک لاکھوں بے گناہ کشمیریوں کو شہید کیا جاچکا ہے۔

یہ سوال بدستور برقرار رہے گا کہ "کیا مسئلہ کشمیر فقط دو ممالک کا ہی مسئلہ ہے۔۔؟؟”  یقینا نہیں کیونکہ کشمیر کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے اوراقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں یہ مسئلہ ہمیشہ سے عالمی اور انسانی حقوق کا مسئلہ رہا ہے لیکن سے کبھی عالمی حمایت یا حیثیت نہیں دی جاسکی اب جبکہ بات کُھل ہی چکی ہے تو اسے اتنی آسانی سے اسے فراموش نہیں کیا جاسکتا، مبصرین کے مطبق ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ہی الفاظ کے جال میں پھنس چکے ہیں اگر انھیں افغانستان کے مسئلے سے فوری طور پر نمٹنا ہے تو انھیں اپنے تھنک ٹینک کو یہ بآور کرانا ہوگا کہ کشمیرکے کے مسئلے پر پاکستان اور خود کشمیریوں کے اصولی مؤقف کی تائید کیئے بغیر گزارا نہیں ہوسکتا، اور اگر وہ اس میں ناکام رہے تو مسائل خود ان کیلئے ہی بڑھنے ہیں۔

 

 

Share This Article

تازه ترین