سپریم کورٹ نے وڈیو اسکینڈل کیس کی سماعت میں کہا ہے کہ اٹارنی جنرل نےایک آپشن ایف آئی اے، دوسرا نیب قانون کا دیا، تیسرا آپشن تعزیرات پاکستان اور چوتھا پیمراقانون کادیاہے، پانچواں آپشن حکومتی کمیشن اور چھٹا جوڈیشل کمیشن کا ہے،چیف جسٹس نے کہا ایک آپشن یہ بھی ہےتمام درخواستیں خارج کردیں، آخری اپشن یہ ہےکہ عدالت خود فیصلہ کرے،کیونکہ کسی کے کہنے پر اندھیرےمیں چھلانگ نہیں لگائیں گے،جج ارشدملک کے معاملے کونظراندازنہیں کریں گے اور جج کے ضابطے پر تو خود فیصلہ کریں۔
سپریم کورٹ میں جج بلیک میلنگ اسکینڈل کی سماعت چیف جسٹس آصف سعیدکھوسہ کی سربراہی میں3 رکنی بینچ نےکی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تجویز دیں عدالت کو اس موقع پر کیا کرنا چاہیے، جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا درخواستوں میں جوڈیشل کمیشن بنانے کی استدعاکی گئی ہے، ایک استدعاجج ارشد ملک کے خلاف کارروائی کی بھی ہے۔ تمام حقائق عدالت کے سامنے آچکے ہیں، جج ارشدملک بیان حلفی بھی جمع کراچکےہیں اور ایف آئی اے کو شکایت بھی جمع کرا رکھی ہے، الیکٹرانک کرائم ایکٹ کے تحت شکایت درج کرائی گئی ہے۔
اٹارنی جنرل نے بتایا ایف آئی اے سائبر کرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرچکی، ایکٹ کے تحت 3سال قید 10لاکھ جرمانہ ہوسکتاہے، فحش ویڈیو یا تصویر بنا کر بلیک میلنگ پر 5سال قیداورجرمانہ ہے، دفعہ13 کے تحت جعل سازی پر3 سال سزا اور ڈھائی لاکھ جرمانہ ہے۔ اتارنی جنرل کے مطبق ایف آئی آرکے بعد ملزم طارق محمود کوگرفتار کیاگیا ہے اور 2 مرتبہ ریمانڈ لے کر ملزم کو جیل بھیج چکی ہے، میاں طارق محمود سے لینڈ کروزر برآمد ہوئی ہے، اس نے لینڈ کروزر ان سے لی جنھیں جج کی ویڈیو دی تھی، اسے چیک دیاگیا جو کیش نہیں ہوسکا، میاں طارق کے پاس جج ارشد ملک کی کافی ویڈیوز موجود ہیں، میاں سلیم رضا نامی شخص کومیاں طارق نے ویڈیوز فروخت کیں، سلیم رضا نے ویڈیوز ناصر بٹ کو بھی فراہم کیں، ناصر بٹ پاکستان سے باہر جاچکا ہے تحقیقات جاری ہیں، ایف آئی اے ملزمان تک پہنچ رہی ہے، یوایس بی میں موجود ویڈیوز حاصل کرلی گئی ہیں، میاں طارق سے برآمد ویڈیو بلیک میلنگ کیلئے استعمال ہوئی۔
چیف جسٹس نے کہا ویڈیو سے جج کے مؤقف کا ایک حصہ درست ثابت ہوگیا، ویڈیوز میں ایسا کیا ہے ہم نہیں جانتے، ایک ویڈیوکی تصدیق کرائی گئی ہے، جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا پاکستان میں کوئی لیبارٹری ویڈیوکی فرانزک نہیں کرسکتی، ایف آئی اے نے اپنے طور پر فرانزک ضرور کیا ہے، آئی ایس او کی تصدیق شدہ لیبارٹری پاکستان میں نہیں۔ اٹارنی جنرل نے بتایا 2000سے 2003کے درمیان ویڈیوزبنائی گئی ہیں، اصل ویڈیوکیسٹ میں تھی ریکوری یوایس بی سے ہوئی ، میاں طارق کی نشاندہی پر بیڈ کی ٹیبل سے ویڈیو برآمد ہوئی
اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا جج نے ایسی حرکت کی تھی تب ہی وہ بلیک میل ہوا، اٹارنی جنرل کا کہنا تھا بطور جج ارشد ملک کو ایسا نہیں کرناچاہیے تھا۔ چیف جسٹس نے مزید کہا جج کے ضابطہ اخلاق کا خود جائزہ لیں گے، کیا جج کا سزا دینے کے بعد مجرم کےگھر جانا درست ہے، کیا مجرم کے رشتے داروں، دوستوں سےگھر، حرم میں ملنا درست ہے، فکرنہ کریں جج کے ضابطے پر خود فیصلہ کریں گے۔ چیف جسٹس نےکہا ایک ویڈیو وہ بھی ہےجو پریس کانفرنس میں دکھائی گئی جج کےمطابق نوازشریف سےملاقات اپریل میں ہوئی، نوازشریف نےاپیل کب دائرکی تھی، نوازشریف کی اپیل بروقت دائر ہوئی تھی توجج نےاپریل میں اس کاجائزہ کیسےلیا، دیکھناہوگاجج نے اپنا مؤقف ایمانداری سے دیا یا نہیں۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آڈیواورویڈیوکی ریکارڈنگ الگ الگ کی گئی تھی، پریس کانفرنس میں آڈیواورویڈیوکوجوڑکردکھایاگیا، آڈیو ویڈیو مکس کرنے کا مطلب ہے اصل موادنہیں دکھایاگیا، جس پر اے جی نے بتایا پریس کانفرنس والی اصل ویڈیو کوریکورکرنےکی کوشش کررہے ہیں۔ جسٹس عمرعطابندیال نے اس موقع پرریمارکس میں کہا بیان حلفی کے مطابق جج پر ویڈیو پیغام کیلئے دباؤ ڈالا گیا، عدالت نےتمام الزامات کی سچائی کاجائزہ لیناہے، جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ ناصربٹ اپیل میں شائدنئےنکات شامل کراناچاہتاتھا، بیان حلفی میں نہیں کہا گیا کہ اپیل دائرنہیں ہوئی۔
عدالت نے کہا کوئی کمیشن یا پیمرا احتساب عدالت کا فیصلہ نہیں ختم کرسکتا، شواہد کا جائزہ لے کر ہائی کورٹ ہی نواز شریف کو ریلیف دے سکتی ہے، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کمیشن صرف رائے دے سکتا ہے فیصلہ نہیں، ہائی کورٹ شواہد کا جائزہ لے کر خود بھی فیصلہ کرسکتی ہے، سپریم کورٹ کی مداخلت کافائدہ ہوگا یا صرف خبریں بنیں گی۔ جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا اسکینڈل کی تحقیقات ضرور ہونی چاہئیں جبکہ جسٹس عظمت سعیدشیخ کا کہنا تھا تمام کارروائی متعلقہ فورم پرہو نی چاہیے، کسی فریق کو اعتراض ہو تو ہائی کورٹ سے رجوع کر سکتا ہے، چیف جسٹس نے اس موقع پر ایف آئی اے کو جج بلیک میلنگ کیس کی رپورٹ تین ہفتے میں تیار کرنے کاحکم دیتے ہوئے سماعت3ہفتے کیلئے ملتوی کردی۔